’اگر رمضان میں خود کو بہت زیادہ کھانا کھانے سے بچانا چاہتے ہیں تو ایک یہ کام کریں کہ روزہ افطار کرتے ہی۔۔۔‘

’اگر رمضان میں خود کو بہت زیادہ کھانا کھانے سے بچانا چاہتے ہیں تو ایک یہ کام ...
’اگر رمضان میں خود کو بہت زیادہ کھانا کھانے سے بچانا چاہتے ہیں تو ایک یہ کام کریں کہ روزہ افطار کرتے ہی۔۔۔‘

  

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ماہ رمضان اپنی نعمتوں اور برکتوں کے ساتھ ساتھ کئی طرح کے طبی فوائد بھی اپنے ساتھ لے کر آتا ہے، لیکن سحر و افطار میں کھانے پینے کی بداحتیاطی ان فوائد کوالٹا نقصان میں بدل سکتی ہے۔ سعودی ماہرغذائیت لما النائیلی، جو ’کین ووڈ‘ کی برانڈ ایمبیسڈر بھی ہے، نے ماہ ِ مقدس میں کھانے پینے کے حوالے سے چند احتیاطی تدابیر بیان کی ہیں۔خلیج ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ”افطار کے فوراً بعد زیادہ سے زیادہ پانی پینا شروع کر دیں۔ اس طرح آپ زائد خورانی سے محفوظ رہیں گے۔ آپ کو اپھارے وغیرہ سے بچنے کے لیے 8گلاس پانی تھوڑی تھوڑی مقدار میں پینا چاہیے۔ میانہ روی ہی بہتر چیز ہے لہٰذا ماہ رمضان میں بھی آپ کو تین کھانے ہی کھانے چاہئیں۔ افطار، اس کے کچھ دیر بعد ہلکا سا کھانا اور پھر سحری۔“

مسواک کے فوائد کے بارے میں آپ نے سنا تو بہت ہو گا لیکن یہ دراصل کس طرح آپ کو صحت مند رکھتی ہے؟ اب سائنسدانوں کو ایسا راز معلوم ہو گیا کہ جان کر آپ بھی آج ہی اس سنت نبوی کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں

ان کا مزید کہنا تھا کہ ”ہمیشہ 2سے 3کھجوروں سے روزہ افطار کیجیے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی استعمال نہ کریں۔اس کے بعدرات کا کھانا گرم سوپ سے شروع کریں۔ اس کے بعد کھانے میں کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین سے بھرپور کھانا کھائیں۔ براﺅن چاول، براﺅن پاستہ، سبزی کے ساتھ پکا ہوا بڑا گوشت، مرغی کا گوشت یا مچھلی بہترین ہیں۔ یہ طویل روزے کے بعدآپ کے معدے کو تسکین دے گا۔ماہ رمضان میں ہمیں مٹھائیوں اور پہلے سے تیار شدہ، پکے پکائے ڈبہ بند کھانوں سے گریز کرنا چاہیے۔ان کے استعمال سے روزے کے وقت پیاس بہت زیادہ لگے گی۔ افطار سے کچھ ہی دیر پہلے ہلکی سی ورزش کیجیے۔اس سے آپ کا نظام انہضام تیز ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں آپ افطار کے بعد بھی ورزش کر سکتے ہیں۔سحری میں بھی کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین سے بھرپور غذا استعمال کریں تاکہ دن بھر آپ کے خون میں گلوکوز کا لیول مستحکم رہے اور آپ کو بھوک محسوس نہ ہو۔“

مزید :

Ramadan News -