تقوی ٰاور روزہ کیا کہتا ہے

تقوی ٰاور روزہ کیا کہتا ہے
تقوی ٰاور روزہ کیا کہتا ہے

  



حفرت عمر فاروق رضی اللہ تعالے عنہ سے کسی نے  تقویٰ  کے بارے میں پوچھا   کہ تقویٰ   کیا ہے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالے عنہ نے جواب دیا آپ کا گزر کبھی خاردار جھاڑیوں سے ہوا  آپ وہاں سے کیسے گزرتے ہیں تو جواب دیا کہ اپنے دامن  اور کپڑے کو سمیٹ کر اس ڈر سے کہ کہیں  کانٹے  اور خاردار جھاڑیوں سے کپڑوں اور جسم کو نقصان نہ پہنچے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالے عنہ نے فرمایا کہ تقوی یہی ہے کہ مومن   ہر وقت  دنیا میں گناہوں و برائیوں سے اپنے آپ کو بچانے میں لگا رہتا ہے ۔  تقويٰ سے مراد جان ونفس کو ہر اس چیز سے بچانا ہے جس سے ایمان  کو   نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔تقوی دل کی ایسی کیفیت کا نام ہے جس کے بعد انسان خود بخود ہر قسم کی برائیوں اور لغویات  سے گرہیز  کرتا ہے ۔ یہ ایمان والوں   کا  ایسا  ہتھیار ہے جو اسے برے خیالات و خواہشات، خطرناک  روحانی امراض اور شیطانی جذبات کے حملوں سے محفوظ و مامون رکھتا ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی غرض و غایت اور مقصد تقویٰ کو قرار دیا ہے ایک مسلمان روزہ کی وجہ سے برائیوں کو ترک کر دیتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔روزہ صرف بھوکا  پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس کے ساتھ  ساتھ  اپنی روح کو بھی اللہ رب العزت کےآگے طابع فرمان کرنا ہے۔ ماہ رمضان مبارک کے دن  اور رات دونوں اوقات (دن و رات)  میں اللہ رب العزت  کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہو تیں ہیں۔  روزہ داروں کے لیے جنت کا ایک دروازہ ”ریان“ مخصوص ہے، جس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل ہو ں گے ‘اُن کے علاوہ کوئی اور اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا۔

روزے  دار کے لئے جائز امور:

خوشبو لگانا۔ سرمہ لگانا۔ مسواک کرنا۔ آکسیجن لگانا۔ انسولین لگانا۔ احتلام ہونا۔ نکسیر کا پھوٹنا۔ تھوک و بلغم کا نگلنا۔  آنکھ ، کان و ناک میں دواء ڈالنا۔ تیل اور گنکھی کرنا۔گرمی کے باعث غسل کرنا۔ رفع درد کے  لئے ٹیکا لگانا۔ بھولے سے کچھ کھا پی لینا۔ ضبط نفس کے  ساتھ  زوجہ کا بوسہ لینا۔ دانت نکلوانا اور خون کا جاری ہونا۔ منہ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے پانی ڈالنا۔ مبالغے کے بغیر کلی کرنا۔ ناک میں پانی ڈالنا ۔منہ میں اچانک مکھی یا مچھر کا چلے جانا۔ ہنڈیا کا ذائقہ چکھنا اور بعد میں تھوک دینا،۔جسم میں درد اور تکلیف کے لئے انجیکشن لگوانا۔  تیراکی یا حوض میں نہانا کہ پانی  منہ سے  حلق میں نہ جائے۔ حالت جنابت میں سحری کرنا اور فجر سے پہلے نہا لینا۔ مہندی لگانا۔ دانتوں کی صفائی کے لئے  پیسٹ و منجن کا استعمال کرنا کہ یہ حلق سے نیچے نہ جائے۔ دمہ کے مریض کے لئے ان ہیلر کا استعمال کرنا۔

روزے  دار کے لئے ناجائز (حرام)  امور:

جھوٹ بولنا۔ غیبت کرنا۔ لڑائی جھگڑا کرنا۔ بےہودہ،  لغو اور بے حیائی کی گفتگو اور کام کرنا۔ پانی ناک اور منہ ڈال کر حلق میں لے جانا۔ روزہ میں وصال کرنا(سحری و افطاری نہ کھانا)۔

روز توڑنے والے امور:

جان بوجھ کر کچھ کھا یا پی لینا۔ہم بستری کرنا۔ جان بوجھ کر قے کرنا۔ طاقت کا انجیکشن لگوانا۔استماء کرنا(قصداً مادہ منویہ کا خارج کرنا)۔سگریٹ نوشی یا ڈرگ کا استعمال کرنا۔  

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ