A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 71

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 71

مئی 30, 2017 | 13:53:PM

شاہد نذیر چودھری

پیر صاحب کے معمولات دیکھتا ہوں تو اس دورمیں آپ کی مشقت دیکھ کر آنکھیں بھر آتی ہیں۔ آپ راتوں کو فیکٹری میں کام کرتے اور صبح مساجد و تنظیم کے معاملات دیکھتے۔ پھر اپنے گھرمیں بچوں کو قرآن پڑھاتے اور شام ہوتے ہی دوبارہ اپنی جاب پر چلے جاتے۔ ولایت میں رہنے والوں کے یہ معمولات انہونے ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی شراب اور گوری حسیناؤں کے گرد گھومتی تھی۔ ان میں ایسے بھی تھے جو جب یہاں پہنچے تھے تو باشرع تھے مگر رسم و رواج اور تہذیب کی گندگی نے ان کا ظاہر و باطن سیاہ کر دیا تھا۔ وہ مادی آسودگی اور تفریح کو ہی زندگی کا حاصل سمجھتے تھے۔ ایسے گمراہ مسلمانوں کے بیچ پیر صاحب نے دین کا چراغ روشن کر دیا تھا اور اس کی دھیمی دھیمی لو ہتھیلیوں کے دئیے میں لئے گلی گلی پھرا کرتے اور مسلمانوں سے کہتے کہ ’’تم بھی بچ جاؤ اور اپنی نسل کو بھی بچا لو۔‘‘

اصلاح و تبلیغ کے اس سفر میں آپ نے بہت مصائب سہے۔ آپ جواں سال تھے مگر تفکر اور مشقت اور بے آرامی سے آپ کا چہرہ تھکن سے بوڑھا ہو گیا تھا مگر آپ کے پایہ استقلال میں ذرا بھی لغزش پیدا نہیں ہوئی۔

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 70 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ان نامساعد حالات میں آپ نے تفرقہ بازی کو رد کیا۔ آپ کی مجلس اور روابط میں ہر مسلک و نظریہ کے لوگ شامل ہوتے رہے۔ سلسلہ قادریہ، سلسلہ نقشبندیہ، سلسلہ چشتیہ، دیو بندی، وہابی، اہل تشیع بھی آہستہ آہستہ آپ کے ساتھ روابط کرنے لگے کیونکہ آپ نے مسالک کی بجائے شریعت کی تبلیغ کو مدنظر رکھا۔

پیر صاحب ہمارے گھرمیں مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں آئے تھے۔ ان دنوں آپ مسلمانوں سے چندہ لیتے تھے،میں آپ کے ساتھ چندہ لینے جاتا تھا۔ اس دوران بہت سے مسلمان آپ کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے اور کہتے۔ ’’ولایت میں آ کر بھی تم لوگ چندے مانگنا نہیں چھوڑتے‘‘۔ اس سے بھی زیادہ بدگمانی اور بدکلامی سے لوگ پیش آتے مگر پیر صاحب کی جبیں پر ایک بھی سلوٹ پیدا نہ ہوتی۔ آپ انہیں دعا دیتے۔ آپ نہایت صبر کا مظاہرہ کرتے۔

جن دنوں مسجد کی تعمیر کا کام جاری تھا۔ لیمب لین کے پاس ہی انور خاں نامی ایک مسلمان کی دکان تھی۔ اس نے پیر صاحب کی بہت زیادہ توہین کی۔ ہم اس پر تلملا گئے تھے مگر پیر صاحب نے ہمیں سمجھا دیا ’’دیکھو یہ دین کا کام ہے لوگ آسانی سے ہماری بات نہیں سمجھیں گے۔ ہمیں کسی سے لڑنا نہیں ہے لہٰذا اپنے جذبات قابو میں رکھا کریں۔‘‘

پیر صاحب کی بردباری نے آپ کے نصب العین کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عرب ممالک میں نیشنل ازم کی وباء پھیل چکی تھی اور اسلام کے شعائر ختم ہوتے جا رہے تھے۔ مسلمان علماء نے بھی داڑھیاں منڈھوا دی تھیں۔ یورپ میں مسلمانوں کی شناخت اور تشخص بہت بڑے خطرے سے دوچار تھا۔ پیر صاحب نے نیشنل ازم کی بجائے اسلام ازم کا پرچار شروع کیا تھا اور یہی وجہ آپ سے اختلاف کرنے والوں کو پریشان کرتی تھی۔

ایک بار محفل ہو رہی تھی۔ ایک معروف سماجی شخصیت اٹھ کھڑی ہوئی اور پیر صاحب سے ناراض ہو کرکہنے لگی ’’آپ کس اسلام کی بات کرتے ہیں ،بتائیں سنی، شیعہ،وہابی میں سے کس کے اسلام کو قبول کروں۔ آپ برطانیہ میں آکر مذہبی اجتماعات میں تبلیغ کرنا چھوڑ دیں۔ یہاں سب یورپین ہیں۔ کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا کیونکہ مسلمانوں میں نظریاتی تفرقہ بہت ہے اور اس سے بہتر ہے کہ بندہ مسلمان نہ کہلائے۔‘‘

پیر صاحب نے نہایت بردباری سے اس کا اعتراض سنا پھر فرمایا’’آپ مجھے بتائیں کیا سنی، شیعہ، وہابی میں سے کوئی کہتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘اگرچہ مسالک میں چند اختلافات موجود ہیں لیکن کوئی بھی مسلمانیت سے تو انکاری نہیں ہے۔ لہٰذا آپ کسی بھی قسم کے نظریات رکھتے ہوں بہرحال ہیں تو مسلمان۔۔۔‘‘

پیر صاحب نرمی سے دلائل دیکر دوسروں کو لاجواب کر دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب آپ حج کی سعادت حاصل کرنے مکہ شریف تشریف لے گئے تو آپ کے قافلہ میں دوسرے مسالک کے لوگ بھی شامل تھے۔ انہوں نے خانہ کعبہ میں پہنچ کر پیر صاحب کے خلاف محاذ کھول دیا اور انتظامیہ کو خبردار کر دیا کہ ان صاحبان کے عقائد درست نہیں ہیں۔ لہٰذا انہیں مناسک سے روک دیا جائے۔ خانہ کعبہ کی انتظامیہ پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی۔ آپ نے ان کی باتیں سنیں اور فرمایا ’’ہم اہل سنت ہیں اور ہمارے کچھ نظریات دوسروں سے مختلف ہیں۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے نظریات کیا ہیں تو آپ دلیل سے بات کریں اور دلیل سے بات سنیں۔‘‘ انہوں نے پیر صاحب کے ساتھ بحث کی اور پھر جب پیر صاحب نے انہیں قرآن و سنہ کی روشنی میں اپنے عقائد سے آگاہ کیا تو معترضین کے منہ بند ہوگئے۔

پیر صاحب بعض زعما و علماء حضرات کے فتنوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ایسے حضرات کی بدولت اسلام کا تشخص خراب ہوتا رہا ہے۔ لہٰذا پیر صاحب نے جمعیت کے پلیٹ فارم پر عالم اسلام کے جید علماء وفقہا کو اکٹھا کیا اور بریڈ فورڈ میں طریقت کی ظاہری صورت شریعت کے احکامات اور اپنی تہذیب و شعائر کے تحفظ کے لئے جدوجہد تیز کر دی۔(جاری ہے )

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 72 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں