سخت پولیسنگ سے کراچی کے مسائل حل نہیں ہوسکتے،آئی جی سندھ

سخت پولیسنگ سے کراچی کے مسائل حل نہیں ہوسکتے،آئی جی سندھ

  

کراچی(این این آئی)آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا ہے کہ کراچی کو بد قسمتی سے کوئی اون نہیں کرتا، امن وامان سے کاروبار میں تیزی آتی ہے۔ شہر میں پائیدار امن کے لیے تعصب کا خاتمہ ضروری ہے اور سخت پولیسنگ سے کراچی کے مسائل حل نہیں ہو سکتے، رمضان میں بھکاریوں کی طرح جرائم پیشہ افراد بھی کراچی آ جاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وفاق ایوانہائے صنعت وتجارت (ایف پی سی سی آئی)کے دورے کے موقع پر تاجروصنعتکاروں سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ بزنس کمیونٹی اور امن وامان کا براہ راست تعلق ہے، کراچی میں یہ چوتھا آپریشن تھا، پولیس اور رینجرز نے امن و امان کے لیے بہت قربانیاں دیں۔ کراچی میں تعصب پر لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے، یہاں سب سے زیادہ زمینوں پر قبضہ نظر آتا ہے، لسانی بنیاد پر قتل ہوتا ہے تو اس کے ری ایکشن کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ رمضان میں بھکاریوں کی طرح جرائم پیشہ افراد بھی کراچی آ جاتے ہیں، لیکن اب ہم اندرون سندھ اور پنجاب کے ساتھ رابطوں میں ہیں، صوبوں کے رابطے جرائم پیشہ افراد سے متعلق ہیں۔انہوں نے کہاکہ کراچی پورٹ پر کام ہو رہا ہے، مال نکالنے کے لیے سڑک کی گنجائش نہیں ہے، عدالت نے آئل ٹینکرز کو شہر میں داخلے سے روکا تو انہوں نے ہڑتال کردی۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی میں پولیس اہلکار 27 ہزار جبکہ لاہور میں 28 ہزار ہیں، شہر قائد میں 7 سے 8 ہزار نئے اہلکار بھرتی کیے گئے ہیں، شہر کے سیکیوریٹی انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، ڈیپ سی پورٹ تو بن گیا لیکن انفرااسٹرکچر کے لئے کچھ نہیں کیا گیا، لاہور کا سیف سٹی پراجیکٹ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، لاہور کی ڈولفن فورس ایک جدید فورس ہے جو بہتر کام کررہی ہے۔

آئی جی سندھ

مزید :

علاقائی -