توانائی بحران کے خاتمے کا اعلان ، 11461میگاواٹ مزید بجلی سسٹم میں شامل ، ایل این جی معاہدوں پر انگلی اٹھانے والوں کو مناظرے کا چیلنج : وزیر اعظم

توانائی بحران کے خاتمے کا اعلان ، 11461میگاواٹ مزید بجلی سسٹم میں شامل ، ایل ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک میں توانائی بحران کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پا لیا ،2025تک ملک میں توانائی کا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا، حکومت نے نیشنل گرڈ میں 11461میگاواٹ مزید بجلی شامل کی ، مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک میں بجلی کا بحران ختم کرکے جا رہی ہے، ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ، کوئی مائی کا لال پانچ سال میں اتنی بجلی پیدا کر کے دکھائے جتنی ہم نے پیدا کی ہے،2020تک مزید 10687میگاواٹ اور 2025تک مزید 17119میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ شامل کرنے کیلئے منصوبوں پر کام جاری ہے ہم نے راستے کا تعین کر دیا باقی آنے والی حکومتیں اس پر کام جاری رکھیں ، ملک میں 90فیصد فیڈرز پر زیرو اور90فیصد سے زائد لائن لاسز والے 10فیصد فیڈرز پر 2 سے 4گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے،بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم پر کام شروع ہو چکا، ان دونوں ڈیموں پر آمریت کے دور میں کام شروع ہونا چاہیے تھا جو کہ نہیں ہو سکا،پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی اس پر کوئی کام نہیں کیا،ایف اے ٹی ایف اگلے اجلاس میں اپنا بیانیہ پیش کریں گے، امید ہے ہمارے بیانیے کو ایف اے ٹی ایف میں تسلیم کیا جائے گا، مجھے کوئی شرمندگی اور پچھتاوا نہیں ہے بطور وزیراعظم میں جو کچھ کر سکتا تھا میں نے کیا ہے، ایل این جی معاملے پر الزام لگانے والوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ 31مئی کے بعد کسی بھی چینل پر مناظرہ کر لیں۔منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں وفاقی وزیر توانائی ڈویژن اویس خان لغاری اور وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 2013میں ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 18753میگاواٹ تھی، جو 2018میں بڑھ کر 28704میگاواٹ ہو گئی ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے نیشنل گرڈ میں 11461میگاواٹ بجلی شامل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ڈیمانڈ کے مطابق بجلی بنائی جاتی ہے،2013میں جولائی کے مہینے میں 16170میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی جبکہ جولائی 2018میں 18897میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی،پانچ سال کے عرصے میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا، بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ڈیمانڈ میں بھی اضافہ ہوا ہے، گزشتہ روز افطار کے اوقات میں ملک میں بجلی کی ڈیمانڈ 24800میگاواٹ تھی جو کہ ایک ریکارڈ ہے،2013کی نسبت 2018تک بجلی کی ڈیمانڈ میں 25فیصد اضافہ ہوا جو دنیا بھرمیں سب سے زیادہ ہے،دنیا میں سالانہ بجلی کی ڈیمانڈ میں 2سے 3فیصد تک کا اضافہ ہوتا ہے، جتنی زیادہ بجلی کی پیدوار ہو گی اتنی ہی زیادہ ڈیمانڈ بڑھتی ہے مگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بجلی کی ڈیمانڈ میں ریکارڈ اضافے کو ناصرف پورا کیا بلکہ ملک میں آئندہ 15سالوں کیلئے بھی بجلی کا انتظام کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013میں اپریل کے مہینے میں 6.3ارب یونٹ استعمال ہوئے جبکہ اپریل 2018میں 9.2ارب یونٹ استعمال ہوئے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال ہائیڈل منصوبوں سے بجلی کی کم پیداوار ہوئی، جس کی بڑی وجہ پانی کے ذخائر میں کمی ہے، 2017 میں ہائیڈل منصوبوں سے 6040میگاواٹ بجلی حاصل کی گئی جبکہ 2018میں ہائیڈل منصوبوں سے صرف 3090میگاواٹ بجلی حاصل کی گئی، پانی کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے رواں سال ہائیڈل منصوبوں سے ماضی کی نسبت آدھی بجلی حاصل ہورہی ہے، وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں 90فیصد فیڈرز پر سحری اور افطار کے اوقات میں زیرو لوڈشیڈنگ ہے جبکہ 10فیصد فیڈرز پر 2 سے 4گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جن فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے وہاں لائسز 90فیصد سے زائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جون میں 22538میگاواٹ ڈیمانڈ ہو گی جبکہ22176میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے،362میگاواٹ کا شارٹ فال جون 2018میں ہو گا اسی طرح جولائی 2018 میں ملک میں 22346میگاواٹ ڈیمانڈ ہو گی اور 21943میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور جولائی کے مہینے میں شارٹ فال 403میگاواٹ ہوگا جبکہ اگست،ستمبر، اکتوبر،نومبراور دسمبر میں ملک میں سر پلس بجلی دستیاب ہو گی، اگر ملک میں بارشیں ہوئیں توجون اور جولائی کے مہینوں میں شارٹ فال نہیں ہو گا۔ وزیراعظم نے ملک میں توانائی بحران کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پا لیا گیا ہے،توانائی کے منصوبوں کا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے،وقتی مسائل آسکتے ہیں جیسے آج ایک پلانٹ ٹرپ کر گیا جو آج ہی ٹھیک کر دیا گیا ہے،ایسے مسائل مستقبل میں بھی آ سکتے ہیں مگر یہ کہنا کہ ملک میں توانائی کا بحران ہے غلط ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک میں بجلی کا بحران ختم کرکے جا رہی ہے، ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2020تک ملک میں مزید 10687میگاواٹ اور 2025تک مزید 17119میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی جائے گی،ان منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے، ہم نے راستے کا تعین کر دیا باقی آنے والی حکومتیں اس پر کام جاری رکھیں گی تو یہ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی اب سے 2025تک ملک میں توانائی کا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پانی کے معاملے پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت تھی ہم نے وہ اتفاق رائے پیدا کیا، مشترکہ مفادات کونسل نے توانائی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، ملک میں دو بڑے پانی کے ذخائر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم پر کام شروع ہو چکا ہے، ان دونوں ڈیموں پر آمریت کے دور میں کام شروع ہونا چاہیے تھا جو کہ نہیں ہو سکا،پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی اس پر کوئی کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن سسٹم میں چیلنجز ہیں، این ٹی ڈی سی نے اس پر سرمایہ کاری کی ہے،ملک میں موجود ٹرانسٹمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن سسٹم موجودہ ڈیمانڈ کو پورا کرنے کیلئے کافی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2013میں جو گردشی قرضے ہمیں وراثت میں ملے تھے ان سے کم گردشی قرضے ہم چھوڑ کر جائیں گے، پاکستان کی سب سے ایفیشنٹ پلانٹ گیس پر چل رہے ہیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایل این جی الزام لگانے والوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ 31مئی کے بعد کسی بھی چینل پر مناظرہ کر لیں، ملک میں ایل این جی نہ ہوتی تو 8گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی، ایل پی جی پر تنقید کرنے والے کسی بھی ٹی وی پروگرام میں میرے ساتھ بیٹھ جائیں میں ہر سوال کا جواب دوں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں صوبوں کو پیشکش کی ہے کہ وہ گیس اوربجلی اپنے ذمہ لے لیں کیونکہ سرعام بجلی اور گیس کی چوری ہو رہی ہے، جس کو روکنا صوبائی حکومتوں کا کام ہے، بجلی اور گیس چوری کی ایف آئی آر پولیس نہیں کاٹتی۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم جیسے منصوبوں پر قومی اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے وزیراعظم بننے کے بعد موجودہ پوری کابینہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کی کوئی وجہ بھی ہونی چاہیے،عمران خان خود کو ابھی سے ہی وزیراعظم سمجھنے لگ گئے ہیں،عمران خان کو وزیراعظم بنتے نہیں دیکھ رہا،اس لئے ہمیں اس بات سے کوئی خطرہ نہیں، ہم نے مشرف دور میں دس سال ای سی ایل برداشت کی اگر اب بھی ایسا ہوا تو برداشت کرلیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عدلیہ اور نیب نے جو کیفیت پیدا کر دی ہے، ان حالات میں حکومت نہیں چل سکتی۔ نیب افسران کو بے عزت مت کرے، ایسے حالات میں سرکاری افسران کا کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب پر الزام نہیں، ان کے رویے کی بات کر رہا ہوں نیب کو اگر کسی سے شکایت ہے تو محکمے کے سیکریٹری سے رابطہ کرے۔ جب تک بیوروکریٹ خود کو کمفرٹیبل محسوس نہیں کرتا فیصلے نہیں کر سکتا، ہم نے اس کیفیت میں بھی بیٹھ کر فیصلے کئے ہیں، وزیراعظم نے چیلنج کیا کہ کوئی مائی کا لال پانچ سال میں اتنی بجلی پیدا کر کے دکھائے جتنی ہم نے پیدا کی ہے ، کوئی بھی اتنے منصوبے نہیں لگا سکتا جتنے ہم نے لگائے ہیں کوئی اس سے آدھے منصوبے بھی لگا کر دکھائے۔ قومی سلامتی کمیٹی میں سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کا معاملہ زیر بحث آنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ میں نے حلف اٹھایا ہوا ہے، اس لئے قومی سلامتی میں زیر بحث آنے والے امور پر بات نہیں کر سکتا،اگر کوئی اور اس حلف کی پاسداری نہیں کرتاتو میں کچھ نہیں کہہ سکتا،قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے اس سے آپ اپنے سوالوں کا جواب دے سکتے ہیں۔صحافی نے سوال کیا کہ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جون میں ہے، پاکستان نے کیا تیاری کی ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ طریقہ کار کے مطابق ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف اگلے اجلاس میں اپنا بیانیہ پیش کریں گے۔ امید ہے ہمارے بیانیے کو ایف اے ٹی ایف میں تسلیم کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے کوئی شرمندگی اور پچھتاوا نہیں ہے بطور وزیراعظم میں جو کچھ کر سکتا تھا میں نے کیا ہے۔دریں اثنا حویلیاں میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 100 دن کا پلان پیش کرنے والوں نے 5 سال صرف باتیں کیِ، رکاوٹیں ڈالتے رہے، دھرنے دیتے رہے، الیکشن میں عوام جو فیصلہ کریں گے قبول ہوگا، مجھے نظر نہیں آتا کہ لوگ دھرنے دینے والوں کو ووٹ دیں گے، ووٹ صرف خدمت، ترقی اور شرافت کی سیاست کو ملے گا، یہ سیاست صرف مسلم لیگ ن اور نواز شریف کی ہے،عوامی فیصلے کے مطابق ہی حکومت آئے گی، ہماری کوشش رہی کہ حکومت مدت پوری کرے، وقت دور نہیں جب عوام خنجراب سے گوادر تک موٹروے پر سفر کر سکیں گے، نواز شریف نے جو وعدے کیے اس کو پورا کر رہے ہیں، نومبر تک موٹروے مکمل ہو جائے گا، حویلیاں موٹروے کوئی چھوٹا منصوبہ نہیں ہے، منصوبے کی پی سی ون لاگت 142 ارب روپے ہے‘ آج 1700کلو میٹر طویل موٹر ویز صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بنائے‘ بجلی کے منصوبے‘ گیس کے منصوبے اور دوسرے شعبے دیکھ لیں مسلم لیگ (ن) نے کام کرکے دکھائے۔ منگل کو حویلیاں میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے جو وعدے عوام سے کئے اسے ہم پورے کررہے ہیں۔ یہ پہلی حکومت ہے جس نے اپنے دور حکومت میں منصوبے پورے کردکھائے۔ نومبر تک مانسہرہ تک موٹر وے گاریوں کیلئے کھل جائے گا۔ حویلیاں موٹر وے کوئی چھوٹا منصوبہ نہیں حویلیاں سے تھا کوٹ تک سڑک ایک سو بیس کلومیٹر ہے ایک سو بیالیس ارب روپیہ اس کی تکمیل پر خرچ کیا جارہا ہے۔ بجلی کے منصوبے‘ گیس کے منصوبے اور دوسرے شعبے دیکھ لیں مسلم لیگ (ن) نے کام کرکے دکھائے۔ آمریت کا دور بھی گزرا اتنا کام کسی اور حکومت میں نہیں ہوا۔ سو دن والے وہ لوگ ہیں جو پانچ سال صرف باتیں کرتے رہے۔ شرافت کی سیاست صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے پاکستان کی عوام کی خدمت کرکے دکھایا۔ فیصلہ عوام نے کرنا ہے ہم نے اگلے پانچ سال بھی گزارنے ہیں۔ پچیس جولائی کو الیکشن ہوں گے اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے یہی جمہوریت ہے اسی سے پاکستان ترقی کرے گا۔ آپ سیاست کو دیکھ کر بہتر فیصلہ کریں گے۔ وہ وقت دور نہیں جب آپ خنجراب سے گوادر تک موٹر وے پر سفر کرتا دیکھیں گے۔ پشاور سے کراچی کا سفر دنوں میں نہیں گھنٹوں میں ہوگا۔ پاکستان کی تاریخ میں اتنے منصوبے نہیں بنے۔ آج ستر ہ سو کلومیٹر طویل موٹر ویز صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بنائی۔ صرف مسلم لیگ (ن) کی ہی حکومت میں ہی ترقی ہوتی ہے۔ حکومت کی معیاد مکمل ہوگئی اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔

وزیر اعظم

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ا لیکشن مقررہ وقت پر ہونگے ، ہم بہت سے کام کرنا چاہتے ہیں مگر نہ کر سکے، فیض آباد دھرنا ختم کروانے میں شہباز شریف اور آرمی چیف نے بھی کردا ر ادا کیا تھا سول اور ملٹری تعلقات میں کشیدگی نہیں ہونی چاہیے سول ملٹری تعلقات پر قومی مکالمہ کی ضرورت ہے ۔خورشید شاہ اور ان کی جماعت کا مشکور ہوں نگران وزیر اعظم کے معاملے پر انہوں نے ہم سے اتفاق کر لیا ، آئندہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہی منعقد ہونگے،، سندھ میں بھی (ن) لیگ واضح کامیابی حاصل کرے گی ،فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد میں ایک سال لگ سکتا ہے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کے روز نجی ٹی وی کو ا نٹرویو دیتے ہوئے کیا وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی مدت کے آخر میں کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے ہم بہت سے کام کرنا چاہتے ہیں مگر نہیں کر سکتے ۔ سول ملٹری تعلقات میں تناؤ اکثر دنیا کے ممالک میں پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ سول ملٹری تناؤ سے گورننس پر اثر پڑتا ہے ۔ ہم نے پاکستان سے آٹو میٹک اسلحہ ختم کر دیا ہے ۔ دنیامیں کہیں بھی خود کار اسلحے کا لائسنس جاری نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ میں خورشید شاہ اور ان کی جماعت کا مشکور ہوں نگران وزیر اعظم کا معاملے پر انہوں نے ہم سے اتفاق کر لیا ۔ ہمارے پاس 6 نام تھے ان میں ایک پر اتفاق ہو گیا ۔ بنیادی طور پر فیصلہ پارٹی کی قیادت ہی کرتی ہے ۔ عبوری وزیر اعظم کے تقرر پر کوئی ڈیڈی لاک نہیں ہوا ۔ نگران وزیر اعظم کا تقرر سیاسی رہنماؤں کو ہی کرنا چاہیے ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر میں امید کرتا ہوں مسلم لیگ (ن) ہی عام انتخابات میں سب سے زیادہ سیٹیں لینے والی جماعت ہو گی ۔ شفاف انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ۔ الیکشن کمیشن کا تعلق بیرونی طاقت سے نہیں ہونا چاہیے ۔ کوئی دو رائے نہیں کہ انتخابات بروقت ہوں گے ۔ الیکشن کمیشن 60 روز میں انتخابات کروانے کا پابند ہے ۔ مشکلات کا حل نکالنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ سندھ میں بھی (ن) لیگ واضح کامیابی حاصل کرے گی ۔ عوام نواز شریف کی آواز پر ہی ردعمل دیتے ہیں ۔ نواز شریف پارٹی قائد اور شہباز شریف پارٹی صدر ہیں ۔ عوام (ن) لیگ کی قیادت پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مریم نواز کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ اس بار مریم نواز پارٹی ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لیں تمام امیدواروں کو ٹکٹ شہباز شریف ہی جاری کرینگے ۔ حتمی فیصلہ پارٹی کی سطح پر ہی ہوتا ہے مگر انتخابات میں (ن) لیگ کی قیادت شہباز شریف بطور وزیر اعظم سنبھالیں گے ۔ دھرنوں سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دھرنے ختم کرانے کے لئے مذاکرات میں سب کا رول ہوتا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فیض آباد دھرنا ختم کروانے میں شہباز شریف اور آرمی چیف نے بھی کردا ر ادا کیا تھا ۔ عدالت نے دھرنا ختم کرانے کا حکم دیا تھا ۔ کوشش کی کہ افغام و تفہیم سے معاملات حل ہو جائیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اب تک اسد درانی کی کتاب نہیں پڑھی ۔ اہم عہدوں پر تعینات افراد کو بولتے اور لکھتے ہوئے احتیاط برتنی چاہیے ۔ دیکھنا ہو گا اسد درانی کی باتیں کلاسیفائیڈ معلومات ہیں یا نہیں ہیں اگر کتاب میں کلاسیفائیڈ معلومات ہیں تو تحقیقات ہونی چاہیں ۔۔ میں بھی نواز شریف کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ مشرف کے احتساب کے معاملات شروع ہوئے تو ملک میں دھرنے آئے اور حالات بہت زیادہ خراب ہو گئے۔ سول و ملٹری تنازعہ میں دونوں جانب سے غلطیاں ہوئیں ہیں مگر ان غلطیوں کا حل نکالنا ضروری ہے ۔ تمام اداروں کو اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے ۔ سول ملٹری تعلقات پر قومی مکالمہ کی ضرورت ہے ۔ اداروں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم روز اول سے فوجی عدالتوں کے خلاف تھے مگر ملکی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے فوجی عدالتیں بنانی پڑیں۔ دہشتگردی کے خلاف مشکل جنگ میں کامیابی حاصل کی ، سویلین بالا دستی الفاظ سے نہیں عمل سے آئی ہے ۔ عدلیہ سول اور ملٹری تعلقات متوازن ہونے چاہئیں ۔ آئندہ انتخابات میں پارٹی کی جیت کی صورت میں شہباز شریف وزیر اعظم ہونگے یا وہ کسی کو نامزد کرینگے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملا اختر منصور سے متعلق امریکا کو پہلے سے معلومات تھیں ۔ امریکہ نے ملا اختر کو ایران سے ٹریک کرنا شروع کیا اور پاکستان کی حدود میں نشانہ بنایا گیا ۔ فاٹا اصلاحات پروزیر اعظم نے کہا کہ یہ کام ایک دن میں نہیں ہو سکتا ان اصلاحات پر عملدرامد میں ایک سال لگ سکتا ہے ۔

انٹرویو

مزید :

صفحہ اول -