یونیورسٹی قبضہ سکینڈل ، اراضی واپس بحق سنٹرل گورنمنٹ کیے جانے کی تصدیق

یونیورسٹی قبضہ سکینڈل ، اراضی واپس بحق سنٹرل گورنمنٹ کیے جانے کی تصدیق

  

لاہور(اپنے نمائندے سے )جوہر ٹاؤن میں واقع نجی یونیورسٹی قبضہ سیکنڈل، محکمہ ریونیو نے جعلی الاٹمنٹ کینسل کیے جانے اور اراضی واپس بحق سنٹرل گورنمنٹ کیے جانے کی تصدیق کردی ۔ محکمہ اینٹی کرپشن نے بھی تحقیقات کا دائرہ کار بڑھادیا۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ جوہر ٹاؤن میں واقع وفاقی حکومت کی124کنال سرکاری اراضی پر نجی یونیورسٹی کے شعبے کی نشاندہی پر جہاں محکمہ ریونیو انتظامیہ حرکت میں آچکی ہے۔ وہاں محکمہ اینٹی کرپشن نے ابھی اپنی تحقیقات کے دائرہ کار بڑھادیا ہے۔ مبینہ اطلاعات کے مطابق محکمہ ریونیو کے پٹوار سرکل اجودھیا پور کے سابق پٹواری شیخ عمر فاروق کی جانب سے محکمہ اینٹی کرپشن کو دی جانے والی رپورٹ میں واضع کیا گیا ہے کہ خسرہ نمبر426 اور428میں غلام محی الدین کے نام سے کی جانے والی الاٹمنٹ جعلی اوربوگس ہونے کی بنیاد پرخارج کردی گئی تھی اور رقبہ واپس وفاقی حکومت کے نام منتقل کردیا گیا تھا۔ رپورٹ میں چیف سٹیلمنٹ کمشنر پنجاب کے فیصلے کا بھی حوالہ دیاگیا ہے اور موجودہ حالات میں ملکیت کے حوالے سے بھی واضع کرکے مالک وفاقی حکومت کو قرار دیا ہے۔ دوسری جانب محکمہ ریونیو کی جانب سے ملکیت کے حوالے تصدیق کیے جانے پر محکمہ اینٹی کرپشن نے بھی تحقیقات تیز کردی ہیں اور اس اراضی کے قبضے کی بابت مختلف پہلوؤں پر انویسٹی گیشن کا آغاز کردیا ہے تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -