انضمام میں ملاکنڈ ڈویژن کے موجود آئینی حیثیت کو نہ چھیڑ ا جائے : اسد لعل خان

انضمام میں ملاکنڈ ڈویژن کے موجود آئینی حیثیت کو نہ چھیڑ ا جائے : اسد لعل خان

  

بٹ خیلہ(بیورورپورٹ) پی پی پی کے سابق وفاقی وزیر لعل محمد خان کے بیٹے اور ضلعی رہنماء آسد لعل خان نے کہا ہے کہ فاٹا اور پاٹا کے انضمام میں ملاکنڈ ڈویژن کے موجودہ آئینی حیثیت کو نہ چھیڑا جائے ۔ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے مشکل حالات میں قربانیاں دیکر حب الوطنی کا مظاہرہ کیا ہے اس لئے حکومت ملاکنڈکی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں کے عوام کے لئے خصوصی پیکج کا اعلان کریں ۔ ڈویژن کے عوام پہلے سے مالی مشکلات سے دوچار ہیں اور ایسے میں موجودہ حیثیت ختم کرکے یہاں ٹیکس و کسٹم ایکٹ لانا عوام کیساتھ نا انصافی ہو گی ۔ سوات موٹر وے کے حوالہ سے گذشتہ حکومت میں سابق وفاقی وزیر لعل محمد خان نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سے بھی ملاقاتیں کئے تھیں جس میں موٹر وے کے تعمیر کا فیصلہ ہو اتھا لیکن اس کے باوجوداُس دور میں موٹر وے شروع نہیں کیا جاسکا جس کی وضاحت کی جائے کہ سب کچھ فائنل ہونے کے باوجود موٹر وے شرو ع کیوں نہیں ہو سکا تھا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب آفس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر حاجی لیاقت علی ، عالمزیب خان ، شاہد خان اور دیگر ضلعی و تحصیل قائدین بھی موجود تھیں ۔ آسد لعل خان نے کہا کہ حالیہ آئینی ترمیم سے ملاکنڈ ڈویژن کا آئینی اور مخصوص حیثیت ختم ہو جائیگی جس سے یہاں کے عوام کو نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے استعمال پر پابندی سمیت دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عوام کے حقوق اور ترقی کے لئے آواز بلند کی ہے اور انشاء اﷲ مستقبل میں بھی اسی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ دور حکومت میں سوات موٹر وے کے تعمیر کا فیصلہ ہو چکا تھا جس کے سلسلے میں سابق وفاقی وزیر لعل محمد خان نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سے ملاقاتیں کئے تھیں اور وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی اس پر بات ہوئی تھی لیکن معلوم کرنا ہوگا کہ سب کچھ فائنل ہونے کے باوجود اُس وقت اس منصوبے پر کام شروع یا مکمل کیوں نہیں کیا گیا ؟

مزید :

پشاورصفحہ آخر -رائے -