اصل مسئلہ ایک کروڑ ملازمتیں نہیں ملازمتوں کے قابل افراد کی تیاری ہے

اصل مسئلہ ایک کروڑ ملازمتیں نہیں ملازمتوں کے قابل افراد کی تیاری ہے
اصل مسئلہ ایک کروڑ ملازمتیں نہیں ملازمتوں کے قابل افراد کی تیاری ہے

  

پاکستان تحریک انصاف قومی سیاست میں بہت سی اختراعات اور فروعات کی بانی ہے اسمیں کئی اچھی بھی ہیں اور بہت سی غیر پارلیمانی اور غیر اخلاقی بھی ہیں گالم گلوچ کو سیاسی کلچر کا حصہ بنانے میں ان کا کسی سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا تحریک انصاف کے صفِ اول دوم اور سوم کے قائدین سے لے کر نچلے درجے کے عام کارکنان تک یہی گالی گلوچ کا کلچر عام ہے ٹی وی مذاکرے ہوں یا عمومی مباحث و مذاکرے، یہ لوگ ہٹ دھرمی، غلیظ زبان کے استعمال اور دھونس دھاندلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک بات بڑی اہم ہے کہ انہوں نے جھوٹ اور دروغ گوئی کو سائنٹفک انداز اورایک سٹائل پہنا کر سوشل میڈیا کے ذریعے ایک اہم پروپیگنڈہ کا ہتھیار بنا دیا ہے گزرے دس سال سے پی ٹی آئی مسلم لیگ نواز کے خلاف ایسے ہی ہتھیاروں کے ساتھ مورچہ زن رہی ہے ۔2013 کے انتخابات کے وقت عمران خان بزعم خود وزیراعظم کے منصب جلیلہ پر ایسے ہی فائز ہو چکے تھے جیسے آج کل 2018 کے انتخابات سے قبل انہوں نے وزیراعظم پاکستان کا ’’چارج‘‘ سنبھال رکھا ہے وہ اپنی تقاریر میں وزیراعظم کے طور پر بیانات داغ رہے ہیں۔ " آئین پاکستان کے تحت خواب دیکھنے پر پابندی نہیں ہے " اسلئے ہمیں ان کی سوچ اور بچار پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔

نواز شریف کی نا اہلی کے بعد تحریک انصاف کے پاس کچھ کہنے اور کرنے کو نہیں رہا تھا کیونکہ انکی ساری قوت نواز شریف کے خلاف پروپیگنڈہ اور تنقید کرنے پر صرف ہو رہی تھی پھر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد تو تحریک انصاف بالکل ہی بے یارومددگار ہوتی نظر آرہی تھی اسلئے انہوں نے بڑی جلدی میں اقتدار میں آنے کے بعد 100 دن کا پلان جاری کر دیا۔ حالانکہ 100 دن کا پلان اقتدار میں آنے کے بعد جاری کیا جاتا ہے انتخابات کے لئے تو پارٹی منشور جاری کیا جاتا ہے لیکن خان صاحب شاید نہیں بلکہ فی الحقیقت اقتدار سنبھالنے کی بہت جلدی میں ہیں اسلئے انہوں نے منشور کی بجائے 100 دن کا پلان پہلے ہی جاری کر دیا ہے۔تاکہ مارکیٹ میں ان کا سکہ چلتا رہے۔

یہ پلان بھی پی ٹی آئی کی دروغ گوئی کی مہارت تامہ کا ایک شاہکار ہے پی ٹی آئی کے " شہ دماغوں" نے جلدی جلدی یہ پلان تیارکرکے " یہ کریں گے, وہ کریں گے، ایسے کریں گے، ویسے کریں گے، وغیرہ وغیرہ" لیکن انہوں نے اپنے پلان میں اس بات کا اشارہ تک نہیں دیا کہ یہ سب کچھ کیسے کریں گے ، اعلان کردہ اہداف کے حصول کے لئے منصوبہ بندی ، اور اس پر عمل درآمد کی سٹریٹجی کیا ہو گی دودھ شہد کی نہریں بہانے اور جاری کرنے کے لئے کھدائی کیسے کی جائے گی۔ ان میں ڈالنے کے لئے شہد اور بہانے کے لئے دودھ کہا ں سے آئے گا ۔ ان سوالات کے بارے میں انکے پاس نہ تو سوچنے کی مہلت ہے اور نہ ہی صلاحیت ۔

انہیں تو بس اقتدار حاصل کرنے کی جلدی ہے اور اس راستے میں انتخابات 2018 حائل ہیں اسلئے انہوں نے جیسے کیسے بھی 100 دن کا پلان عوام کے سامنے پیش کیا ہے ۔ اس پلان میں سب سے " خوبصورت بونگی" پانچ سالوں میں 1 کروڑ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ہے۔

تحریک انصاف کے شہ دماغوں نے حکومتِ پاکستان کی ویب سائٹ سے اعدادو شمار اٹھائے ہیں جن کے مطابق وہاں آبادی کی شرح افزائش ، نوجواآبادی کا تناسب اور دیگر عوامل دیکھتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 20 لاکھ نوجوان جاب مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں گویاآنے والے پانچ سال میں ایک کروڑ افراد جاب مارکیٹ میں موجود ہونگے بس انصافی بھائیوں نے ایک کروڑ ملازمتیں پیدا کرنے کا ٹارگٹ بیان کر دیایہ احمقانہ اور بچگانہ اپروچ اور اعلان ہے کیونکہ انہیں تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا چاہئے کہ نجی و سرکاری شعبے میں بے شمار پوزیشنز خالی پڑی ہیں۔

صنعتی شعبے میں ہر سال بہت سی پوزیشنز اس وجہ سے خالی پڑی رہتی ہیں کہ ان پوزیشنز کے لئے قابل بھروسہ اور تربیت یافتہ افراد دستیاب نہیں ہوتے پاکستان کی سطح پر نہ صرف صنعتی شعبے میں بلکہ سرکاری اور نیم سرکاری شعبہ جات میں بھی ہزاروں نہیں لاکھوں جابز مطلوبہ صلاحیت کے افراد کی عدم دستیابی کے باعث خالی پڑی رہتی ہیں۔

حکومت پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ اعدادو شمار (2015-16) کے مطابق حکومت پاکستان کی 520,382 منظور شدہ آسامیاں ہیں گریڈ 1 تا 22 کی ان آسامیوں میں 454,517 پر تعیناتیاں کی گئی ہیں جبکہ مطلوبہ اہلیت اور صلاحیت کے افراد کی عدم دستیابی کے باعث 65,805 آسامیاں کئی سالوں سے خالی پڑی ہیں۔ فیڈرول پبلک سروس کمیشن کی شائع کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق گریڈ 16 تا 22 کی 500 آسامیاں مطلوبہ اہلیت و صلاحیت کے مردوزن کی عدم دستیابی کے باعث خالی پڑی ہیں۔

حکومت پاکستان کے جاری کردہ تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق کل آبادی میں 51 فیصد مرد اور 49 فیصد عورتیں شامل ہیں 65 فیصد آبادی دیہاتوں میں بستی ہے جبکہ 35 فیصد شہروں میں رہتی ہے ۔ ایک کروڑ آسامیاں پیدا کرنے کے اعلان کو پی ٹی آئی کے اسد عمر آجکل اخبارات میں آرٹیکل لکھ لکھ کر سچ ثابت کرنے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے صنعتی شعبے پر زور دیا ہے جبکہ ہماری معیشت زراعت پر انحصار کرتی ہے ہماری صنعتیں بشمول کاٹن اینڈ ٹیکسٹائل ، لیدر، کرافٹس وغیرہ کا انحصار زرعی شعبے پر ہے ہماری قومی پیداوار میں بھی زرعی شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے آبادی کی اکثریت دیہاتوں میں بستی ہے اور انکی معاشیات زمین اور ڈھورڈنگروں / لائیوسٹاک کے ساتھ وابستہ ہے ۔

پانی اور کھاد و زرعی ادویات کی فراہمی و دستیابی ہی انکی کامیابی کی ضمانت ہے سب سے اہم شے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ، مصارف کاشت میں کمی اور پیداوار کی مناسب قیمت پر فروخت جیسے معاملات حل کئے بغیر 60 فیصد پاپولیشن کی معیشت کو درست نہیں کیا جا سکتا ہے اور اس کے لئے جابز کی فراہمی نہیں بلکہ مطلوبہ مہارت کی فراہمی اور دستیابی کی ضرورت ہے ۔

اب ذرا صنعتی شعبے کا جائزہ لیتے ہیں جہاں ہر سال لاکھوں آسامیاں پیدا ہوتی ہیں لیکن ہنر مند افراد کی عدم دستیابی کے باعث وہ آسامیاں ضائع ہو جاتی ہیں صنعتکار کم صلاحیت کے نیم ہنر مند افراد کو کم معاوضے پر ملازم رکھتے ہیں جس سے ایک طرف نوجوان برسر روزگار ہونے کے باوجود بے روزگاری کی زندگی گزارتے ہیں تو دوسری طرف صنعتی شعبے کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے مقابلے کی منڈی میں ہماری پراڈکٹس پیچھے رہ جاتی ہیں۔

یہاں سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور محکموں کی فہرست دی جاسکتی ہے جہاں کثیر تعداد میں آسامیاں اس وجہ سے خالی ہیں کہ ان کے لئے مناسب مہارتوں کے افراد دستیاب نہیں ہیں ایسی آسامیاں ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہیں۔

ضرورت ’’آسامیاں پیدا کرنے کی نہیں ہے جابز تو پہلے ہی موجود ہیں اصل کام ان جابز کے مطابق ہنر مند اور قابل بھروسہ ماہر افراد کی تیاری اور دستیابی ہے جو قومی معیشت کو لے کر آگے بڑھ سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -