سپریم جوڈیشل اکیڈمی میں بھیجی گئی ایمبولینس وی آئی پی پروٹوکول کا حصہ تھی اور احتیاطی طور پر بھیجی گئی تھی: طارق فضل چوہدری

سپریم جوڈیشل اکیڈمی میں بھیجی گئی ایمبولینس وی آئی پی پروٹوکول کا حصہ تھی ...
سپریم جوڈیشل اکیڈمی میں بھیجی گئی ایمبولینس وی آئی پی پروٹوکول کا حصہ تھی اور احتیاطی طور پر بھیجی گئی تھی: طارق فضل چوہدری

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حسین نواز یا سعیداحمد میں سے کسی کی طبعیت خراب نہیں ہوئی تھی بلکہ سپریم جوڈیشل اکیڈمی میں ایمبولینس احتیاطی طور پر بھیجی گئی تھی۔

سری لنکا میں سیلابی صورت حال، پاک بحریہ کا پی ایس ذوالفقار ریلیف سرگرمیوں شرکت کے لئے کولمبو پہنچ گیا: ترجمان پاک بحریہ

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”آن دی فرنٹ “ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل اکیڈمی میں بھیجی گئی ایمبولینس پمز ہسپتال کی تھی اور اسے وی آئی پی پروٹوکول کے طور پر بھیجا گیا تھا ، ایمبولینس احتیاطی تدبیر کے طور پر بھیجی گئی تھی کہ کسی بھی وی آئی پی شخصیت کا بلڈ پریشر کا مسئلہ ہو یا کوئی اور پرابلم ہو تو انہیں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی جائے، ایمبولینس ہر وی آئی پی پروٹوکول کا حصہ ہوتی ہے۔

’میری آنکھوں کے سامنے میری گرل فرینڈ کو ریپ کیا جا رہا ہے ۔۔۔ ‘ یورپی ملک میں نوجوان کا پولیس کو فون آگے سے جواب کیا ملا؟ ایسا جواب کہ پورے ملک میں ہنگامہ برپا ہو گیا

واضح رہے کہ وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے بعد اکیڈمی کے اندر ایک ایمبولینس کو بھیجا گیا تھا جس پر میڈیا میں قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں چلائی گئیں کہ دوران تحقیق حسین نواز یا سعید احمد میں سے کسی ایک کی طبعیت خراب ہوگئی ہے جبکہ وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایسی تمام خبروں کی تردید کی تھی۔

مزید :

قومی -