رمضان المبارک میں اگرآپ گھر آئے مہمانوں سے اکتا جاتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے

رمضان المبارک میں اگرآپ گھر آئے مہمانوں سے اکتا جاتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے ...
رمضان المبارک میں اگرآپ گھر آئے مہمانوں سے اکتا جاتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )دنیا میں ایسے لوگ اکثریت میں موجود ہیں جو بہت سی مخفی بلاؤں سے بچنے کے لئے جھاڑ پھونک کراتے ہیں ،صدقات دیتے ،تعویذات سے کام چلاتے ہوئے بہت سے وہموں کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن اسلام نے انسان کو ہر طرح کے اوہام سے نکالنے اور اسکا غیر مرئی مخلوقات سے تحفظ کرنے کے لئے اعلٰی اخلاق اور برتاؤ کو نافع و شافع اور دافع بلیات بنادیا ہے۔اسلام میں مہمان نوازی ایک ایسا مستحسن فعل اور معمول ہے جس میں اللہ کریم جہاں انسانوں میں محبت کا فطری جذبہ پروان چڑھاتا ہے وہاں ہر ایسا انسان جو اللہ کی رضا سے مہمان نوازی کرتا ہے یا گھر آئے مہمان سے اکتانے کی بجائے سحری و افطاری میں شریک کرلے وہ اور اسکے اہل خانہ و گھر بار کئی بلاؤں محفوط رہتے ہیں ۔ اس حوالے سے مروی ہے کہ ایک عورت رسول ﷺکے پاس آئی اور اپنے شوہر کی شکایت کی کہ وہ بہت زیادہ اپنے دوستوں کو گھر دعوت دیتا رہتا ہے اور وہ تھک جاتی ہے کھانے بنا بنا کے اور ان کی مہمانداری میں ۔ رسول ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ عورت واپس چلی گئی۔ کچھ دیر بعد رسول ﷺ نے اس عورت کے شوہر کو بلوایا اور فرمایا ’’ آج میں تمہارا مہمان ہوں۔‘‘وہ آدمی بہت خوش ہوا اور گھر جا کے اپنی بیوی کو بتایا کہ رسول کریم ﷺ آج ہمارے مہمان ہیں ، اس کی بیوی بیحد خوش ہو گئی اور وقت لگا کر محنت سے ہر اچھی چیز تیار کرنے لگ گئی۔ اس زبردست پُر تکلف دعوت کے بعد رسول خداﷺ نے اس شخص سے کہا ’’اپنی بیوی سے کہنا کہ اس دروازے کو دیکھتی رہے جس سے میں جاوں گا ‘‘۔ تو اس کی بیوی نے ایسا ہی کیا اور دیکھتی رہی کہ کس طرح رسول خداﷺ کے گھر سے نکلتے ہی آپﷺ کے پیچھے بہت سے حشرات ، بچھو اور بہت سے مہلک حشرات بھی گھر سے باہر نکل گئے اور یہ عجیب و غریب منظر دیکھ کر وہ دنگ رہ گئی ۔ جب وہ دوبارہ رسول خداﷺ کے پاس آئی تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ یہ ہوتا ہے جب تمہارے گھر سے مہمان جاتا ہے ، تو اپنے ساتھ ہر طرح کے خطرات ، مشکلات اور آزمائشیں اور مہلک جاندار گھر سے باہر لے جاتا ہے ، اور یہ اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ جو تم محنت کر کے اس کی خدمت مدارت کرتی ہو۔‘‘

رسول خداﷺ نے فرمایا ’’جب اللہ کسی کا بھلا چاہتے ہیں تو ، اسے نوازتے ہیں , انہوں نے پوچھا ’’ کس انعام سے ؟ اے اللہ کے رسول ﷺ ؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ مہمان اپنا نصیب لے کر آتا ہے ، اور جاتے ہوئے گھر والوں کے گناہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔‘‘

مزید :

Ramadan News -