جاسوسی سرگزشت (2)

جاسوسی سرگزشت (2)

  

کل کے کالم کے اختتام پر کہا گیا تھا کہ دیکھیں جی ایچ کیو، جنرل درانی کی اس مشترک کاوش کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔پرسوں (28مئی)درانی صاحب کو طلب کیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ جن خیالات کا اظہار انہوں نے کتاب میں کیا ہے اس کا اثر پاکستان کے عوام پر کیا پڑا؟ جاری سیاسی صورتِ حال کس حد تک متاثر ہوئی؟ کیا اقوامِ عالم کی برادری میں پاکستان کا تشخص مجروح ہوا؟ اگر ہوا تو اس کا کیف و کم کیا تھا اور اگر نہیں تو جنرل صاحب کہاں تک قابلِ گرفت قرار دیئے جا سکتے ہیں اور کہاں تک نہیں۔۔۔؟

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے جی ایچ کیو نے فوراً ہی اس پر دو طرح کا ایکشن لیا ہے۔ ایک تو اس معاملے کی تحقیق کے لئے باقاعدہ ایک حاضر سروس تھری سٹار جنرل کی سربراہی میں ایک انکوائری آرڈر کر دی گئی ہے اور دوسرے جنرل اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لئے متعلقہ محکمے( وزارت داخلہ) سے سلسلہ جنبانی کی گئی ہے۔

وزارتِ داخلہ، حکومت پاکستان نے اس پر جھٹ پٹ عمل درآمد کیا ہے اور جنرل درانی کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی تین جرنیلوں کا ذکر کہیں آپ کے سامنے آیا ہو گاکہ ان کا نام بھی ECL پر ڈال دیا گیا تھا۔

اس کیس میں بھی میں لمحہ بھر کا توقف نہیں کیا گیاتھا۔ البتہ یہ سوال وضاحت طلب ہے کہ وزارت داخلہ کے پیمانے فوجی اور سویلین حضرات سے نمٹنے کے لئے جدا جدا کیوں ہیں؟۔۔۔ کیا ان پر جانبداری کا الزام لگایا جا سکتا ہے؟۔۔۔ اگر جواب ’’ہاں‘‘ میں ہے تو پھر سول اور ملٹری روابط ایک صفحے پر کیوں نہیں آتے، اس سوال کا جواب دینا کوئی ایسا مشکل نہیں رہے گا۔

میں نے کل بھی عرض کیا تھا کہ جہاں تک میں نے ’’سپائی کرانیکلز‘‘ کا مطالعہ کیا ہے، مجھے تو اس میں کوئی ایسی خاص بات نظر نہیں آئی جو مبینہ سول۔ ملٹری خلیج کو زیادہ وسیع یا زیادہ گہرا کرتی ہو۔ اس کتاب کے حصہ ء چہارم میں باب نمبر19کا عنوان ہے: ’’بی بی، میاں صاحب اور عباسی‘‘۔۔۔ اس کے بعض حصوں کا ترجمہ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ پاکستان کی تازہ ترین سیاسی صورت حال کو ’’انڈین جاسوسی ادارہ‘‘ کس آنکھ سے دیکھتا ہے اور پاکستان اسی صورتِ حال کے کیف و کم (Quality and Quantity) پر کس زاویہء نگاہ سے غور کر رہا ہے۔ یہ کہنے کی شائد ضرورت نہیں کہ اس کتاب کے دونوں مصنفین جو کبھی دونوں ممالک کے جاسوسی اداروں کے سربراہ تھے وہ اب محض ساحل دریا پر کھڑے ’’گویٹر‘‘ (اندازہ) ہی لگا سکتے ہیں۔ سمندر کے اندر جو گرداب اٹھ رہے ہیں ان کی گہرائی اور گیرائی کا ان کو کوئی اندازہ نہیں ہو سکتا۔ اگر اس کتاب کا قاری اس امر کو نگاہ میں رکھ کر اس کتاب کا مطالعہ کرے گا تو اس کو معلوم ہوگا کہ دور کے ڈھول ہمیشہ سہانے معلوم ہوتے ہیں لیکن نزدیک جائیں تو سمع خراشی اور بے ہنگم شور و غل کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔

حضرت اقبال نے بھی اپنی ایک رباعی میں کچھ اس قسم کی بات کہی ہے کہ ’’درونِ خانہ‘‘ جو ہنگامے برپا ہو رہے ہوتے ہیں ان کی خبر ’’چراغِ راہ گزر‘‘ کو نہیں ہوتی۔۔۔ ان کا علم تو اس شمع کو ہوتا ہے جو کمرے (مکان) کے اندر جل رہی ہوتی ہے۔۔۔ میرا خیال نہیں کہ جنرل درانی کے خلاف اس انکوائری کا کوئی ایسا نتیجہ برآمد ہو سکے گا جو پاکستان کی موجودہ عسکری یا سیاسی صورتِ حال پر کوئی واضح منفی یا مثبت اثر ڈال سکے گا۔

لیکن اس سے پہلے کہ اس باب کا ترجمہ قارئین کے سامنے رکھوں، ایک اور پہلو کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ میرا پختہ یقین ہے کہ ایک عام ہندو کا ذہن مسلمان کے خلاف متعصبانہ آلودگی سے لبالب بھرا ہوتا ہے۔ اس لئے سب سے پہلا خیال جو مجھے اس باب کے عنوان کو پڑھ کر آیا وہ یہ تھا کہ برسوں پہلے انڈیا میں ایک فلم بنی تھی جو شاید گرودت نے بنائی تھی۔

اس کا نام ’’بی بی ، صاحب اور غلام‘‘ تھا۔ اس کے گانے بہت مشہور تھے۔ مشہور اداکاروں میں مینا کماری اور گورودت اور وحیدہ رحمان شامل تھے۔ یہ اپنے دور کی ایک کامیاب انڈین فلم تھی اور اس کا ٹائٹل ایک عرصے تک پاک بھارت سرحد کے دونوں طرف بسنے والے باسیوں کو خوش اورناراض کرتا رہا تھا۔

یہ فیچر فلم اڑھائی گھنٹوں کے دورانیے کی ہے۔ اگر کوئی قاری اس کو آج بھی دیکھنے کا متمنی ہو تو ’’یوٹیوب ‘‘ پر جا کر دیکھ لے اور پھر اندازہ لگائے کہ ادتیہ سنہا نے اس کتاب میں اس باب کا عنوان رکھنے میں اس فلم کو ذہن میں رکھا ہوگا یا نہیں۔۔۔ اور اگر رکھا ہو گا تو جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہندو ذہنیت کی آلودگی کی نشاندہی کرے گا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بی بی، میاں صاحب اور عباسی سے کیا مراد ہے اور فلم میں بی بی، صاحب اور غلام کے کرداروں سے پاکستانی سیاستدانوں کا انطباق کیا ہو سکتا ہے اس پر میں مزید کچھ کہنا نہیں چاہوں گا!

اب میں آپ کے سامنے اس باب کا اردو ترجمہ رکھنا چاہتا ہوں۔

یہ کتاب جیسا کہ میں نے پہلی قسط میں لکھا تھا اپنی خارجی ہیئت کے اعتبار سے ایک ڈرامائی تحریر ہے جس میں باری باری تین کردار(دلت، درانی اور سنہا) مکالمہ سرائی کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے سوالوں جوابوں کی اہمیت اور معنویت آج کے پاکستانی سیاسی حالات کی تصویر کشتی کیسے کرتی ہے،آئے دیکھتے ہیں:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

@ادتیہ سنہا:کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کسی مثبت طریقے سے آگے نہیں بڑھی!

*اسد درانی: اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا ہی ہے۔ لیکن جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں ہر چند کہ یہ درست سمت میں ایک قدم ضرور ہوتا ہے۔ میں ایک(پاکستانی) آرمی چیف کو کوٹ کرنا چاہوں گا جو اقتدار سے وابستہ رہنا چاہتے تھے۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں اسلم بیگ کو ہر طرف سے جب یہ آوازیں سننے کو مل رہی تھیں کہ سویلین حکومت ٹھیک طرح کام نہیں کررہی تو انہوں نے یہ ہاہا کار سن کر ایک بیان دیا تھا۔ کسی بھی آرمی چیف کا اس طرح کا بیان ایک غیر معمول واقعہ تھا۔ لیکن یہ بیان نہ صرف یہ کہ فوج کے ہر طبقے (رینکس) کے لئے تھا بلکہ عام سویلین پبلک کے لئے بھی تھا۔ انہوں نے کہا تھا:’’ قوم نے اپنی سمت چن لی ہے اور جمہوریت کا راستہ یہی ہے۔ جو کوئی بھی اس راہ میں حائل ہوگا، وہ سلامت نہیں بچے گا‘‘۔

اگر اس کے بعد بھی ہمارے ہاں جمہوریت نہ چل سکی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ جس طرح انڈیا میں ادارے مضبوط تھے، ان میں ایک طرح کا اتفاق رائے پایا جاتا تھا اور ان کا کام کرنے کا ایک بندھاٹکا طریقہ تھا، ویسا نظام پاکستان میں نہیں تھا۔ آپ کے ہاں جیسا اداراتی طریقِ کار پاکستان یا اس سارے خطے کے لئے بہتر ہوگا یا نہیں ہوگا اس پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن اس پر سب کا اتفاق رائے کہ آپ کے ہاں ایسا سسٹم موجود تھا۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم لوگ تو یہ دیکھتے ہیں کہ اصل باس کون شخص ہے اور پھر وہ (کون شخص) اپنے طریقے سے نظامِ حکومت چلانا چاہتا ہے۔ ایسی صورت حال میں کوئی ادارہ اپنی رائے ضرور دیتا ہے۔ لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ ادارہ بھی اس ’’کون شخص‘‘ کی ہاں میں ہاں ملا دیتا ہے۔

nاے ایس دلت: کیا مذہب کا بھی کوئی رول ہے اس صورت حال میں؟۔۔۔اگر ہے تو کتنا اہم ہے؟۔۔۔ کیا اس کا کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟۔۔۔

*درانی: مجھے بالکل یقین ہے کہ مذہب کا ایک رول ہے۔ لیکن اس طرح کا نہیں جس طرح اکثر لوگ سمجھتے او ر یقین کرلیتے ہیں۔ ضیاء الحق کی مثال دیکھئے کیونکہ میں ان کو ذاتی طور پر جانتا تھا۔ وہ بہت مذہبی آدمی تھے لیکن اپنے ذاتی مفاد کے لئے اندرونی سیاست میں کودنے کے حق میں نہیں تھے۔ بین الاقوامی روابط کی بات اور ہوتی ہے اور خاص طور پر جہاں تک انڈیا کا سوال ہے تو مجھے یہ ہرگز یقین نہیں کہ ان روابط میں مذہب کا بھی کوئی عمل دخل ہے۔

جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ اپنی کسی خاص پالیسی کو درست ثابت کرنے کے لئے ایسا کرتے ہوں گے۔

nدلت: ڈکٹیٹر کو یہی تو فائدہ ہوتا ہے۔ وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہوتا۔ وہ مذہب پرست بھی ہو سکتا ہے لیکن وہ اگر معروضی انداز میں کسی بات پر عمل پیرا ہوتا ہے تو وہ درست اقدام کرتا ہے اور اس پر کوئی شخص حرف گیری نہیں کرتا۔ لیکن جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم جمہوری انداز ہی کو بہتر سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی دوسرا طریقِ کار ہے ہی نہیں۔ میرا خیال ہے کہ جن مسائل کا آپ نے ذکر کیا ہے اور ان کو داخلی مجبوری گردانا ہے وہی باتیں وزیر اعظم مودی کے لئے بھی مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا سوچتے ہیں لیکن وہ ہر بار ایک نیا قدم اٹھاتے ہیں اور پھر رک جاتے ہیں۔۔۔ پھر دوبارہ قدم اٹھاتے ہیں اور دوبارہ رک جاتے ہیں۔۔۔ میرا خیال ہے یہی بات ہے جو ان کی مشکلات کا باعث بن رہی ہے کیونکہ وہ دل سے چاہتے ہیں کہ مشکلوں کا حل نکلے، اوراسی لئے بار بار ایسا کر رہے ہیں۔

@ سنہا:کیا وہ کسی ایسے شیر پر سوار ہیں جس کی کمر سے نیچے نہیں اتر سکتے؟

nدلت: کیا آپ کا بھی یہی خیال ہے اور آپ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں؟

*درانی: یہ بات بالکل درست ہے۔ اگر آپ شیر پر سوار ہوں گے تو آپ کو یہ مشکل تو پیش آئے گی۔ لیکن جہاں تک ہمارے فوجی آمروں کا تعلق ہے تو ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف میں سے ضیاء سب سے زیادہ مذہب پرست تھے۔ لیکن جب ان دونوں کو ہمارے دونوں ملکوں سے روابط کا سامنا ہوا تو ان کے طریق جدا جدا تھے۔

nدلت: مشرف ان میں سے بہترین تھے۔۔۔ اور ہمارے لئے معقول ترین بھی تھے!

*درانی: بالکل!۔۔۔میرا مطلب ہے آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان تینوں آمروں اور ہمارے دوسرے سویلین سربراہانِ حکومت کے طرزِ عمل میں مذہب کا کوئی کردار نہ تھا۔

n دلت: کیا مذہب کا خیال ان سارے حکمرانوں کے دماغوں کی پشت پر بھی موجود نہ تھا؟

*درانی: نہیں بالکل نہیں۔۔۔ اگر ضیاء الحق بھارت سے بہتر روابط چاہتے تھے تو ان کو کسی قسم کی داخلی اپوزیشن کا کوئی سامنا نہ تھا۔ اور اگر مشرف بھی ایسا چاہتے تھے تو باوجود اس کے ان کا پس منظر اور خیالات سیکولر تھے، ملک کے کسی بھی طبقے میں اس سوال پر ان کو کسی مخالفت کا سامنا نہ تھا۔

@ سہنا: ایک ذاتی سوال کر رہا ہوں۔۔۔ آپ یہ بتایئے پاکستان میں آپ کا پسندیدہ ترین سیاستدان کون ہے؟

n دلت: میں دوسروں کے بارے میں تو کچھ نہیں جانتا لیکن جہاں تک میرا اپنا تعلق ہے تو بے نظیر بھٹو میری پسندیدہ ترین سیاستدان تھیں۔

*درانی: اوووں۔۔۔۔۔۔!

(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -