وزیراعظم کا ایجوکیشن پروگرام

وزیراعظم کا ایجوکیشن پروگرام
وزیراعظم کا ایجوکیشن پروگرام

  



وزیراعظم عباسی نے درست کہا اور یہ سچ بھی ہے کہ آج دشمن طاقتیں ہمیں تعلیم کی طرف سے بدگمان کرکے ملک کو کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ ایسے عناصر بھی ملک میں موجود ہیں جو اپنی سرداری، چودھراہٹ، جاگیرداری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی وجہ سے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں میں بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اکثر بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اوران کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے ،اسی وجہ سے ہمارا نوجوان طبقہ تعلیم کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔

مغرب کی ترقی کا راز صرف تعلیم کو اہمیت دینا اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا ہے،اسی تعلیم کے بل پر انہوں نے ترقی کی ہے۔ مغرب کی کامیابی اور مشرق کے زوال کی وجہ بھی تعلیم کا نہ ہونا ہے

۔ دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے، ان کا دفاعی بجٹ تو اربوں روپے کا ہے، مگر تعلیمی بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے،اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں کو مضبوط کرے۔

آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے۔ علم کی اہمیت سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔زمانہ قدیم سے دور حاضر تک ہر متمدن و مہذب معاشرہ علم کی اہمیت سے واقف ہے، اس لئے موجودہ حکومت اگر تعلیم کی بہتری کے لئے کوششیں کر رہی ہیں تو اس کی ستائش کی جانی چاہیے۔

دارالحکومت کے سکولوں کے لئے نئے نصاب اور درسی کتب کا اجراء کیا گیا اور پہلے مرحلے میں جماعت اول سے پنجم تک کی کتب کو اپ گریڈ کیا گیا ہے جس کے بعد دوسرے مرحلے میں ششم سے ہشتم تک کی کتابوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں جماعت نہم سے بارہویں تک کی کتب کو بہتر بنایا جائے گا۔

وزیراعظم نے بجا فرمایا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ اب صوبوں کے پاس چلا گیا ہے۔ صوبوں کے پاس خطیر بجٹ موجود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان پر بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔

تعلیم کے معیار کو بڑھانے کے لئے اساتذہ کی تربیت کو بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس وقت حکومت سرکاری سکولوں میں ہر طالب علم پرپانچ ہزار روپے فی کس خرچ کر رہی ہے ۔وزیراعظم نے ایک اور اہم بات یہ کہی کہ جب وہ سیاست میں آئے تھے تو وفاقی کابینہ میں صرف چند گریجویٹس ہوتے تھے، تاہم آج حالات مختلف ہیں اور کابینہ اور پارلیمان میں پی ایچ ڈیز، انجینئرز اور پوسٹ گریجویٹس کے ساتھ ساتھ مدارس کے سند یافتہ افراد بھی موجود ہیں۔ یقیناًاعلیٰ تعلیم سے امور کار میں بہتری آتی ہے۔

تعلیم وہ شعبہ ہے جس میں اقوام کی ترقی کا راز پوشیدہ ہوتا ہے، اس شعبے کی ذمہ داری ان افراد کے حوالے کرنی چائیے جو نہ صرف خود اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں، بلکہ تعلیم کی اہمیت و افادیت سے بخوبی واقف ہوں۔ کوئی ذمہ داری بغیر احساس کے اپنی حقیقت تسلیم نہیں کرواسکتی، اگر احساس ہو گا تو نتیجہ بھی اچھا نکلے گا۔تعلیم نہ صرف ملکوں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، بلکہ معاشرے کی روش کا تعین بھی صحیح اور مثبت سمت میں رکھتی ہے۔ علم کی ضرورت کے تعلق سے بلا تمہید یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ انسان پیدائشی طور پر اس کی ضرورت کو محسوس کرنے والا ہوتا ہے،چونکہ تخلیق انسانی پر غور کرنے سے جو صورت ابھر کر سامنے آتی ہے،وہ یہ ہے کہ ابن آدم فطرتاً سننے والا، دیکھنے والا اور سمجھنے والا واقع ہوا ہے ۔آج اگر مریخ میں زندگی کے آثار بتائے جا رہے ہیں اور اگر دنیا مریخ سیارے پر آباد ہو سکتی ہے تو یہ بھی سب علم کے زور پر ہی ہے جس کا تذکرہ قرآن میں فرما دیا گیا ہے۔

جیسا کہ فرمایا گیا کہ علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے، تو یہ علم ہی ہے جس نے انسان کو انسان ہونے کا شرف بخشا اور جس نے انسان کو درندگی سے نکال کر انسانیت کی راہ پر ڈال دیا۔

علم کو فرض سمجھ کر حاصل کریں جس طرح فرض کا ترک کرنا گناہ ہے، اسی طرح علم کا حاصل نہ کرنا بھی گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ دنیا میں آج جتنے بھی بڑے بڑے نام ہمارے سامنے ہیں، سب اسی علم ہی کی بدولت ہیں۔

مزید : رائے /کالم