اداروں میں آسامیوں کے باوجودبھرتیاں نہیں کی جاتیں، خوش بخت شجاعت

اداروں میں آسامیوں کے باوجودبھرتیاں نہیں کی جاتیں، خوش بخت شجاعت

  

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پوسٹل سروسز نے پا کستان پوسٹ کی شرح منافع کم کرنے پر وزارت خزانہ کے حکام کو طلب کر لیا، چیئرپرسن سینیٹر خوش بخت شجاعت نے کہا کہ پاکستان کے اندر غربت اور بیروزگاری روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، اداروں ہیں آسامیاں خالی ہونے کے باوجودبھرتیاں نہیں کی جاتیں، پاکستان پوسٹ میں جلد از جلد میرٹ پر برتیاں کی جائیں،ڈی جی پوسٹل سروسز روبینہ طیب نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان پوسٹ 10بلین روپے خسارے کا شکارہے،پاکستان پوسٹ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے،12سال سے ادار ے میں بھرتیاں نہ کیے جانے کے باعث شدیدافرادی قوت میں کمی کا سامنا ہے، ادارے میں نئے طریقے اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کروا رہے ہیں،منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پوسٹل سروسز کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر خوش بخت شجاعت کی سربراہی میں ہوا۔ کمیٹی میں سیکریٹری پوسٹل سروسز، ڈی جی پوسٹل سروسزروبینہ طیب اور ادارے کے دیگر سینئرحکام نے شرکت کی۔ ڈی جی پوسٹل سروسز روبینہ طیب نے کمیٹی کو ادارے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پوسٹل سروسز کا محکمہ اس وقت مشکلات کا شکار اور حکومت کی توجہ کا طلبگار ہے۔ وزارت پوسٹل سروسز ایک الگ وزارت کے طور پر 2008میں بنائی گئی جس کو 2013میں ختم کر دیا گیا، بعد ازاں اس محکمے کو دوبارہ 2017میں الگ وزارت کی شکل دیدئی گئی۔ پاکستان پوسٹل سروسز بین الاقوامی ادارے یونیورسل پوسٹل یونین کا ایک فعال رکن ہے، فخر کی بات ہے کہ اس سال پاکستان یونیورسل پوسٹل یونین کا نائب چئیرمین منتخب کیا گیا ہے ۔ پاکستان پوسٹ کی جدت اور مہارت کو جدید دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ دور جدید میں پوسٹ میں نئے طریقے متعارف ہونے کے باعث پاکستان پوسٹ کو اپنی بقا کیلئے خدشات لاحق ہیں اس لئے ہم پاکستان پوسٹ کے اندر نئے طریقے اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کروا رہے ہیں۔اس ادارے کے پاکستان بھر میں11ہزار ڈاکخانے ہیں جن میں سے85فیصد دیہی علاقوں میں ہیں ۔ بین الاقوامی دنیامیں ڈاکیہ سسٹم کو ختم کر دیا ہے لیکن کیونکہ پاکستان اتنا جدید نہیں ہوا اس لیے ابھی تک ڈاکیہ سسٹم موجود ہے۔ پاکستان پوسٹل سروسز میں پچھلے12سالوں سے بھرتیاں نہیں کی گئیں جس کے باعث ادارے کو شدیدافرادی قوت میں کمی کا سامنا ہے۔ موجودہ حکومت میں ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ادارے کے اخراجات کو صحیح انداز میں پوراکیا جا سکے۔ اس سال پاکستان پوسٹ 10بلین روپے خسارے کا شکار رہی جس میں سے 5بلین روپے ملازموں کی پنشن اور تنخواہوں میں اضافی خرچ ہوتے ہیں۔سال2007سے وزارت خزانہ نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان پوسٹ کی شرح منافع میں کمی کرتے ہوئے اس کو 1.5سے کم کر کے0.5کر دیا جس کے بعد سے ادارہ خسارے میں جا رہا ہے۔ 2018الیکشن کا سال ہے، اس لیے الیکشن کمیشن نے پاکستان پوسٹ پر6کروڑ بیلٹ پیپرز کی ترسیل کرنے کی ڈیوٹی لگائی ہے۔ اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود پاکستان پوسٹ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ اگر حکومت اس ادارے کو تھوڑی سی بھی اہمیت دے تو یہ ادارہ حکومت کیلئے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس پر کمیٹی کی چئیرپرسن سینیٹرخوش بخت شجاعت نے کہا کہ حیران کن بات ہے کہ ادارے کے اندر12سال سے بھرتیاں نہیں ہوئیں اور متعلقہ حکام ے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

خوش بخت شجاعت

مزید :

علاقائی -