ملی مسلم لیگ الیکشن کمیشن میں رجسٹرہو کر ایم ایم اے میں شامل ہو سکتی ہے

ملی مسلم لیگ الیکشن کمیشن میں رجسٹرہو کر ایم ایم اے میں شامل ہو سکتی ہے
ملی مسلم لیگ الیکشن کمیشن میں رجسٹرہو کر ایم ایم اے میں شامل ہو سکتی ہے

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

نواز شریف کی نااہلی کے بعد لاہور کے حلقہ این اے 120 کی نشست خالی ہوئی اور اس حلقے میں ضمنی انتخابات کا اعلان ہوا تو آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد میدان میں اتر آئی۔ نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم مسلم لیگ (ن) کی امیدوار تھیں تو تحریک انصاف نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو میدان میں اتارا، یوں دو بڑی جماعتوں کی امیدوار خواتین کے روپ میں سامنے آئیں۔ ان دو امیدواروں کے علاوہ شاید چالیس دوسرے امیدوار بھی تھے، جن میں سے بعض سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے، بیشتر آزاد تھے، اور آج بھی اگر نتیجے پر نظر ڈالیں تو کئی ایسے امیدوار نظر آئیں گے، جنہیں چند ووٹ ہی مل سکے۔ معلوم نہیں انہیں ایک ضمنی الیکشن لڑنے کا شوق کیوں چرایا تھا۔ آزاد امیدواروں کو تو چھوڑئیے پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے امیدوار بھی ناقابل ذکر ووٹ لے سکے۔ البتہ اس انتخاب میں دو نئی جماعتوں کی کارکردگی کئی پرانی جماعتوں سے بہتر رہی۔ ان میں سے ایک ملی مسلم لیگ ہے اور دوسری تحریک لبیک یا رسول اللہ، جس نے بعد میں فیض آباد دھرنے کے حوالے سے خاصی شہرت پائی اور آج تک عدالتوں میں اس کا حوالہ آتا ہے۔ فی الحال اس دھرنے کا ذکر مقصود نہیں کہ بات الیکشن کے حوالے سے ہو رہی ہے۔ جب کبھی کسی تجزئیے میں دھرنوں کا ذکر خیر آئے گا تو ان شاء اللہ بعض تفصیلات قارئین کے سامنے رکھی جائیں گی۔ فی الحال کہنا یہ ہے کہ حلقہ این اے 120 میں مسلم لیگ (ن) کامیاب اور تحریک انصاف رنر اپ رہی۔ باقی ساری جماعتیں اور افراد شامل باجہ تھے اور سب امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں، ضمانتیں تو ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک کے امیدواروں کی بھی ضبط ہوئیں، لیکن دونوں نے ووٹ ہزاروں میں لئے، سینکڑوں یا درجنوں میں نہیں۔ ملی مسلم لیگ اس وقت ابھی وجود میں آئی تھی اور اس نے ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ عجلت میں کیا تھا، اتنی عجلت میں کہ جماعت ابھی الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ بھی نہیں ہوئی تھی کہ انتخابی اکھاڑے میں اتار دی گئی۔ یہاں یہ ذکر بے محل نہیں ہوگا کہ ملی مسلم لیگ کو جماعت الدعوۃ کا سیاسی ونگ کہا جاسکتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ جماعت الدعوہ نے کبھی انتخابی سیاست نہیں کی۔ اس لئے جب ملی مسلم لیگ میدان میں اتری تو ہمیں حیرت ہوئی، ہم نے جماعت کے ایک ہمدرد سے پوچھا کہ حضرت ایک زمانہ تو وہ تھا جب حافظ صاحب الیکشن کے نام ہی سے الرجک تھے اور کسی صورت انتخاب لڑنا نہیں چاہتے تھے اور اس ضمن میں احباب کے مشوروں کو بھی پرکاہ کے مساوی اہمیت نہیں دیتے تھے، اب عجلت مین الیکشن لڑنے کی کیا ضرورت پیش آگئی ہے، تو انہوں نے کہا نیا زمانہ ہے اس لئے نئے صبح شام پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ الیکشن میں ملی مسلم لیگ کے امیدوار نے بطور آزاد امیدوار حصہ لیا تھا اور چونکہ انتخابی نشان انرجی سیور تھا اس لئے بہت سے گھر اس کی روشنی سے منور بھی ہوگئے، لیکن امیدوار جیت نہ سکا، یہی حال تحریک لبیک کا رہا۔

لیکن یہ ماضی ہے جس میں ہم نے مستقبل کی تصویر دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ ملی مسلم لیگ اب بھی الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹریشن کے لئے کوشش کر رہی ہے لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی، کمیشن نے جماعت کو ’’مشورہ‘‘ دیا ہے کہ وہ اس مقصد کے لئے وزارت داخلہ سے رجوع کرے جبکہ قانوناً ایسی کوئی پابندی نہیں ہے بہت سی نئی جماعتیں بن رہی ہیں اور الیکشن کمیشن انہیں رجسٹر بھی کر رہا ہے، جو بھی جماعت اس مقصد کے لئے الیکشن کمیشن کے پاس جاتی ہے وہ اگر مطلوبہ دستاویزات فراہم کر دیتی ہے تو اسے قانون کے مطابق رجسٹر کرلیا جاتا ہے، لیکن ملی مسلم لیگ کو الیکشن کمیشن نے خصوصی سلوک کا مستحق گردانا اور وزارت داخلہ سے رجوع کرنے کا مشورہ دے دیا جبکہ کسی دوسری جماعت کو کبھی ایسے قیمتی مشورے سے نہیں نوازا گیا۔ ملی مسلم لیگ اس مقصد کے لئے عدالتی چارہ جوئی کر رہی ہے اور عدالتوں کے ذریعے الیکشن کمیشن سے پوچھ رہی ہے کہ اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں روا رکھا جا رہا ہے۔ ابھی تک تو جماعت رجسٹر نہیں ہوئی، لیکن قانونی چارہ جوئی کے بعد شاید وہ وقت بھی آجائے کہ اسے رجسٹر کرلیا جائے، ایسی صورت میں یہ جماعت 2018ء کے انتخابات میں حصہ لے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی مذہبی، سیاسی اتحاد کا حصہ بن جائے۔ مثال کے طور پر ایم ایم اے ایک عشرے کے بعد دوبارہ وجود میںآگیا ہے اور اگلے انتخابات میں کتاب کے نشان پر الیکشن لڑنا چاہتا ہے۔ بحالی کے بعد جے یو آئی (س) اس کا حصہ نہیں بنی، کیونکہ پرویز خٹک اور مولانا سمیع الحق ’’گرائیں‘‘ ہیں، دونوں کا تعلق نوشہرہ سے ہے، اس لئے پرویز خٹک کا ان کے اکوڑہ خٹک میں واقع مدارس سے خصوصی تعلق ہے اور وہ ’’مدارس کو قومی دھارے‘‘ میں لانے کے لئے مولانا سمیع الحق کی سرپرستی کرتے رہے ہیں، اس لئے مولانا سمیع الحق کا جھکاؤ تحریک انصاف کی جانب ہے، ایسے میں ایم ایم اے میں ایک جماعت کی جگہ خالی ہے اور ملی مسلم لیگ اس کا حصہ بن سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ابھی اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ بات چیت تو نہیں ہو رہی لیکن ملی مسلم لیگ اگر رکن بننا چاہے گی تو ایم ایم اے کے قائدین کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔ خصوصاً سراج الحق تو اسے خوش آمدید کہیں گے، ممکن ہے مولانا فضل الرحمن کو راضی کرنا پڑے، کیونکہ فاٹا کا صوبہ خیبرپختونخوا میں جو انضمام ہوا ہے مولانا اس پر ناراض ہیں اور کے پی کے اسمبلی کے آخری روز اس جماعت کے کارکنوں نے جب فاٹا بل منظور ہونا تھا، اسمبلی کا گھیراؤ کرلیا تھا، جسے پولیس نے منتشر کر دیا۔ مولانا اپنے مزاج کے برعکس تلخ لہجے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی انضمام کے حق میں تھی اور فضل الرحمن خلاف۔ اس لئے اب انتخابی مہم کا وہ منظر خاصا دلچسپ ہوگا۔ جب سراج الحق کسی جلسے میں انضمام کا کریڈٹ لے رہے ہوں گے اور فضل الرحمن اس فیصلے کو کوس رہے ہوں گے۔ اس ماحول میں اگر ملی مسلم لیگ ایم ایم اے کا حصہ بن گئی تو اتحاد کو کیا فائدہ ہوگا؟ ممکن ہے اہلحدیث ووٹ ملنے کی صورت میں ایم ایم اے کو بعض حلقوں میں کامیابی کی امید ہو جائے۔ جہاں تک تحریک لبیک کا تعلق ہے کیا وہ بھی کسی سیاسی یا مذہبی اتحاد کا حصہ بنے گی، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے، کیونکہ اس کے رہنماؤں کا انداز تکلّم اور انداز سیاست جداگانہ ہے۔ ٹھنڈی سیاست اس کے بس میں نہیں، اس لئے شاید وہ تنہا پرواز ہی پسند کرے۔

مزید :

تجزیہ -رائے -