نیشنل فوڈ سکیورٹی پالیسی سے غربت اور غذائی قلت کا خاتمہ ہو گا : سکندر بوسن

نیشنل فوڈ سکیورٹی پالیسی سے غربت اور غذائی قلت کا خاتمہ ہو گا : سکندر بوسن

  

اسلام آباد (آئی این پی)وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر بوسن نے نیشنل فوڈ سکیورٹی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی کے مزید مخصوص مقاصد تخفیف غربت بھوک اور غذائی قلت کا خاتمہ ہو گا، غذا پیدا کرنے کے پائیدار نظاموں کو فروغ دینا جو کہ 4 فیصد سالانہ کی اوسطا شرح نمو سے حاصل کئے جائیں گے اور زراعت کو مزید زیادہ پیداواری منافع بخش مسابقتی اور ماحول کو یکسو کرنے والا بنایا جائے گا، غذائی اشیا کی پیداوار میں اضافہ کے ذریعے خوراک کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا،کسانوں کی معیاری بیجوں، کھادوں، کیڑے مار ادویات اور قرضوں وغیرہ تک رسائی میں بہتری کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ مزید برآں زرعی شعبہ کی بہتر تکنیکس اور گڈایگریکلچر پریکٹسز کو فروغ دیا جائے گا اور لینڈ اور پانی کی مینجمنٹ جیسے مسائل حل کئے جائیں گے۔وہ گزشتہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی)میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے قیام سے ہی خوراک کے قومی سطح پر تحفظ کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کیلئے کوئی پالیسی فریم ورک نہیں تھا۔ ہماری حکومت نے اس مسئلہ پر بھرپور توجہ دی اور صوبائی حکومتی بین الاقوامی اداروں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے اشتراک سے سٹریٹجک پالیسی بنائی اور یہ کام ترجیح بنیادوں پر کیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پالیسی سے ہنگامی حالات اور سانحات کے دوران خوراک کی دستیابی رسائی اوریعنی خوراک کے محفوظ ذخائر کو استعمال کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ پالیسی میں تحقیق کو ترجیحی شعبوں میں رکھا گیا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی پانی کی کمی کے دباؤ کیڑے مار ادویات بیماریوں اور دیگر چیلنجز پر قابو پایا جاسکے۔سکندر بوسن نے کہا کہ پاکستان میں فوڈ کرافٹ وافر مقدار میں دستیاب ہے جن میں سے کئی اشیا ہم دوسرے ممالک کو برآمد کررہے ہیں،ملک میں جون کے بعد پانی کی صورتحال میں بہتری آجائے گی تاہم دستیاب پانی کو صحیح استعمال کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں 97فیصد چھوٹے کاشتکار ہیں جن کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے برسوں کی نسبت اس سال پانی کی دستیابی کی کمی ہے تاہم جون کے بعد پانی وافر مقدار میں موجود ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پانی کی دستیابی اور صحیح استعمال ہونا چاہئے جو پانی موجود ہے اس کو صحیح استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ شوگر کنٹرول ایکٹ کے تحت ایکٹ نافذ العمل ہے اس ایکٹ کے تحت سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔کاٹن کی فصل کو نقصان وہاں پر ہوا ہے جہاں پر گنا زیادہ کاشت ہوا ہے کاشتکاروں کو محنت کا معاوضہ ملنا چاہئے ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ تین مرتبہ قومی اور تین مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن رہے ہیں ان کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے ان کا کوئی کاروبار نہیں ۔پاکستان میں 97فیصد چھوٹے زمیندار ہیں ان زمینداروں کی تکلیفوں کا ازالہ کرنا مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کے ہاتھ پکڑنے کی ضرورت ہے ہم نے اپنے دور میں کھاد کی قیمت کو کم کیا ہے تاکہ چھوٹے کاشتکاروں کو فائدہ حاصل ہو سکے۔سبسڈی کے بجائے ہم نے ٹیکسز بھی کم کئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایگری کلچر کونسل کے ساتھ مل کر نئے بیج میں اضافہ کیا ہے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی اقدامات کئے ہیں کوئی کم مدتی بیج ہوں تاکہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے جو اثرات ان فصلوں پر آتے ہیں ان کا زیادہ نقصان نہ ہو سکے۔

نیشنل فوڈ سکیورٹی پالیسی

Bac

مزید :

علاقائی -