ڈاکٹراشتیاق احمد کی تقرری میرٹ کی بنیاد پر ہے،لاہور ہائی کورٹ

ڈاکٹراشتیاق احمد کی تقرری میرٹ کی بنیاد پر ہے،لاہور ہائی کورٹ

  

سرگودھا (بیوروچیف ) لاہور ہائیکورٹ کا یونیورسٹی آف سرگودھا کے وائس چانسلر تقرری کیس میں تفصیلی فیصلہ سامنے آ گیا جس میں لاہور ہائی کورٹ نے واضح طور پر قراردیا ہے کہ یونیورسٹی آف سرگودھا کے ڈاکٹراشتیاق احمد کی تقرری میرٹ کی بنیاد پر تھی اور اس میں کسی قسم کی فیور یا اقربا پروری شامل نہ تھی جبکہ ان کی ریسرچ پبلیکیشنز مطلوبہ تعداد سے زائد اور مستند جرنلز میں شامل ہیں۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ آکسفورڈ میں پاکستان چیئر پر تقرری ان کے ڈین کے عہدہ کے برابر تصور ہوگا۔ وزارت خارجہ کی طرف سے لکھے گئے خط کے مطابق وہ آکسفورڈ برطانیہ میں پاکستان چیئر پر ڈین کے عہدہ کے برابر جبکہ قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی طرف سے لکھے گئے خط کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں کہا گیا کہ ڈاکٹر اشتیاق احمد ایک ممتاز مصنف اور ڈائریکٹربین الاقوامی تعلقات و سیاسیات قائد اعظم یونیورسٹی رہ چکے ہیں اور ان کا انتظامی تجربہ معیار کے مطابق ہے۔جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ہائر ایجوکیشن پنجاب کی طرف سے بھی اس ضمن میں جواب داخل کرایا گیا تھا کہ ڈاکٹر اشتیاق احمد مطلوبہ اہلیت اور معیار پر پورا اترتے ہیں۔ہائی کورٹ نے حسنین رضا باروی ایڈوکیٹ کی طرف سے کی گئی استدعا کو مسترد کر دیا کہ ڈاکٹر اشتیاق احمد ٹنیور سسٹم پر ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طورپر تعینات ہیں۔لاہور کائیکورٹ نے قرار دیا کہ انتظامی لحاظ سے ڈاکٹر اشتیاق احمد بطور وائس چانسلر تقرری کے اہل ہیں جبکہ ان کی اہلیت کے مطلوبہ نمبرز پورے تھے۔جسٹس شاہد کریم نے حسنین رضا باروی کے تینوں دلائل مسترد کر دیے جس میں انہوں نے وائس چانسلر کو تقرری، تعیناتی اور انتظامی تجربہ کے لحاظ سے چیلنج کیا تھا۔ فیصلہ میں جسٹس شاہد کریم نے واضح طور پر لکھا ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی طرف سے د ائر جواب جس میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر اشتیاق احمد وائس چانسلر کی اہلیت پر پورا اترتے ہیں اور سرچ کمیٹی نے انہیں وائس چانسلر کے لیے موزوں ترین امیدوار قرار دیا۔

ڈاکٹر اشتیاق تقرری

مزید :

علاقائی -