چار جج صاحبان اور شفاف انتخابات کا چیلنج

چار جج صاحبان اور شفاف انتخابات کا چیلنج
چار جج صاحبان اور شفاف انتخابات کا چیلنج

  

پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں شاید ہی پہلے کبھی ایسا اتفاق ہوا ہو، عدلیہ کے چار جج صاحبان اِس وقت مُلک کی تقدیر کے مالک بن گئے ہیں۔ پاکستان کا محفوظ مستقبل اُن کے ہاتھوں میں ہے۔

وہ اگر اپنے کردار و عمل سے قوم کو منزل پر پہنچا دیتے ہیں تو تاریخ اُن کے اِس کردار کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ امید ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اِن چار ججوں سے مراد کون لوگ ہیں۔۔۔ سب سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار، ان کے بعد نگران وزیراعظم، جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک، اُن کے بعد چیف الیکشن کمیشنر جسٹس(ر) سردار احمد رضا اور پھر چوتھے جسٹس(ر) جاوید اقبال چیئرمین نیب۔۔۔ ان چاروں شخصیات پر یہ ذمہ داری آن پڑی ہے کہ وہ ایک صاف و شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے ذریعے مُلک کو ایک شفاف اور نمائندہ قیادت فراہم کریں۔ یہ بہت مشکل کام ہے۔

یہ کبھی اپنی حقیقی روح کے مطابق پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچا۔ کبھی دیدہ اور کبھی نادیدہ طاقتیں شفاف انتخابات کے عمل کو ناکام بناتی رہی ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ چار ایسی اکائیاں مل گئی ہیں،جو ایک مربع بناتی ہیں۔

یہ چاروں کونے بڑی اہمیت رکھتے ہیں،انہی میں سے کسی کونے کے ذریعے نقب لگائی جاتی رہی ہے۔ اب ہر کونے پر ایک مضبوط اور مستعد دربان بیٹھا ہے۔ ہر راستہ محفوظ بنا دیا گیا ہے، اب کوئی نہیں کہے گا کہ راتوں رات نقب لگ گئی،انتخابات پر شب خون مارا گیا، نتائج تبدیل کئے گئے، ایسا تو اب شاید ممکن ہی نہ رہے۔

آیئے مَیں بتاتا ہوں کہ میری اس رجائیت کا سبب کیا ہے؟۔۔۔ بڑی وجہ تو یہ ہے کہ عملاً یہ مُلک عدلیہ کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ ایک حاضر سروس چیف جسٹس اور تین ریٹائرڈ جسٹس صاحبان مُلک چلا رہے ہیں۔

چاروں کا ہدف شفاف انتخابات ہیں، چاروں اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں سے واقف ہیں، چاروں سرد و گرم چشیدہ ہیں، چاروں اِس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ مُلک میں شفاف انتخابات نہ ہوئے تو بہت بڑے بحران کا خطرہ ہے۔ چاروں کو یہ بھی علم ہے کہ بروقت انتخابات مُلک کے لئے کتنے ضروری ہیں، چاروں یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ اگر نہ چاہیں تو کوئی انتخابات کو آگے نہیں لے جا سکتا، سو اِس لئے سب کچھ بہت محفوظ ہاتھوں میں ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ملک میں کوئی مارشل لاء آئے گا اور نہ ہی انتخابات ملتوی ہوں گے۔

یہ اتنی بڑی یقین دہانی ہے کہ اس کے بعد کسی اور یقین دہانی کی ضرورت ہی نہیں رہتی،کیونکہ آئین کے تحت ساٹھ دن میں انتخابات کا انعقاد ضروری ہے اور صرف سپریم کورٹ ہی اس مدت میں اضافہ کر سکتی ہے، کیونکہ وہاں سے ایسی کوئی مہلت نہیں ملنے والی، اِس لئے انتخابات کا بروقت ہونا نوشتۂ دیوار ہے۔ مُلک کے نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ نام ونمود سے دور رہ کر کام کرنے والے انسان ہیں۔اس کا اندزہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے حلف اُٹھانے سے پیشتر میڈیا سے بات کرنا گوارا نہیں کیا۔ وہ مُلک کے ایک بہت بڑے منصب پر فائز رہ چکے ہیں اور نیک نامی کے ساتھ ریٹائر ہوئے ہیں۔ وہ یقیناًیہ نہیں چاہیں گے کہ عمر بھر کی ریاضت کو چند دِنوں کی حکمرانی کے لئے ضائع کر دیں، سو اُن کی اول و آخر کوشش یہی ہو گی کہ جس مقصد کے لئے انہیں نگران وزیراعظم بنایا گیا ہے، اُسے پورا کر سکیں۔ اُن پر سب جماعتوں نے اعتماد کیا ہے، جو اس امر کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی قابلِ اعتماد آدمی ہیں، جن پر قوم بھروسہ کر سکتی ہے،جہاں تک چیف الیکشن کمشنر سردار احمد رضا کا تعلق ہے تو انہوں نے خود کو اب تک بڑی حد تک غیر جانبدار ثابت کیا ہے۔ انہوں نے جس بھرپور انداز سے عام انتخابات کی وقت سے پہلے تیاری مکمل کی ہے،وہ اُن کی لگن اور جذبے کو ثابت کرتی ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ وہ ایک فول پروف انداز میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنائیں گے،انہیں عدلیہ اور حکومت کی مکمل سپورٹ حاصل ہو گی۔

چوتھے سابق جسٹس صاحب بھی ایک اہم منصب پر بیٹھے ہیں،یعنی چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال۔

اُن پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سکروٹنی کے وقت62-63 شقوں پر پورا نہ اُترنے والوں پر نظر رکھیں۔اگر نیب کے پاس ایسے افراد کا کوئی ریکادڈ موجود ہے تو بروقت الیکشن کمیشن کے سامنے لائیں۔ چند روز پہلے خبر آئی تھی کہ نیب نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے والوں کا ڈیٹا نیب سے تصدیق کرایا جائے۔ یہ ایک اچھی بات ہے، بجائے اس کے کہ انتخابات کے بعد عذر داریوں کا سلسلہ شروع ہو جائے، پہلے ہی ایسے افراد کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا جائے،جو قرض نادہندہ، بینکوں اور سرکاری اداروں کے ڈیفالٹر، فراڈ اور بدعنوانی میں ملوث یا کوئی دوسرا کریمنل ریکارڈ رکھتے ہیں۔

اس کے لئے نیب بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ سب کچھ بڑے شفاف طریقے سے ہونا چاہئے، کسی کو بھی یہ شکایت نہ رہے کہ اُس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔دوسری طرف کسی کو یہ بھی شبہ نہ رہے کہ وہ اپنے اثرو رسوخ یا دولت کے بل بوتے پر بچ جائے گا۔ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں عام انتخابات معمول کی سرگرمی سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ وہاں نظام مستحکم ہے، الیکشن کے ضابطے واضح ہیں، جن میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا، پولنگ کا طریقہ محفوظ اور سائینٹفک ہے۔گنتی کے وقت کوئی ہیرا پھیری خارج از امکان سمجھی جاتی ہے،اِس لئے سب معمول کے مطابق ہو جاتا ہے۔

ہمارے لئے انتخابات ایک بہت گنجلک مسئلہ ہوتے ہیں۔ پہلے تو اُن کے بروقت انعقاد پر شکوک و شبہات منڈلاتے ہیں، پھر اُن کی شفافیت پر انگلیاں اٹھتی ہیں اور سب سے آخر میں نتائج کا اعلان ہوتا ہے تو دھاندلی کا شور مچ جاتا ہے، اِس لئے یہاں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں اب جمہوریت تسلسل کی طرف گامزن ہے، چوتھی مرتبہ مسلسل انتخابات ہو رہے ہیں، گویا ہم ایک سنگِ میل تو پہلے ہی عبور کر چکے ہیں، اب ہمیں شفافیت کو یقینی بنانا ہے، جو ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہی ہے۔

پورے مُلک میں عدلیہ کے جج حضرات ریٹرننگ افسران بنا دیئے گئے ہیں۔ اُن کی ذمہ داری تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے پہلے ہی اٹھا لی ہے کہ عدلیہ شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔ پولیس اسٹیشنوں پر امن و امان کے لئے سب فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کر رہے ہیں، امید ہے یہ مطالبہ بھی مان لیا جائے گا۔ یوں پولنگ اسٹیشن تک آنے اور ووٹ ڈالنے کے مرحلے کو ریٹرننگ افسران یقینی بنائیں گے۔اِس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ پریذائیڈنگ افسران اپنے پولنگ اسٹیشن کا مصدقہ نتیجہ لازماً سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوں کو دیں تاکہ ریٹرننگ افسران کے نتائج کا کاؤنٹر چیک ہو سکے۔

2018ء کے انتخابات عدلیہ کی ساکھ کے لئے ایک چیلنج بن گئے ہیں۔ قوم کی نظریں اب عدلیہ سے تعلق ر کھنے والے چار بڑوں پر لگی ہوئی ہیں۔ گویا قوم نے انہیں اپنا سارا اختیار سونپ دیا ہے۔ اس بار یہ انتخابات اِس لئے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں کہ پانچ برس تک برسر اقتدار رہے والی جماعت ابھی سے یہ خدشات ظاہر کر رہی ہے کہ اُسے آزادانہ انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا جائے گا۔

اُس کے امیدواروں کو مختلف ہتھکنڈوں سے خوفزدہ کر کے انتخابی مہم نہیں چلانے دی جائے گی۔ پولنگ والے دن بھی اُن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔ یہ مسلم لیگ(ن) کی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے کہ ایسا ماحول بنا دیا جائے کہ اگر شکست ہو تو اُسے دھاندلی کے الزام تلے دبایا جا سکے۔ حالات کس قدر حساس ہیں، اس کا اندازہ اِس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے چند روز پہلے پنجاب میں کام کرنے والے افسران کو اعلیٰ کارکردگی پر ایوارڈ اور کیش انعامات دیئے تو اُسے بھی سیاسی حریفوں نے پری پول رگنگ قرار دیا۔اُن کا کہنا تھا کہ اب یہی افسران مختلف عہدوں پر تعینات ہو کر انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں گے۔

بادی النظر میں یہ الزام مضحکہ خیز نظر آتا ہے،مگر الزام تو ہے۔اُدھر وزیراعظم نے جب وفاقی ملازمین کو تین اضافی تنخواہیں دینے کا اعلان کیا تو اپوزیشن اُس کے پیچھے ہی پڑ گئی، بالآخر وزارتِ خزانہ کو وضاحت کرنا پڑی کہ یہ تنخواہیں صرف بجٹ بنانے والے سرکاری افسران کو دی جائیں گی۔سو حالات جب اس حد تک چلے جائیں، آپ کی چھوٹی چھوٹی باتوں پربھی نظر رکھی جا رہی ہو تو شفاف انتخابات کا بھرم قائم رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔۔۔تاہم امید کی جانی چاہئے کہ حاضر اور ریٹائرڈ چار ججوں کی موجودگی میں دو بنیادی اہداف ضرور حاصل ہوں گے۔۔۔اول: انتخابات کی ایسی شفافیت جو سب کو نظر بھی آئے اور دوم: انتخابات کا بروقت پُرامن انعقاد۔۔۔ یہ دو ٹاسک مکمل ہو گئے تو سمجھو پاکستان ہر قسم کے بحرانوں سے محفوظ ہو گیا۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں، بس عزم و ارادہ اور نیک نیتی چاہئے اور قوم یہ سمجھتی ہے کہ جن شخصیات کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ ان خوبیوں سے مالا مال ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -