”اگر میں عمر اکمل ہوتا تو۔۔۔“ سابق کوچ وقار یونس نے خراب فٹنس کے باعث واپس بھیجے جانے پر ایسی بات کہہ دی کہ جان کر عمر اکمل شرمندہ ہو جائیں گے، حقیقت جان کر آپ بھی ان کی حمایت کریں گے

”اگر میں عمر اکمل ہوتا تو۔۔۔“ سابق کوچ وقار یونس نے خراب فٹنس کے باعث واپس ...
”اگر میں عمر اکمل ہوتا تو۔۔۔“ سابق کوچ وقار یونس نے خراب فٹنس کے باعث واپس بھیجے جانے پر ایسی بات کہہ دی کہ جان کر عمر اکمل شرمندہ ہو جائیں گے، حقیقت جان کر آپ بھی ان کی حمایت کریں گے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ اگر وہ عمر اکمل ہوتے تو خراب فٹنس پر چیمپینز ٹرافی سے باہر نکالے جانے پر شرمندہ ہوتے۔

27 سالہ بلے باز عمر اکمل کو 2 فٹنس ٹیسٹ میں فیل ہونے پر چیمپینز ٹرافی کیلئے برمنگھم میں لگائے گئے ٹریننگ کیمپ سے واپس بھیج دیا گیا اور ان کی جگہ حارث سہیل کو انگلینڈ بھیجا گیا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ ”اگر یہ کام ہو گیا تو دنیا کی کوئی طاقت میچ نہیں کروا سکے گی کیونکہ۔۔۔“ پاک، بھارت ٹاکرے سے متعلق انتہائی تشویشناک رپورٹ منظرعام پر آ گئی، ٹورنامنٹ انتظامیہ کو بڑا دھچکا لگ گیا

غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ ”اگر میں صاف گوئی کا مظاہرہ کروں، تو سارا معاملہ انتہائی تکلیف دہ ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس سے پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی بدنامی ہوئی ہے۔ کچھ غلط ہوا ہے اور اس کا عمر اکمل کو قصور وار ٹھہرانا مشکل ہے، یا پھر سلیکٹرز کو، اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو، جب تک تمام حقائق پتہ نہیں چل جاتے۔“

وقار یونس نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس بات کی تحقیقات کرنی چاہئیں کہ کس طرح ایک ان فٹ کھلاڑی کو سکواڈ میں شامل کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا ”پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو اس معاملے کو حل کرنے کیلئے اس کی گہرائی میں جانے اور یہ پتہ چلانے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیسے ہوا تاکہ مستقبل میں کبھی ایسا نہ ہو۔ جو بھی اس معاملے کا ذمہ دار ہے اسے یہ قبول کرنے کی اور ذمہ داری لینے کی ضرورت ہے۔“

اس موقع پرانہوں نے عمر اکمل کی خراب فٹنس کے معاملے پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ”عمر خود ہی اپنا بدترین دشمن ہے، وہ سخت محنت نہیں کرنا چاہتا، وہ کوشش ہی نہیں کرنا چاہتا، وہ فٹ نہیں ہونا چاہتے اور یہ سب بہت ہی شرمندگی والی بات ہے۔“

انہوں نے کہا کہ ”عمر اکمل کو بہت زیادہ شرمندہ ہونا چاہئے کیونکہ مکی آرتھر اور کوچنگ سٹاف نے انہیں واپس پاکستان بھیج دیا ہے۔عمر اکمل کو خود کو آئینے میں دیکھ کر خود سے یہ کہنا چاہئے کہ مستقبل میں اس مسئلے کا حل نکالوں گا، کیا وہ ایسا کرے گا؟ مجھے نہیں یقین کہ وہ ایسا کرے گا۔ کیونکہ اس کے کیرئیر میں ایسے بہت سے واقعات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیلنٹ چمکا نہیں، اور اس نے خود کیساتھ بھی انصاف نہیں کیا۔“

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ آسٹریلیا کیخلاف میچ میں سرفراز احمد نے ڈیوڈ وارنر کا ایسا شاندار کیچ پکڑا کہ آسٹریلوی کھلاڑی بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکے، ویڈیو منظرعام پر آئی تو پاکستانی شائقین بھی دم بخود رہ گئے

وقار یونس نے مزید کہا کہ ”میرے خیال سے پی سی بی، کوچز اور سلیکٹرز ہمیشہ ہی عمر اکمل پر مہربان رہے ہیں اور اسے مواقع دیتے رہے ہیں کیونکہ ہر کوئی انہیں کامیاب ہوتا اور بین الاقوامی سطح پر کارکردگی دکھاتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔ میرے خیال سے وہ جو کچھ کر رہا ہے اس پر خوش ہے، لیکن اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو شرمندگی ضرور محسوس کرتا۔“

مزید :

کھیل -