انڈونیشیا پولیس نے مذہبی رہنما کو فحاشی کے الزام میں نامزد کردیا

انڈونیشیا پولیس نے مذہبی رہنما کو فحاشی کے الزام میں نامزد کردیا
انڈونیشیا پولیس نے مذہبی رہنما کو فحاشی کے الزام میں نامزد کردیا

  

جکارتہ(این این آئی)انڈونیشیا میں پولیس نے ایک متنازع مبلغ اور مذہبی رہنما کو فحاشی کے الزام میں مرکزی ملزم نامزد کر دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق رزیق شہاب پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک عورت سے گفتگو کے دوران عریاں تصاویر اور فحش پیغامات کا تبادلہ کیا تھا۔ اس وقت سعودی عرب میں موجود رزیق شہاب نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

’لوگ سمجھتے ہیں میری عمر40 سال ہے لیکن دراصل میں 70 برس کی ہوں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پچھلے 28 برس کے دوران میں نے یہ چیز ایک دفعہ بھی نہ کھائی‘ 70 سالہ خاتون نے جوانی کا راز بتادیا، پاکستانیوں کی پسندیدہ چیز کھانے سے منع کردیا,خبر پڑھنے کیلئے کلک کریں

رزیق شہاب انڈونیشیا میں اسلامک ڈیفینڈرز فرنٹ پارٹی (ایف پی آئی) کے سربراہ ہیں،رزیق شہاب اپنی دھواں دھار تقاریر کے لیے مشہور ہیں اور ماضی میں دو دفعہ ان کو تشدد اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے الزام میں جیل ہو چکی ہے۔حالیہ مقدمے میں رزیق شہاب پر الزام ہے کہ انھوں نے انڈونیشیا میں فحاشی پر پابندی کے لیے بنائے گئے سخت قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور فرزا حسین نامی ایک سماجی کارکن کے ساتھ فحش مواد کا تبادلہ کیا ہے۔اس کیس میں فرزا حسین کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

دونوں کے درمیان بھیجے گئے پیغامات کے سکرین شاٹس اس سال کے آغاز سے انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔پولیس نے رزیق شہاب کو اپریل سے تفتیش کی غرض سے طلب کیا لیکن وہ ابھی تک پولیس کے سامنے پیش نہیں ہوئے ہیں اور اپنے خاندان والوں کے ساتھ اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں۔ایف پی آئی کے ترجمان نے خبر رساں ادارے بتایا کہ رزیق شہاب پر لگائے جانے والے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -