قومی اسمبلی میں حکومت کی حلیف جماعتوں نے بھی بجٹ کو عوامی دشمن قرار دیدیا

قومی اسمبلی میں حکومت کی حلیف جماعتوں نے بھی بجٹ کو عوامی دشمن قرار دیدیا
قومی اسمبلی میں حکومت کی حلیف جماعتوں نے بھی بجٹ کو عوامی دشمن قرار دیدیا

  

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی میں حکومت کی حلیف جماعتوں نے بھی بجٹ کو عوامی دشمن قرار دیدیا، حکومتی اراکین اسمبلی بجٹ پر بحث کے دوران بجٹ کے فیگرز اور گزشتہ دور حکومت سے موازنہ کرنے کی بجائے صرف وزیراعظم پاکستان اور اسحاق ڈار کی تعریف کرتے رہے اور اپوزیشن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی تقریر آن ایئر نہ کرنے پر اپوزیشن کے واک آؤٹ پر سخت تنقید بھی کرتے رہے.

بجٹ پر بجث کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن)کے  راؤ اجمل نے کہا کہ جب حکومت اقتدار میں آئی تو لوڈشیڈنگ ہمیں ورثے میں لی، حکومت کی کوششوں سے 2018میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا ، ذراعت کی سبزی کیلئے قرضہ جات کی شرح بڑھائی جائے ، ایک ایکڑ کی قیمت30لاکھ روپے ہے لیکن اس پر صرف,50ہزار  روپے قرضہ ملتا ہے جو کہ انہتائی کم ہے ،زرعی آمدت پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جائے زرعی آبیانہ اور انکم ٹیکس کو بھی کم کیا جائے، زرعی انکم ٹیکس بارانی 100اور دوسرے 500روپے کرایا جائے،تمباکو کی درآمدگی پر پابندی لگائی جائے، خشک دودھ پر50فیصد ٹیکس ڈیوٹی لگائی جائے تاکہ ملک ڈیری کی انڈسٹری کو سپورٹ مل سکے۔ممبر قومی اسمبلی غوث بخش مہر نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شعبوں میں زیادہ بجٹ رکھا گیا ہے اور انڈسٹری کو سپورٹ کیا گیا ہے لیکن بعض کو نظرانداز کر دیا گیا ہے، زمین تباہ ہو رہی ہیں، سندھ کو پانی نہیں دیا جاتا، جب پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو نہریں خالی ہوتی ہیں اور جب پانی کی ضرورت نہیں ہوتی تو ہماری زمین خراب کر دی جاتی ہے، صوبے میں ریسرچ سینٹرز بنانے کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ میں ایک بھی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا، سندھ کو سی پیک کا پورا حصہ دینا چاہئے۔

جے یو آئی (ف) کی ممبر قومی اسمبلی شاہدہ اختر نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ کل سے ایوان کا ماحول بگڑتا جارہا ہے، ایک جماعت ہے جس کو ملک اور قوم کی ترقی برداشت نہیں ہو رہی، حکومت کا یہ پانچواں بجٹ اور اسے بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے، قرضوں سے چھٹکارے کیلئے ہمیں اپنے اخراجات کم کرنے ہونگے، کسانوں کو فوائد دیئے جائیں اور ان ڈائریکٹ ٹیکس کو ختم کرکے ڈائریکٹ ٹیکس لاگو کئے جائیں، بجٹ کے اندر کچھ بھی نظر نہیں آرہا۔ ممبر قومی اسمبلی مہر اشتیاق احمد نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، حکومت نے محنت اور کوشش سے اچھا بجٹ پیش کیا ہے، وزیراعظم نے اپنے دور میں پرفارم کیا ہے اور اسے دنیا مانتی ہے، انگلی اٹھانے والے اداروں پر الزامات لگاتے تھے اور ان کو یہ ہضم نہیں ہو رہا ہے کہ جی ڈی پی5.3تک پہنچ چکا ہے، اپوزیشن کو بھی چاہئے تھا اور وہ یہاں آگر دیکھتیں کہ ہم نے کیسا بجٹ پیش کیا ہے؟

جے یو آئی (ف) کے قومی اسمبلی مولانا میر زمان نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کی یہ خوبی ہے کہ موجودہ حکومت نے پانچواں بجٹ پیش کرایا،  بجٹ ہمیشہ غریب عوام کیلئے ہوتے ہیں اور ایسے لوگ جن کا کوئی آسرا نہیں ہوتا، ان کا خیال رکھنا چاہئے، ملک کے اندر ایسے علاقوں کی بڑی تعداد موجود ہے جہاں انسان اور حیوان ایک جگہ پانی پیتے ہیں اور سڑکیں بھی موجود نہیں ہیں لیکن بجٹ میں ان کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔

حکومتی ممبر قومی اسمبلی چوہدری جعفر اقبال نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کارکردگی قابل تعریف رہی ہے اور کل والے ایوان نے ماحول کی مذمت کرتا ہوں، اور کارکردگی کی بنیاد پر ہی عوام کے مسلم لیگ (ن کو مینڈیٹ دیا،2013الیکشن میں جن لوگوں نے حکومت کے خواب دیکھے تھے اب وہ کامیاب نہ ہوئے تو انہوں نے گھیراؤ اور دھرنے کی سیاست کا سہارا لیا اور الیکشن کو چیلنج کر دیا موجودہ حکومت نے بجٹ میں استحکام پیدا کیا ہے ، آج چار سال مکمل ہونے پر کارکردگی واضح ہے گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں موجودہ بجٹ عوام کی امنگوں کے مطابق ہے۔

مزید :

قومی -