کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیا جائے ، اذیت ناک لوڈشیڈنگ کے خلاف جمعہ کو یوم سیاہ منائیں گے: حافظ نعیم الرحمان

کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیا جائے ، اذیت ناک لوڈشیڈنگ کے خلاف جمعہ کو یوم ...
کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیا جائے ، اذیت ناک لوڈشیڈنگ کے خلاف جمعہ کو یوم سیاہ منائیں گے: حافظ نعیم الرحمان

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت ، نیپرا اور کے الیکٹرک کی ملی بھگت سے کراچی کے 26لاکھ صارفین کو لوٹا جارہا ہے اور ان پر ظلم کیا جارہا ہے جو کے الیکٹرک کا حامی ہوگا وہ عوام کادشمن ہوگا اور اسے کرپشن میں شریک سمجھا جائے گا، ہمارا مطالبہ ہے کہ کے الیکٹرک کو فوری طور پر قومی تحویل میں لیا جائے اور اگر ضرورت ہوتو آئین کے آرٹیکل 245کا استعمال کیاجائے اور ایمرجنسی بھی نافذ کی جائے ،جماعت اسلامی کراچی میں اذیت ناک لوڈ شیڈنگ اور کے الیکٹرک کی لوٹ مار کے خلاف جمعہ 2جون کو یوم سیاہ منائیں گے۔

وفاق نے سندھ کے ساتھ عہد شکنی کی یا اللہ حکومت کو ہدایت دے، کے الیکٹرک کراچی کے عوام کے ساتھ ظلم کر رہا ہے: مراد علی شاہ

جماعت اسلامی کراچی کے امیرحافظ نعیم الرحمان نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی جمعہ کے دن کراچی میں کے الیکٹرک، نیپرا اور حکومت کے خلاف یوم سیاہ منائے گی۔حکومت نیپرا اور کے الیکٹرک کے خلاف سیاہ جھنڈے لہرائے جائیں گے ، کے الیکٹرک کے خلاف جدوجہد اور تحریک میں ہم تمام پارٹیوں کو شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے ، کے الیکٹرک کی انتظامیہ اور ذمہ داران کو گرفتار کیا جائے اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں۔کے الیکٹرک کا فارنزک آڈٹ کرا یا جائے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی میں بجلی کا کوئی ادارہ موجود نہیں اور نا کوئی حکومت نظر آتی ہے۔ کے الیکٹرک کے خلاف وفاقی حکومت اور نیپرا کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔ صوبائی حکومت نے بھی 9سال بعد وفاقی حکومت کو کے الیکٹرک کے حوالے سے خط لکھ کر بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔

گاﺅں کے قریب جنگل میں پڑی نوجوان لڑکی کی لاش، گاﺅں والوں نے دیکھی تو ہر طرف خوف پھیل گیا، فوری پولیس کو بلالیا گیا لیکن دراصل یہ کیا چیز تھی؟ آکر پولیس والوں نے دیکھا تو ان سب کے چہرے شرم سے لال ہوگئے کیونکہ۔۔۔

حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹر ک ایک بے لگام گھوڑا اور شتر بے مہار کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔61فیصد شہر کو لوڈ شیڈنگ فری کا دعوہ کرنے والوں نے پورے شہر کو تاریکی میں دھکیل دیا ہے۔ سحر افطار اور تراویح کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کے تمام دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ شہری سخت پریشان اور تنگ ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ احتجاج کیا جارہا ہے خظرہ ہے کہ یہ احتجاج امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے تشویش ناک بھی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حالات کو فوری طور پر کنٹرول کیا جائے اور کے الیکٹرک کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے۔کے الیکٹرک کراچی کے شہریوں کو جان بوجھ کر لو ڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کررہی ہے ، کراچی میں بجلی کا کوئی شارٹ فال گرمی کی بڑھتی ہوئی شدت کے باوجود اصلاً موجود نہیں اگر کے الیکٹرک اپنے تمام پاور پلانٹ چلائے تو شہریوں کو سخت گرمی میں اذیت ناک لوڈ شیڈنگ سے نجات مل سکتی ہے۔جماعت اسلامی رمضان المبارک کے مہینے میں بھی کے الیکٹرک کے خلاف احتجاجی تحریک جاری رکھے گی۔کے الیکٹرک کے جرائم اس کی تمام آئی بی سیز کے خلاف متعلقہ تھانوں میں ایف آئی آر درج کرانے کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے اور ”ون ملین پٹیشن “کا کام بھی مکمل کیا جائے گا۔

روزے کی حالت میں 6گھنٹے تک سوالات کے جواب دئیے، کسی کا رویہ ٹھیک نہیں ہوگا تو وہ امید نہ رکھیں کہ عدالت نہیں جاﺅں گا: حسین نواز

امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نیپر اکے اندر بھی کراچی کے عوام کی طرف سے بطور فریق ڈھائی کروڑ عوام کا مقدمہ لڑ چکی ہے ، ہم ڈیڑھ سا ل قبل سپریم کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کراچکے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں بھی فریق بننے کی آئینی درخواست جمع کرائی جاچکی ہے ، کے الیکٹرک کے خلاف اور عوام کے حق کے لیے ہر آئینی ، قانونی اور جمہوری طریقہ اختیار کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے فیول ایڈجسٹمنٹ ،میٹر رینٹ ، ڈبل بنک چارجز ،اضافی ملازمین ،و کلاءبیک اور اوور بلنگ سے 200ارب روپے کراچی کے شہریوں سے ناجائز طور پر وصول کیے ہیں ان کا حساب لیاجاناچاہیے یہ رقم عوام کا حق ہے جو عوام کو واپس ملنا چاہیے۔

مزید :

کراچی -