قومی راز افشاکرنے کا شرمناک فسانہ

30 مئی 2018 (02:23)

عائشہ نور

     اسد درانی اور ایس اے دولت کی مشترکہ کتاب " اسپائی کرونیکل : را  , آئی ایس آئی اینڈ الیوژن  آف پیس " ایک  متنازعہ  تصنیف ہے۔ اس کتاب میں لکھی  باتیں مبہم , غیر واضح ہیں اور یہ ذاتی قیاس آرائی پر مبنی ہیں ۔ اس  کا مقصد کچھ بھی ہو , بہرحال اسد درانی نے انتہائی غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر ایس اے دولت کے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے متعلق سوال پر اسددرانی نے کہا " میں یہ ٹی وی پر پہلے بھی کہہ چکا ہوں شاید ایسا ہو کہ ہم نے اسامہ بن لادن کو چھپا رکھا ہو, یا ہمیں بعد میں علم ہوا کہ وہ پاکستان میں ہیں تو  آئی ایس آئی نے فیصلہ کیا ہو کہ انہیں مشترکہ معاہدے کے ذریعے امریکہ کے حوالے کردیا جائے"۔

یہاں  پر "شاید " اور "یا" کا استعمال اسد درانی کی ڈس انفارمیشن پر دلالت کرتا ہے کہ انہیں خود پورا یقین نہیں بلکہ وہ صرف ایک اندازے سے کہہ رہے ہیں ۔ تاہم  اس کےلیے کسی ادارے کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ یہ کتاب کے مصنفین کی محض ذاتی قیاس آرائی ہے , جو کہ غلط بھی ہو سکتی ہے ۔ یادرہے کہ اسد درانی ایبٹ آباد آپریشن سے بہت پہلے ریٹائرڈ ہوچکے ہیں ۔ تو پوچھنا یہ تھا کہ اسد درانی کی رائے کی کتنی اہمیت باقی رہ جاتی ہے ؟؟؟ کتاب کا بیانیہ دو پرانے جاسوسوں کے درمیان ایک مکالمہ ہے , جس کا کسی ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

قومی  سلامتی کے ادارے ایسا رسک کیسے لے سکتے ہیں کہ کسی کو خود ایسی معلومات دے کر اپنے ملک میں آپریشن کی دعوت دیں؟؟؟

اگر ایسا تھا تو پھر ڈاکٹر شکیل آفریدی کا کیا کردار تھا؟؟؟ اور وہ کیوں جعلی پولیو مہم کے  بہانے امریکہ کی مدد کےلیے اسامہ بن لادن کی موجودگی کا سراغ لگانے کی کوشش کرتے رہے؟؟؟

بہرحال اس بات سے قطع نظر کہ اسد درانی نے ایسے مفروضے کیوں پیش کیے؟؟؟ اسد  درانی نے ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے ۔ یہ کوڈ آف کنڈکٹ ریٹائرڈ ہوجانے کے بعد بھی لاگو ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر اسد درانی کے دعوے سچ ہیں تو بھی وہ جواب دہ ہیں کہ انہوں نے ملک کے راز کیوں افشاء کیے؟؟؟  اگر یہ دعوے سچ نہیں تو بھی وہ جواب دہ ہیں اور بتائیں کہ قومی سلامتی کے اداروں پر ایسے سنگین اور بے بنیاد الزامات کیوں عائد کیے؟؟؟ 

آخر میں اسد درانی کے ماضی پر ایک نظر ڈالنی ضروری ہے , بے  نظیر بھٹو کی حکومت گرانے اور نواز شریف کو برسراقتدار لانے کےلیے اسد درانی نے جو منفی کردار ادا کیا تھا , وہ کسی سے مخفی نہیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ متنازعہ کتاب ایسے وقت میں منظر عام پر آئی جب نواز شریف ممبئی حملوں میں پاکستان کے کردار کا دعویٰ کرچکے ہیں ۔

اسددرانی نے ماضی میں بھی آئی ایس آئی کی شہرت کو نواز شریف کی خاطر نقصان پہنچایا اور نواز شریف کو ریسکیو کیا ۔ آج بھی اسد درانی وہی کر رہے ہیں ۔ آج اگر آئی ایس آئی کا کردار موضوع بحث بنا ہوا ہے تو فائدہ کس کا؟؟؟ بعض حلقوں کاجواب ہے نواز شریف کا ۔ نواز شریف کا یہ مشن بن چکا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں سے عوام کا اعتماد ختم ہوجائے اور اس کےلیے ہر حربہ آزمایا جارہاہے۔ آج نواز شریف کو دکھ اس بات کا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ماضی کی طرح ان کی آلہ کار کیوں نہیں ؟؟؟ اس بات کا بدلہ لینے کےلیے نواز شریف ساری حدیں پار کرچکے ہیں ۔  غدار اعظم شیخ مجیب ثانی کے عدلیہ اور فوج مخالف بیانیے کی کڑیاں اسد درانی کی کتاب سے ملانا ذرا بھی مشکل نہیں ۔ اسد درانی کا ماضی نواز دوستی کا ایک قابلِ مذمت باب ہے۔

پاک فوج نے اسد درانی کے  ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنےپر سخت نوٹس لیاہے ۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ غداری کے الزامات کے تحت اسد درانی کا کورٹ مارشل ہو اور ہونا بھی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی فرد فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد ایسے غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب فعل کا ارتکاب کرنےکی جرات نہ کر سکے ۔

 ۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں