”میں نے نبی پاکﷺ کو کہتے سنا ’میں سورہا تھا تو 2 آدمی آئے اور مجھے ایک پہاڑ کے سامنے لے گئے، اس پر چڑھے تو اونچی آوازیں آنے لگیں وہ کہنے لگے یہ جہنم کے باسیوں کی چیخیں ہیں پھر میں نے دیکھا لوگ اپنی رانوں سے لٹکے ہوئے ہیں پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو جواب ملا کہ یہ۔۔۔“

”میں نے نبی پاکﷺ کو کہتے سنا ’میں سورہا تھا تو 2 آدمی آئے اور مجھے ایک پہاڑ ...
”میں نے نبی پاکﷺ کو کہتے سنا ’میں سورہا تھا تو 2 آدمی آئے اور مجھے ایک پہاڑ کے سامنے لے گئے، اس پر چڑھے تو اونچی آوازیں آنے لگیں وہ کہنے لگے یہ جہنم کے باسیوں کی چیخیں ہیں پھر میں نے دیکھا لوگ اپنی رانوں سے لٹکے ہوئے ہیں پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو جواب ملا کہ یہ۔۔۔“

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ہم انسانوں کے نیک اعمال کے نتیجے میں ملنے والی رحمتوں اور نعمتوں کا ذکر کرنا بہت پسند کرتے ہیں لیکن اپنے بداعمال اور ان کے نتائج پر غور نہیں کرتے۔روزہ بھی ان فرائض میں سے ایک ہے جس کا بلاوجہ ترک کرنا سنگین گناہ ہے۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں وہ احکامات الٰہی اور احادیث رسول ﷺبیان کی ہیں جن میں روزہ داروں کے انعامات کے متعلق بتایا گیا ہے اور روزہ خوروں کے لیے وعیدیں بیان کی گئی ہے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ روزے کا اجر کس قدر عظیم ہے اور اس کی پابندی نہ کرنے کی سزا کس قدر سخت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سورة البقرہ میں فرمایا ہے کہ ”ائے ایمان والو!تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے والوں پر کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن سکو۔“ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ہر چیز میں بہت آسانی پیدا کی ہے۔ اسی طرح مجبوری کی حالت میں روزہ چھوٹ جانے کی سزا بھی مقرر نہیں کی۔ جو لوگ بیمار ہیں یا سفر میں ہیں انہیں روزے کی رعایت دی گئی ہے۔ سورة البقرة میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے واسطے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے، سو جو کوئی تم میں سے اس مہینے کو پا لے تو اس کے روزے رکھے، اور جو کوئی بیمار یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرے، اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر تنگی نہیں چاہتا، تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو، اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔“

ابو عمامہ الباحلی ؓ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک رات میں سو رہا تھا کہ دو لوگ آئے اور مجھے ایک پہاڑ پر لے گئے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ اس پہاڑ پر چڑھیں۔ میں نے کہا کہ میں نہیں چڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسے آپ کے لیے آسان بنا دیں گے۔چنانچہ میں نے اس پر چڑھنا شروع کر دیا، حتیٰ کہ چوٹی پر پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر میں نے چیخ و پکار سنی۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیسی آوازیں ہیں۔ انہوں نے بتایا یہ دوزخیوں کی چیخ و پکار ہے۔ پھر مجھے آگے لیجایا گیا، حتیٰ کہ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جنہیں کونچوں سے الٹا لٹکایا گیا تھا۔ ان کے منہ دونوں اطراف سے پھٹے ہوئے تھے اور ان میں سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے روزہ رکھا اور افطار سے پہلے ہی اسے توڑ دیا۔“

ایک بار رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزاءدوں گا۔“ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ ”روزہ دار کے لیے خوشی کے دو لمحات ہیں۔ ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسرا جب وہ اپنے رب سے ملے گا۔ روزہ دار کے منہ سے آنے والی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے۔

مزید :

قومی -