گرمی، ماحولیات کا رونا!

گرمی، ماحولیات کا رونا!

  

پوری دنیا میں موسموں میں غیر معمولی تغیر آیا اور طوفان، بارشیں اور شدید برفباری نے ترقی یافتہ ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا، چین، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور ترکی تک سبھی متاثر ہوئے، ان غیر معمولی بارشوں اور طوفانوں کی وجہ ماحول کی آلودگی کو قرار دیا گیا ہے اور اس آلودگی کو ختم کرنے کے لئے پیرس میں ہونے والے بین الاقوامی اجلاس میں معاہدہ بھی ہوا، افسوس اس بات کا ہے کہ اس معاہدہ پر دستخط کرنے والے ڈیڑھ سو سے زیادہ ممالک نے خود اپنے اپنے ملک میں عمل میں سستی کا مظاہرہ کیا ہے، چہ جائیکہ پاکستان جیسے ممالک ایسا کرتے۔پاکستان بھی موسمی تبدیلیوں کے زیر اثر ہے، یہاں تو تبدیلی اس حد تک آچکی کہ سردی کے ایام کم اور گرمی کے بڑھ گئے ہیں، اور اس کی بھی وجہ آلودگی اور زمین سے جنگل کا حصہ کم ہو جانا قرار دیا گیا ہے۔ ابھی اسی ہفتے میں کراچی میں شدید گرمی پڑی، لوگ بے حال ہوگئے اب وہاں سمندری ہواؤں کی وجہ سے درجہ حرارت میں فرق پڑا ہے، تاہم حدت برقرار ہے، اب گرمی نے رخ مرکزی اور جنوبی پنجاب سے لے کر اندرون سندھ تک کرلیا ہے، مرکزی اور جنوبی پنجاب میں بھی درجہ حرارت بڑھ گیا حتیٰ کہ گزشتہ دنوں تک چلنے والی ہوا اب لو میں تبدیل ہوچکی ہے۔ان حالات میں جہاں طبی ماہرین لو سے بچنے کے مشورے دے رہے ہیں وہاں موسمیات کے ماہر خبردار کررہے ہیں کہ ملک میں جنگل کا حصہ کم ہو جانے سے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں، اس لئے ہمیں خود احتیاط کرنا ہوگی۔ آلودگی سے بچنا لازم ہے تو جنگل کا حصہ بھی بڑھانا ہوگا، ماہرین نے خصوصی طور پر دیسی سایہ دار پودے لگا کر ان کو درخت بنانے کی تجویز دی اور بتایا ہے کہ نیم کا ایک درخت ایک پورے خاندان کے لئے آکسیجن اور سایہ مہیا کرتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے محکمے تشہیر کردیتے ہیں لیکن شجرکاری نہیں کرتے اور اگر کہیں پودے لگائے جاتے ہیں تو ان کی حفاظت اور پرورش نہیں کی جاتی، وہ مرجھا کر ختم ہوجاتے ہیں، حکومت اور سماجی شعبہ کو ان تمام پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا، اور شہروں کے متوازی جنگل کا حصہ پورا کرنا ہوگا۔

مزید :

رائے -اداریہ -