سندھ اسمبلی تحلیل، نگران وزیر اعلیٰ کا انتخاب نہ ہوسکا

سندھ اسمبلی تحلیل، نگران وزیر اعلیٰ کا انتخاب نہ ہوسکا

  

کراچی(نصیر احمد سلیمی) مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے وفاق اور پنجاب میں نگران وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب اتفاق رائے سے کرکے ایک روشن مثال قائم کی ہے، آئین کی روح اور منشاء کے مطابق پہلی بار ایک اجلے کردار کی حامل، مکمل طور پر غیر جانب دار اور غیر متنازعہ شخصیت کا انتخاب عمل میں آیا ہے، اللہ کرے ان کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات بھی غیر متنازعہ ہوں، 28مئی کی شب رات بارہ بجے سندھ اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرکے تحلیل ہوگئی ہے، تاہم وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری تک (جو 31مئی تک ہونا چاہئے) اپنے منصب پر برقرار رہیں گے۔

مسلم لیگ ن کی حکومت نے وفاق اور پنجاب میں اتفاق رائے سے نگران سیٹ اپ کا انتخاب کرکے ایک اچھی روایت قائم کی ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ ان سطور کی اشاعت تک سندھ میں وزیراعلیٰ اور قائد حزب اختلاف نگران سیٹ اپ پر اتفاق کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دانش مندی تو یہی ہوگی کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی طرح باہم مشاورت میں نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق کر لیں۔ سندھ میں نگران وزیراعلیٰ کے لئے جو نام گردش کر رہے ہیں۔ ان میں ایک نیا نام ’’حمیر سومرو‘‘ کا ہے۔ ’’حمیر سومرو‘‘ اللہ بخش سومرو کے پوتے ہیں جو پیشہ کے اعتبار سے آرکیٹیکٹ ہیں۔ کراچی میں انڈس ویلی میں پڑھاتے بھی ہیں۔باقی ناموں میں ایم کیو ایم کی طرف سے آفتاب شیخ، سندھ کے سابق وزیراعلیٰ سید غوث علی شاہ، سندھ کے دو سابق چیف سیکرٹریز، فضل الرحمن اور غلام علی شاہ کے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی پہلی ترجیح غلام علی شاہ کی بتائی جا رہی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ وفاق اور پنجاب کی طرح کسی نئے نام پر اتفاق ہو جائے۔ البتہ ایم کیو ایم پہلی بار نگران سیٹ اپ میں اپنی اس حیثیت سے محروم ہو گئی ہے جو 1990ء سے لے کر سندھ میں 2013ء کے عام انتخابات میں نگران سیٹ اپ کے قیام تک حاصل رہی تھی۔ پیپلزپارٹی نے سندھ میں 1971ء سے لے کر 2013ء تک چھ بار حکومتیں بنائی ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کا اقتدار مجموعی طور پر 20 سال سے زیادہ دورانیہ کا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے، جس کی حکومت نے تین بار اپنی پانچ پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔1970ء کے انتخابات کے سوا جس میں پیپلزپارٹی سندھ اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت تو تھی مگر حکومت سازی کے لئے اسے پیرپگارو کے گروپ سے منتخب ہونے والے جام صادق سمیت پانچ ارکان سندھ اسمبلی کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا پڑا تھا۔ یہاں یہ ذکر نامناسب نہ ہوگا کہ 1970ء کے انتخاب میں پیپلزپارٹی کا پاور بیس سندھ نہیں پنجاب تھا۔ جبکہ 1988ء سے لے کر تاحال اس کا پاور بیس دیہی سندھ ہے۔ 1988ء، 1993ء ،2008ء میں وفاق میں پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومتیں سندھ میں ملنے والے بھاری مینڈیٹ کی مرہون منت تھیں۔ 1988ء، 1993ء، 2008ء اور 2013ء میں پیپلزپارٹی کو سندھ اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل رہی ہے جس کی وجہ سے اسے سندھ کی حکومت میں کسی دوسری جماعت کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں تھی، مگر 1988ء سے 1993ء اور 2008ء میں پیپلزپارٹی کو وفاق میں اپنی مخلوط حکومت قائم کرنے کے لئے ایم کیو ایم کو مرکز کے ساتھ سندھ کی حکومت میں شامل کرنے کی ایسی مجبوری رہی، جسے نظر انداز کرنا نہ تو بے نظیر بھٹو (شہید) کے لئے ممکن تھا اور نہ ہی آصف علی زرداری کے لئے، 1993ء میں ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کے انتخاب کا بائیکاٹ کرکے خود ہی محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایم کیو ایم کے قائد کے ناز نخرے اٹھانے کی مجبوری سے بے نیاز کر دیا تھا۔جبکہ 2013ء میں پیپلزپارٹی سندھ کے علاوہ باقی تینوں صوبوں سے آؤٹ ہو گئی، جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ 1988ء سے 2013ء تک پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم ہی صوبہ کی نمائندہ جماعتیں بنی رہیں۔ نیز ان دونوں بڑی جماعتوں کو ہی دیہی سندھ اور شہری سندھ کی نمائندگی حاصل رہی۔ البتہ 1993ء اور 1997ء میں مسلم لیگ(ن) نے بھی سندھ سے قابل ذکر تعداد میں ووٹ اور قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں نشستیں حاصل کی تھیں۔ 2002ء کے انتخاب میں ایم ایم اے نے سندھ سے قومی اسمبلی میں چھ اور سندھ اسمبلی میں دس نشستیں حاصل کی تھیں، جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کو قومی اسمبلی کی چھ نشستوں سے اور سندھ اسمبلی میں دس نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ اس بار ایم ایم اے اور مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی کیا ہوگی؟ اس بارے میں ان دونوں جماعتوں کی طرف سے دعوے تو بڑے بلند بانگ سامنے آ رہے ہیں، مگر عملاً کیا ہوگا؟ اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ البتہ ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندی سے پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کرنے کے لئے عمران خان بڑے پُرامید ہیں اور کراچی میں بڑے متحرک ہیں۔27مئی اتوار کے روز بھی وہ ایک روزہ دورہ پر کراچی آئے تھے۔ ان کے پروگرام میں فنڈریزنگ کے علاوہ ملیر میں تحریک انصاف کے جلسہ سے خطاب بھی شامل تھا جو آخری وقت میں سیکیورٹی خدشات کے باعث نہ ہو سکا۔ عمران خان مقامی ہوٹل میں فنڈ ریزنگ کی تقریب میں شرکت کرکے اسی روز واپس اسلام آباد چلے گئے۔

تحریک انصاف کے کوائف سے واقف ذرائع عمران خان کا ملیر کے جلسہ سے خطاب نہ کرنے کی وجہ سیکیورٹی خدشات کے علاوہ پارٹی کے اندر گروپ بندی بھی بتا رہے ہیں۔ ملیر کا شو حلیم عادل شیخ کرانا چاہتے تھے جبکہ کراچی میں پارٹی کے دوسرے بااثر گروپ کو ملیر کے شو کے حوالہ سے تحفظات تھے۔ ان کا خیال تھا کہ حلیم عادل شیخ ملیر میں اتنا مجمع اکٹھا نہیں کر سکیں گے۔

جناب آصف علی زرداری نے دبئی سے واپسی پر اپنے وعدے کے مطابق نواب شاہ سے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔2018ء کے انتخاب میں زرداری خاندان کے چار افراد براہ راست حصہ لیں گے۔ جس میں بلاول بھٹو زرداری لاڑکانہ ،ایاز سومرو (مرحوم) والی نشست سے جناب آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) والی نشست نوڈیرو سے جبکہ فریال تالپور کے شوہر اور آصف علی زرداری کے بہنوئی منور تالپور میرپور خاص ڈویژن اپنے آبائی حلقہ سے جبکہ آصف علی زرداری کی چھوٹی بہن عذرا پیجو ہو جو اس وقت نواب شاہ سے قومی اسمبلی کی رکن ہیں ان کے بارے میں زرداری صاحب نے اعلان کر دیا کہ ان کو خواتین کی مخصوص نشست سے کامیاب کرایا جائے گا۔ اس طرح آنے والی قومی اسمبلی میں زرداری خاندان کے پانچ افراد حصہ لیں گے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندی سے پیدا ہونے والے خلاء نے پیپلزپارٹی سمیت دوسری تمام قومی جماعتوں کے لئے قومی سیاست کے جو امکانات پیدا کئے تھے۔ وہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سندھ میں جنوبی سندھ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعنت بھیج کر ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہنے والے تو یہ کہہ رہے ہیں کہ سید مراد علی شاہ نے ایسا اندرون سندھ پیپلزپارٹی کے ووٹ بینک کو دوسری جماعتوں کی طرف دیکھنے سے روکنے کے لئے کیا ہے۔ سید مراد علی شاہ اور ان کے عاقبت نااندیش ہمنواؤں کے اس طرز عمل نے ’’مہاجر کارڈ‘‘ پھر سے توانا کر دیا ہے۔ اس کا سارا فائدہ الطاف حسین کے بیانیہ کو ہوگا۔ یہ درست کہ ایم کیو ایم داخلی خلفشار اور اسٹیبلشمنٹ کے دست شفقت سے محروم ہونے کے باعث شدید بحران کا شکار ہو کر اس قابل نہیں رہی کہ وہ جم کر 2018ء کا انتخاب لڑ سکے۔ مگر جنوبی سندھ کے صوبہ کے مطالبہ پر پیپلزپارٹی کے ردعمل نے سندھ کی شہری آبادی کو پیپلزپارٹی سے مزید دور کر دیا ہے۔ اب ایم کیو ایم کے مخالف برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی سندھ کے شہری علاقوں کے باسیوں کو نہ تو وسائل میں ان کا جائز حق کبھی دے گی اور نہ ہی وہ ان کے مصائب و مشکلات کو کم کرنے کے لئے کسی صورت آمادہ و تیار ہے۔اس طرز عمل اور خراب حکمرانی نے شہری سندھ کے ان باسیوں کو شدید مایوس کر دیا جو ایم کیو ایم کے قیام کے اول روز سے اس کی لسانی سیاست کے سامنے سینہ سپر رہے اور میدان میں ڈٹے رہے اور ہر طرح کی آزمائش سے گزرے۔

پیپلزپارٹی اب بھی ہوش کے ناخن لے۔ جنوبی سندھ کے صوبہ کے مطالبہ پر پیپلزپارٹی کے ردعمل نے ان لوگوں کو بھی مایوس کیا ہے۔ جنہوں نے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ(ن) کے مضبوط ووٹ بینک رکھنے والے علاقوں سے پہلی بار پیپلزپارٹی کے امیدوار سعید غنی کو ضمنی انتخاب میں اس امید پر کامیاب کرایا تھا کہ اس سے تعصب اور نفرت پر مبنی نسلی اور لسانی سیاست سے جان چھوٹ جائے گی۔ واضح رہے کہ اس حلقہ میں پیپلزپارٹی 1970ء سے 2017ء تک کبھی بھی کامیابی تو درکنار اپنے امیدواروں کی ضمانت بھی نہیں بچا پاتی تھی۔

پیپلزپارٹی کو سندھ کے شہری علاقوں میں آباد غیر سندھی بولنے والے سندھیوں کا اعتماد حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اسے اللہ نے جو موقع دیا تھا وہ کھو دیا گیا ہے۔ آنے والے انتخاب میں پیپلزپارٹی کے امیدواروں پر ایک نئی افتاد یہ آن پڑی ہے کہ سندھ میں اس کے کئی بڑے رہنماؤں جن میں سید ناصر حسین شاہ اور منظور وسان جیسے منہ زور طاقت ور وزیر شامل ہیں۔2013ء کے انتخاب میں اپنے ’’اقاموں‘‘ کا کاغذات نامزدگی میں اندراج نہ کرنے کی وجہ سے مصیبت میں آ گئے ہیں۔ 28مئی کو جس دن سندھ اسمبلی اور سندھ کابینہ تحلیل ہو رہی تھی۔ اسی دن سندھ ہائی کورٹ میں ان کے خلاف پٹیشن داخل ہو گئی ہے۔انہوں نے دبئی میں اپنی ملازمت اور کاروبار کا ذکر 2013ء کے کاغذات نامزدگی میں نہیں کیا تھا، اگر معروف صحافی اور اینکر پرسن جناب حبیب اکرم کی رٹ پٹیشن پر لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا 2013ء والا کاغذات نامزدگی فارم بحال کردیا یا قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کے تیار کردہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی فارم میں اس حد تک بھی ترمیم کرنے کا حکم صادر کر دیا کہ ہر امیدوار کو اپنے کاروبار کی تفصیل اور دہری شہریت اور دوسرے ممالک میں ملازمت یاکسی اور ملک میں اقامہ رکھنے یا نہ رکھنے کا حلف دینا لازمی ہوگا۔ تب بھی پیپلزپارٹی کے کئی مضبوط امیدوار اس حلف کی نذر ہو جائیں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -