واٹس ایپ کے ذریعے مبینہ طورپر جے آئی ٹی کیلئے مختلف اداروں کے سربراہان سے ناموں کیلئے رابطے کا انکشاف

واٹس ایپ کے ذریعے مبینہ طورپر جے آئی ٹی کیلئے مختلف اداروں کے سربراہان سے ...
واٹس ایپ کے ذریعے مبینہ طورپر جے آئی ٹی کیلئے مختلف اداروں کے سربراہان سے ناموں کیلئے رابطے کا انکشاف

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) واٹس ایپ کے ذریعے مبینہ طورپر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹریز اینڈ یکسچینج کمیشن آف پاکستان کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا اور  کہاکہ پانامہ کیس میں جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے سپریم کورٹ کی سپیشل بینچ کو پیش کرنے کیلئے مخصوص نام پینل میں شامل کریں، کال کرنے والے نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو عامر عزیز کا نام دیا اور بلال رسول کا نام ایس ای سی پی کو دیا کہ ان کے نام ان کے اداروں کی جانب سے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پانامہ کیس پر جے آئی ٹی کیلئے افسران کے متعلقہ پینل میں دیئے جائیں ۔ ایک ذریعے کے مطابق کال کرنے والے نیب سے عرفان نعیم منگی کا نام بھی مانگا تھا لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی یہ تصدیق ہوسکی کہ واقعی سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے کال کی تھی یا ان کا محض نام استعمال کیاگیا۔

مزید خبریں :تحریک انصاف غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات پیش کرنے میں پھر ناکام ، سماعت کل پھر ہو گی

روزنامہ جنگ کے مطابق  یہ واٹس ایپ کالز اس وقت کی گئیں جب سپریم کورٹ نے افسران کے ابتدائی پینل میں نامزدگیوں سے مطمئن نہ ہونے کے بعد ان اداروں سے دو اضافی نام طلب کیے۔ اس نمائندے نے پیر کے روز رجسٹرار سپریم کورٹ سے رجوع کیا لیکن مسلسل کالز کے باوجود ان سے بات نہ ہو سکی کہ اس بات کا تعین ہوتا کہ آیا انہوں نے ہی کال کی تھی یا کسی اور نے ان کے نام کا غلط استعمال کیا۔ ان کے موبائل نمبر پر ایک ایس ایم ایس بھی بھیجا گیا تھا لیکن رجسٹرار کی جانب سے اس کا بھی کوئی جواب نہ ملا ۔

ایک ذریعے نے تاہم تصدیق کی ہے کہ اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کی کچھ متعلقہ حکام کی جانب سے سرکاری فائلز میں اس کی عکاسی کی گئی ہے ۔ ابتدائی طورپر پانامہ کیس پر سپریم کورٹ سے فیصلے کے مطابق تمام متعلقہ اداروں بشمول ایف آئی اے، آئی ایس آئی، ایم آئی ، ایس بی پی، ایس ای سی پی اور نیب نے اپنے متعلقہ افسران کے پینل سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی کے قیام کے لیے بھیجے ۔ تاہم فاضل عدالت نے ایس ایس سی پی، ایس بی پی ور نیب سے اضافی نام مانگے۔ اس دوران جب فاضل عدالت کی ہدایات متعلقہ محکموں تک پہنچیں تو ان کے اعلیٰ حکام سے کال کرنے والے نے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا۔ کال کرنے والے نے اپنا تعارفرجسٹرار سپریم کورٹ کے طورپر کرایا اور ایس بی پی سے عامر عزیز اور ایس ای سی پی سے بلال رسول کے نام شامل کرنے کیلئے کہا۔

مزید خبریں :جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران حسین نواز کی طبیعت بگڑ گئی،دوران سوالات شوگر لیول کم ہوگیا

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا کال کرنے والے واقعی رجسٹرار سپریم کورٹ تھے یا کوئی اور اپنے آپ کو رجسٹرار ظاہر کر رہا تھا ۔ نیب نے اپنے نظر ثانی شدہ پینل میں منگی کانام شامل کیا تھا لیکن ایس ای سی پی اور ایس بی پی نے کال کرنے والے کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے نام پیش کیے۔ بعدازاں میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کیلئے ایس ای سی پی اور ایس بی پی کے پیش کردہ ناموں کو مسترد کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فاضل عدالت کی خصوصی بینچ نے اپنی آبزویشن میں کہا تھا کہ وہ ایس بی پی اور ایس ای سی پی کے نامزد حکام کے ناموں کو مسترد کر چکے ہیں کیونکہ وہ عدالت کے مقرر کر دہ معیار پر پورے نہیں اترتے ۔

خصوصی بینچ کے قابل احترام ارکان نے کہا کہ ”ہم جے آئی ٹی میں ایماندار اور پیشہ ور اہلکاروں کو رکن دیکھنا چاہتے ہیں۔ ” جس کے بعد عدالت نے ایس ای سی پی کے چیئرمین اور ایس بی پی کے گورنر کو ہدایت کی تھی کہ وہ دونوں اپنے اداروں میں گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے گریڈز میں کام کرنے والے افسران کے ناموں کی فہرست کے ساتھ آئندہ سماعت پر پیش ہوں۔ اس پیش رفت کے بعد جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی۔

مزید :

اسلام آباد -