وزیر اعظم کی آخری پریس کانفرنس ، ابہام پیدا کرنے کی دانستہ کوشش

وزیر اعظم کی آخری پریس کانفرنس ، ابہام پیدا کرنے کی دانستہ کوشش

  

تجزیہ : مبشر میر

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی آخری پریس کانفرنس میں اداروں کے کردار پر گفتگو کرکے ابہام پیدا کرنے کی دانستہ کوشش کی ہے حالانکہ آئین پاکستان میں تمام اداروں کے کردار کا تعین کیا گیا ہے ۔وزیراعظم پاکستان کو اصل مسئلے کی طرف توجہ دلانا چاہیے تھی ۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیاست اور گورننس سے اخلاقی اقدار کا خاتمہ ہوچکا ہے ۔بعض معاملات میں آئین اور قانون سے بھی اخلاقی اقدار زیادہ طاقتور دکھائی دیتی ہیں ۔دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات لوگ ڈھٹائی سے جھوٹ نہیں بولتے ،غلطی تسلیم کرکے عہدوں سے علیحدہ ہوجاتے ہیں لیکن پاکستانی معاشرہ میں ایسی اقدار پروان نہیں چڑھیں ۔حال ہی میں جنوبی کوریا کی وزیراعظم نے عوامی احتجاج کے نتیجے میں عہدے سے علیحدگی اختیار کی۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے مطابق سول ملٹری تعلقات پر ڈائیلاگ ہونا چاہیے ۔حالانکہ پاکستان میں اس کا بہترین حل ’’قومی سلامتی کونسل‘‘ ہے جو کہ 2008ء کے الیکشن کے بعد ختم کردی گئی تھی ۔نیشنل سکیورٹی کونسل کی سربراہی صدر مملکت کے پاس تھی موجودہ پارلیمانی طرز حکومت میں موجودہ حکومت نے پانچ سال تک صدر مملکت کو ’’عضو معطل‘‘بنا کر رکھا اس کا جواب کون دے گا ۔صدر مملکت افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں سپریم کمانڈر کی کوئی جگہ نہیں، انہیں مہمان خصوصی کی حیثیت سے بھی شرکت کا موقع نہیں دیا ۔ماضی میں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز جبکہ صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کئی اہم اجلاسوں کی مشترکہ صدارت کرتے رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت نے صدر مملکت کے ادارے کو مکمل مفلوج رکھا ۔صدر مملکت کی پانامہ پیپرز پر کی گئی گفتگو کے بعد وہ کئی عوامی اجتماعات میں بھی شرکت سے قاصر رہے ۔وزیراعظم عباسی کو یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ عوام کا ووٹ پانچ سال حکومت کرنے کے لیے نہیں، حکومت کی تبدیلی یا وزیراعظم کی تبدیلی پانچ سال کے دوران کسی وقت بھی آئینی طریقے سے ممکن ہوسکتی ہے ۔احتساب کا عمل مسلسل ہے جبکہ عدلیہ کا کردار آئین کی تشریح اور انتظامیہ کے فیصلوں پر نظرثانی کرنا بھی ہے ۔عدلیہ کی توہین سے اداروں میں ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہوتا ہے ۔محترم وزیراعظم ! نگراں وزیراعظم کا تقرر آپ اور اپوزیشن لیڈر نے کیا ہے پھر آپ کو یہ خیال کیوں آرہا ہے کہ حکومت کی تشکیل میں کسی اور ادارے کا عمل دخل ہونا چاہیے یا نہیں ؟

تجزیہ مبشر میر

Back

مزید :

تجزیہ -رائے -