روزہ دار جب لسّی پیتا ہے

روزہ دار جب لسّی پیتا ہے
روزہ دار جب لسّی پیتا ہے

  

امسال رمضان المبارک کا مہینہ جون کی شدید گرمی میں آیا ہے اور روزہ کا دورانیہ پندرہ گھنٹے سے زیادہ ہے۔ اس لئے رمضان المبارک میں صحت کے حوالے سے خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ ایسی غذا سحری و افطاری میں لیں جس سے رمضان المبارک کے روزوں کے صحت پر کوئی مضر صحت اثرات نہ ہوں۔ بلکہ دینی پہلو کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کے لیے مفید ہوں۔ اس موسم میں روزہ کے لیے سحری میں لحمیات، نشاستہ دار اور ریشہ (فائبر) سے بھرپور غذا لیں تاکہ ان کا کافی حصہ بھوک کا احساس نہ ہو۔ اگر شوربہ والا سالن ہوتو بہت مناسب ہوگا۔ البتہ تیل اور مصالحہ کم سے کم ہو تاکہ پیاس میں شدت نہ ہو۔ ریشہ کے حصول کے لیے غذا میں سبزیاں اور پھل زیادہ رکھیں۔ ایسے بھی ان کے ہضم کا عمل آہستہ آہستہ ہوتا ہے اور کافی وقت تک بھوک سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ پھر ان کے ذریعے جسم کو پانی بھی ملتا رہتا ہے۔

سحری میں وقت سے بہت پہلے بیدار ہوں تاکہ کھانا اطمینان اور آرام سے کھایا جائے۔ پھر ایک کے اوپر ایک چیز جلد سے نہیں کھانی چاہئے۔ سخت گرمی کے باعث جسم کو پانی کی بہت ضرورتی ہوتی ہے اس لئے پانی بھی پوری مقدار میں پئیں۔ لیکن ایک ساتھ نہ پئیں بلکہ تھوڑا تھوڑا کرکے پئیں ۔چونکہ آج کل موسم گرما میں روزے ہیں اور اس موسم میں جسم سے نمکیات بذریعہ پسینہ فارغ ہو جاتے ہیں بلکہ ان کی کمی بھی ہو سکتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ سحری میں ایک دو لیٹر لسّی جسے ہمارے ہاں دہی کی لسّی بھی کہتے ہیں جس میں سے مکھن نکال لیا جاتا ہے، میں نمک ملا کرسحری میں پیا جائے۔ اس طرح جسم میں نمکیات کی کمی بھی نہیں ہوگی بلکہ نمکیات پورے ہوتے رہیں گے اور جسم کی ضرورت کا پانی بھی پورا ہو جائے گا۔دہی کی لسی بناکر پینے سے معدے کی تیزابیت دور ہوتی ہے السر کے مریضوں کے لیے نہایت مفید ہے۔اسی طرح سے ٹائفائڈ کے مریضوں کے لسی کا پینا انتہائی مفید ہے۔لسی بہترین جراثیم کش ہے پیٹ میں جاتے ہی امرض پیدا کرنے والے جراثیم کو مغلوب کرلیتی ہے۔لسی میں کیلشیم،میگنیشیم،پروٹین،نمکیات ،فاسورس،سلفر،سوڈیم وغیرہ اجزاء وافر مقدار میں ہوتے ہیں جو گوشت اور ہڈیوں کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔دہی کے مقابلہ لسی زود ہضم ہے اور معاون ہضم ہے جس کی غذا جلد ہضم ہوجاتی ہے۔انتڑیوں میں دوران خون کو تیز کرتی ہے۔اور انتڑیاں غلیظ و فاسد مادوں سے صاف ہوجاتی ہیں۔ جدید ریسرچ کے مطابق جو حضرات پیٹ کے مختلف عوارض میں مبتلا ہیں،یا آنتوں کاانفیکشن ہے ان کے لیے تازہ دہی کی لسی نعمت غیر مترقبہ ہے،جیسا کہ اوپر مذکور ہوا انسانی معدے اور آنتوں میں جو جراثیم پیدا ہوتے ہیں جن کی وجہ سے آنتوں کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں،ایسے جرثیم کے لیے دہی جراثیم کش دوا کے دور پر استعمال کی جاسکتی ہے۔تازہ دہی کی لسی مقوی دماغ ہے دماغ کی خشکی دور کرتی ہے،اور دماغی کام کرنے والوں کو از سر نو کام کرنے لیے انرجی پیدا کرتی ہے تکان دور کرتی ہے،اعصابی کمزوری دور کرتی ہے،نگاہ کو طاقت پہنچاتی ہے،بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتی اور سر کی خشکی دور کرتی ہے اور قبل از وقت بالوں کو سفید ہونے سے روکتی ہے ۔گرمی کے موسم میں لسی جگر معدہ اور فساد خون کے مختلف عوارض میں مفید ہے ۔

(ادارہ ہمدرد سے وابستہ حکیم راحت نسیم سوھدروی قومی طبی کونسل کے رکن بھی ہیں۔عرصہ دراز سے قومی اخبارات و جرائد میں انکے طبی مضامین شائع ہورہے ہیں۔کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔مستند معالج اور محقق ہیں،حکیم محمد سعید کے معاون کی حیثیت سے انکے ہمراہ مطب کرتے رہے ہیں ۔ا ن سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ hknasem@gmail.com)

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -