قومی اسمبلی، ہر سال 15رمضان کو یوم یتامیٰ منانے کی قرارداد متقفہ طور پر منظور

قومی اسمبلی، ہر سال 15رمضان کو یوم یتامیٰ منانے کی قرارداد متقفہ طور پر منظور

  

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں)قومی اسمبلی میں ہر سال 15 رمضان المبارک یوم یتامیٰ منانے کے مطالبے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور ، الیکشن بل کواپنے ووٹ بنانے اور دوسروں کے خراب کرنے کیلئے استعمال کیا گیا، طلال چودھری،جمعیت علمائے اسلام (ف)کا مردم شماری کے عبوری نتائج میں اقلیتوں کی آبادی کم ظاہر کرنے پر تحفظات کا اظہار ۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی نے ہر سال 15 رمضان المبارک یوم یتامیٰ منانے کے مطالبے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں ن لیگ کے رکن ملک ابرار احمد نے معمول کی کارروائی روک کر قرارداد پیش کئے جانے کی تحریک پیش کی جس کی منظوری کے بعد انہوں نے ایوان میں قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان متفقہ طور پر حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ 15 رمضان المبارک کو یوم یتامیٰ کے طور پر منانے کا اعلان کرے۔ قرارداد میں بتایا گیا کہ او آئی سی نے ہر سال 15 رمضان المبارک عالمی یوم یتامیٰ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے‘ میڈیا ‘ سول سوسائٹی سمیت دیگر ادارے معاشرے میں یتیموں کے مقام کے بارے میں آگاہی مہم چلائیں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ان یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے توجہ دلاؤنوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن بل کواپنے ووٹ بنانے اور کسی کے ووٹ خراب کرنے کیلئے استعمال کیا گیا، الیکشن سے قبل کافر کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کی کوشش کی گئی، فیض آباد دھرنے کے حوالے سے 27 مقدمات درج کئے گئے جن میں 12 دہشت گردی کی دفعہ کے تحت درج ہوئے اور 418 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، تمام ملزمان ضمانت پر ہیں،ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اس ایوان میں حلف اٹھاتے ہیں اور پھر یہیں کھڑے ہو کر جھوٹ بولتے ہیں، چوہدری نثار کے گھر پر دھاوا پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس کی تحقیقات جاری ہے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے بیان دیا کہ چوہدری نثار کے گھر پر فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوئے۔ ایک جاں بحق ہونے والے شخص کے و الد نے بیان دیا کہ چوہدری نثار کے گھر کے اندر سے فائرنگ ہوئی سوچنے والی بات یہ ہے کہ چوہدری نثار کے گھرسے فائرنگ کیوں ہوئی اور چوہدری نثار کے گھر میں کون سے مسلح افراد تھے جنہوں نے فائرنگ کی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف)نے مردم شماری کے عبوری نتائج میں اقلیتوں کی آبادی کم ظاہر کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتوں کی اسمبلیوں میں نمائندگی میں اضافہ کیا جائے ٗملک میں بسنے والی اقلیت کی دل آزاری نہیں کرنی چاہیے ٗارکان اسمبلی کو سیکیورٹی فراہم کی جائے ورنہ ہمارے اسلحہ لائسنس بحال کئے جائیں جبکہ اراکین نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے ٹاسک فورس کے قیام ‘ پارلیمنٹ ہاؤس میں سیکرٹریٹ کے قیام اور اس ضمن میں قانون سازی پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق‘ پوری پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -