سچ کا اُبھرتا سورج

سچ کا اُبھرتا سورج
سچ کا اُبھرتا سورج

  

باقی سارے کام ہوتے رہیں گے ، لیکن اگر پاکستان کو گرداب سے نکال کر آگے لے کر چلنا ہے تو سب سے پہلے سچائی کمیشن بنانا ہو گا۔

کیوں؟

لگا تار تیسری پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے، لیکن وزیراعظم کسی ایک کو بھی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی۔ پہلی (ق) لیگ والی پارلیمنٹ کو رہنے دیں کیوں کہ وہ ایک فوجی ڈکٹیٹر کی چھتری تلے یکے بعد دیگرے تین ایسے وزرائے اعظم کی پارلیمنٹ تھی، جنہیں وزیراعظم عوام نے نہیں بلکہ فوجی ڈکٹیٹر نے بنایا تھا۔ اس لئے اس دور کے وزیر اعظم اس وقت کے آرمی چیف کو اپنا باس کہتے تھے۔

البتہ اگلی دونوں پارلیمنٹس عوام نے جمہوری انتخابات کے نتیجہ میں منتخب کی تھیں، ایک میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی مدت پوری کی، لیکن وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو چار سال بعد اتار دیا گیا۔ دوسری مسلم لیگ(ن) کی حکومت جس نے اپنی مدت پوری کی، لیکن اس کے وزیراعظم کو بھی چار سال بعد اتارا گیا۔

میاں نواز شریف کو اللہ نے تین بار وزارتِ عظمیٰ دی، یقیناًبہت بڑا اعزاز ہے، لیکن مَیں سمجھتا ہوں شائد اللہ اس سے بھی بڑا کام ان سے لینا چاہتا ہے کہ مُلک سے جھوٹ کے اندھیرے ختم کرکے سچائی کے راستہ پر چلانے کے لئے بھی اللہ نے ان کا ہی انتخاب کیا ہے۔ دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود جس طریقے سے میاں نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا اس سے لگتا تو یہی تھا کہ 70 سال سے ملک پر قابض غیر جمہوری طاقتوں کا خیال تھا کہ پتہ بھی نہیں ہلے گا، لیکن شائد انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس کے بعد سے سات لاکھ مربع کلومیٹر پر واقع ملک کا ایک ایک انچ لرز ے گا۔ یہ ہے سچ کی طاقت۔

کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

اس جلوہ بے پردہ کوپردوں میں چھپا دیکھ

ایام جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ

بے تاب نہ ہومعرکہ بیم و رجا دیکھ

یہاں مشرق سے میری مراد چین یا جاپان نہیں اور نہ ہی سی پیک ہے، بلکہ یہ وہ سچ ہے، حق ہے، پاکستان ہے اور22 کروڑ پاکستانیوں کا مستقبل ہے، جو حق اور سچ کے سورج سے منور ہونے جا رہا ہے۔

پے در پے ایسے واقعات ہو رہے ہیں کہ سچ کو زیادہ دیر تک چھپانا اب ممکن نہیں رہے گا۔قوموں کو مفروضے نقصان پہنچاتے ہیں، ہمیں بھی پہنچایا۔

جنرل اسد درانی کی کتاب spy chronicles نے کہرام برپا کر رکھا ہے۔یہ کتاب انہوں نے بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے سابق سربراہ اے ایس دولت کے ساتھ مل کر لکھی ہے۔ آج کل سارا پاکستان اس کتاب کا پوسٹ مارٹم کرنے میں مصروف ہے۔ ان دنوں ایک نئی تکنیک یہ آئی ہے کہ کسی بھی کتاب کی مشہوری کے لئے اسے باقاعدہ شائع کرنے سے پہلے انٹرنیٹ پر جاری کردیا جاتا ہے اور چونکہ سوشل میڈیا کسی بھی چیز کو جنگل کی آگ سے بھی زیادہ تیزی سے پھیلاتا ہے اس لئے اشاعت سے پہلے ہی پورا ملک اس بحث میں اُلجھ جاتا ہے۔ اس کتاب کے سلسلہ میں بھی ایسا ہی کیا گیا، اس کی باقاعدہ اشاعت سے پہلے ہی کوئی چالیس پینتالیس لوگ اس کتاب کو whatsapp پر مجھے بھیج چکے تھے ،مارکیٹنگ کی نئی نئی تکنیکیں واقعی بہت جدت رکھتی ہیں ۔اس کتاب کا پوسٹ مارٹم تو ابھی بہت عرصہ چلے گا، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ وقت گذر چکا ہے جب سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بات کرنا شجرِ ممنوعہ سمجھا جاتا تھا۔ اگر کوئی اصرار کرے کہ فوج یا اس کے سیکیورٹی اداروں کی بات کیوں کی جا رہی ہے تو کم از کم تین ایسی کتابوں کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جو ان اداروں کے اپنے سربراہوں نے لکھیں اور ہوشربا انکشافات کئے۔

ان تینوں نے تفصیلات لکھی ہیں کہ کیسے ڈالر لے کر ہم نے اپنے بندے امریکہ کے حوالے کئے یا ان کے مفادات کا خیال رکھا۔ پہلی کتاب آرمی چیف اور اقتدار پر زبردستی قبضہ کرنے والے جنرل پرویز مشرف کی In The Line of Fire ہے، دوسری کتاب آئی ایس آئی اور نیب کے سابق سربراہ جنرل شاہد عزیز کی کتاب ’’یہ خاموشی کہاں تک‘‘ ہے اور اب تیسری یہ جنرل اسد درانی کی spy chronicles ۔ ان تینوں میں سے ایک بھی کتاب اگر کسی غیر فوجی نے لکھی ہوتی تو پاکستان کے مروجہ رواج کے مطابق اس کے سینے پر غداری کا تمغہ سج چکا ہوتا۔

ممتاز صحافی اور سکالر نسیم زہرہ کی کتاب From Kargil To The Coup کی تقریب رونمائی میں جانے کا اتفاق ہوا، مقررین میں سابق جرنیل، سفارت کار، سیاست دان اور صحافی سب ہی تھے لیکن بحیثیت مجموعی جو تاثر مجھے ملا وہ بعض جرنیلوں کے misadventures کی وجہ سے ہونے والی خرابیوں کا کھلم کھلا اظہار تھا جو ہر کسی نے کیا۔ کارگل کی لڑائی operation) (koh-e-paima ایک روشن مثال ہے،جو اس وقت کے آرمی چیف نے وزیر اعظم کو اندھیرے میں رکھ کر کی تھی اور جس کے نتیجہ میں نہ صرف ملک کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ دنیا نے کشمیر کا وہ حصہ جو پہلے no man's land تھا ، اسے اٹھا کر بھارت کی جھولی میں ڈال دیا۔اسی طرح کارگل سے پہلے ایک اور اسی طرح کا no man's land سیاچن بھی پاکستان کھو چکا تھا ۔

ایسا ہی misadventure ہمارے جرنیلوں نے 1965ء میں operation gibralter کیا تھاجب اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کی اس یقین دہانی پر کہ بھارت بین الاقوامی سرحد کراس نہیں کرے گا ، کشمیر میں جنگ شروع کی گئی تھی لیکن بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔

ایک اور misadventure مشرقی پاکستان میں 1971ء میں جنرل یحییٰ خان نے کیا، الیکشن جیتنے والی پارٹی کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے مُلک کی آدھی آبادی کے خلاف ملٹری ایکشن شروع کر دیا، جس کے بعد بھارت درمیان میں کودا اور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے دو ٹکڑے کر دئیے۔

بلوچستان میں پچھلے چالیس سال سے کون حکومت کر رہا ہے؟ کراچی میں ایم کیو ایم کس نے اور کیوں بنوائی؟

پاکستان میں ہونے والے الیکشن کو کیسے اور کہاں کنٹرول کیا جاتا ہے۔ جمہوری حکومتوں کے دور میں بھی طاقت کا منبع کہاں ہوتا ہے؟

پاکستان میں چار بار مارشل لاء کیوں لگا، جس کی وجہ سے 70 میں سے 34 سال (تقریباً نصف) مُلک ڈائرکٹ فوجی آمریت میں رہا اور باقی کے نصف کا بھی ایک بڑا حصہ غیر جمہوری طاقتوں کے کنٹرول میں رہا۔

ان 70 برسوں میں سپریم کورٹ کا کیا کردار رہا، منتخب وزیراعظم کی پھانسی سمیت کتنی بار اس نے فوجی آمروں کو آئینی تحفظ دیا اور کس کس جج نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا اور کس کس نے نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے دئیے۔

کون کون سے بیورو کریٹ غیر جمہوری طاقتوں کے آلہ کار بنے، کون کون سے سرمایہ داروں نے انہیں سرمایہ فراہم کیا ،کس کس صحافی نے قلمی کمک پہنچائی اور کون کون سے دانشور جھوٹ بولنے میں گوئیبلز کو بھی پیچھے چھوڑ گئے۔

حمود الرحمان کمیشن سے لے کر ایبٹ آباد کمیشن اور دوسرے تمام کمیشنوں کی رپورٹیں کیوں منظر عام پر نہیں لائی گئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا۔

ہم نے 70 سال اندھیروں یا نیم اندھیروں میں گزار دئیے، لیکن اب سورج طلوع ہونے کو ہے، سچ کا سورج۔

کیسے؟

خدارا مفروضوں سے باہر آئیں۔ میاں نواز شریف آج کل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس مطالبہ کو عوامی پذیرائی حاصل ہے۔ باقی سارے کام ہوتے رہیں گے ، لیکن اگر پاکستان کو گرداب سے نکال کر آگے لے کر چلنا ہے تو سب سے پہلے سچائی کمیشن بنانا ہو گا، کیونکہ اس ملک میں سچ کا سورج اُبھر رہا ہے۔ اندھیروں میں رہنے والے اپنا رخ مشرق کی طرف کر لیں تاکہ مشرق سے اُبھرتے سچ کے سورج کو دیکھ سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -