حکومتوں اور اسمبلیوں نے مدت پوری کی، ایک روز باقی رہ گیا

حکومتوں اور اسمبلیوں نے مدت پوری کی، ایک روز باقی رہ گیا

  

موجودہ اسمبلیوں اور حکومتوں کی مدت میں صرف ایک روز باقی رہ گیا، کل (31 مئی) کی آدمی رات کے بعد یہ اپنا اپنا عہد پورا کرکے رخصت ہو جائیں گی سندھ اور کے پی کی تحلیل ہو چکیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے عام انتخابات کے لئے تجویز کردہ تین تاریخوں میں سے صدر مملکت نے 25 جولائی کی تاریخ متعین کردی اور اس روز قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت ہوں گے، بعض حلقوں کا تاثر ایک ہی روز میں دونوں اسمبلیوں کا انتخاب مناسب نہیں، تاہم بھاری اکثریت نے اسے بہتر قرار دیا کہ اس سے دھاندلی کے امکان کم ہوجاتے ہیں اور یوں بھی وقت اور انرجی کی بھی بچت ہوتی ہے، بہرحال 25 جولائی متعین دن ہے۔ انتخابات کے حوالے سے اہم جماعتوں نے تو باقاعدہ انتخابی مہم شروع کررکھی ہے، اس میں شدید قسم کی محاذ آرائی کا پہلو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، الیکشن کمیشن کی طرف سے ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا اور کل (31 مئی) کو تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس بھی طلب کیا ہے، اس میں اس ضابطہ اخلاق اور نئی تجاویز پر بھی غور ہوگا، کہ انتخابات پر امن اور بہتر ماحول میں منعقد ہوسکیں۔

سیاسی جماعتوں نے جو انتخابی مہم شروع کررکھی ہے، اس میں ایک دوسرے کے خلاف الزام لگانا تو معمول ہے تاہم یہاں دشنام طرازی بھی ہوتی ہے، جو یقیناً مناسب عمل تو نہیں، بہرحال جو اہم جماعتیں میدان میں ہیں ان میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، متحدہ مجلس عمل اور مسلم لیگ (ق) کے علاوہ اے این پی اور بلوچستان کی نئی جماعت کے علاوہ ایم کیو ایم سے جدا ہوکر پاکستان سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم کے دونوں دھڑے بھی شامل ہیں، الیکشن کمیشن کی طرف سے جو شیڈول متوقع ہے اس کے مطابق 6 جون تک کاغذات نامزدگی جمع کرانا ہوں گے، یہ امکانی تاریخ ہے اور سیاسی جماعتوں کو بھی اسی مناسبت سے ٹکٹوں کی حد تک اپنی مکمل تیاری کرنا ہوگی، تحریک انصاف نے تو 31 مئی سے بالترتیب ٹکٹوں کی تقسیم کرکے اعلان بھی شروع کردیا ہے، البتہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی طرف سے درخواستوں کی وصولی والی تاریخ میں 31 مئی تک اضافہ کیا، چنانچہ ان کی طرف سے معمولی تاخیر ممکن ہے جبکہ ایم کیو ایم اور دوسری قابل ذکر جماعتیں بھی اپنا اپنا ہوم ورک کرچکی ہوئی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کا جہاں تک تعلق ہے تو جاتی امرا میں دو روز تک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوئے صدارت قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف نے کی، پہلے روز مصروفیات کی وجہ سے وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر محمد شہباز مصروفیت کے باعث موجود نہیں تھے، تاہم دوسرے روز کے اجلاس میں یہ فیصلہ ہوگیا کہ پارٹی ٹکٹ قائد مسلم لیگ محمد نواز شریف تقسیم کریں گے اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر محمد شہباز سے مشاورت ہوگی۔ بعض حلقے اس فیصلے کو معنی پہنانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کا سلسلہ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کے نیب والے بیان سے جوڑ رہے ہیں کہ خادم اعلیٰ نے نیب کو آئینی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب کسی کو بھی بلانے کا اختیار رکھتا ہے اور اگر ان (شہباز) کو پھر بلایا گیا تو وہ ضرور جائیں گے، ان حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف اور بڑے بھائی کے درمیان بعض امور پر اختلاف ہے اور یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ جماعت پر سابق وزیراعظم ہی کا مکمل غلبہ ہے، اور ٹکٹوں کی تقسیم کا اختیار بھی مرکزی صدر کے پاس نہ ہو تو پھر وہ عہدہ نمائشی ہی رہ جاتا ہے، بہرحال مسلم لیگ (ن) اور جاتی امرا کے ذرائع نے کسی نوعیت کے اختلاف کی مکمل تردید کی ہے، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمانی بورڈ بنا دیا ہے اور اس میں فرحت اللہ بابر کے ساتھ چودھری اعتزاز احسن اور قمر الزمان کائرہ کو بھی شامل کیا گیا، بلاول بھٹو زرداری اور خود آصف علی زرداری نے لاہور میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے مشاورت کی جبکہ اسلام آباد میں جماعت کا اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد کیا اور اہم فیصلے کئے، اب بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے ٹکٹوں کے فیصلے کرنے کے لئے تیز کام کرنے کی بھی ہدائت کی ہے، یوں جون کے پہلے دو ہفتے کاغذات نامزدگی کے حوالے سے اہم اور گہما گہمی والے ہوں گے، ساتھ ساتھ انتخابی مہم بھی جاری رہے گی۔پیر کو ایٹمی دھماکوں کی سالگرہ تھی، 20سالگرہ کا جشن مسلم لیگ (ن) نے بھرپور انداز میں منایا لاہور الحمرا میں بڑی تقریب ہوئی سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور مریم نواز نے خطاب کیا۔

موسم نے شدت اخیتار کرلی، یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بالائی علاقوں میں درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئر پگھلنے کی رفتار تیز ہوجائے گی اور اس سے خدشہ ہے کہ پھر سے کوئی نئی جھیلیں نہ بن جائیں اور پھر ان کے پانی کے اخراج سے نیچے والے علاقوں میں نقصان ہوگا، اس کے علاوہ فصل خریف اور فصل ربیع کے لئے پانی کی قلت بھی ہوگی اس سے پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ پہلے ہی ملک میں اجناس ہی نہیں، اشیاء خوردنی کی کمی اور گرانی پائی جاتی ہے، مزید اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -