وہ کام جو مسلمانوں کا ایمان ہے ،اس میں غیر مسلم آگے ہیں

30 مئی 2018 (12:36)

پروفیسر یونس مسعود 

چار الفاظ پر مشتمل جملہ "صفائی نصف ایمان ہے" ہم نے سنا تو متعدد بار ہے مگر اس پر صحیح معنوں میں عمل نہ ہونے کے برابر ہی کیا ہے۔ جسمانی صفائی تو ہم اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں مگر اپنی گلیوں، اپنے محلے اور اپنے ملک کو صاف رکھنے کی محض باتیں کرتے ہیں۔ ہمارے شہر ہوں یا دیہات گندگی اور غلاظتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اگر کسی جگہ کچرا پھینکنے کے کنٹینر لگائے گئے ہیں تو وہاں سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کا کوئی معیاری انتظام نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے گندگی کئی فٹ دور تک بکھری ہوتی ہے۔

صفائی کے حوالے سے حکومتِ وقت اور عوام دونوں ذمہ دار ہیں۔ جہاں حکومت شہروں کی گندگی اٹھانے کا مناسب انتظام نہیں کرتی اور صفائی کا شعور بیدار نہیں کرتی وہاں لوگ بھی سڑکوں اور گلیوں میں بے تحاشا کوڑا پھینکتے رہتے ہیں۔ گندا پانی، شاپر، پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے، الغرض انواع و اقسام کی غلاظتیں فٹ پاتھ، سڑک اور گلی محلوں میں ہنسی خوشی ڈال دی جاتی ہیں۔

آلودگی اور گندگی کے نقصانات جاننے کے باوجود نہ حکومت صفائی کا اہتمام کرتی ہے اور نہ ہی عوام کو اس کام کی فرصت ہے۔ شرم اس بات پر محسوس ہوتی ہے کہ صفائی پر زور ہمارے مذہب میں دیا گیا ہے جب کہ عملاً صفائی غیر مسلم اور یورپی ممالک میں زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔

یوں تو سبھی ترقی یافتہ ممالک میں صفائی کے قابلِ رشک انتظامات ہوتے ہیں مگر میں یہاں صرف سپین کی مثال دینا چاہوں گا جس کے متعلق معلومات وہاں مقیم میرے پاکستانی نژاد دوست نوید احمد اندلسی نے فراہم کی ہیں۔

سپین میں گھریلو کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لیے گلیوں میں پانچ مختلف رنگوں کے کنٹینر نصب ہوتے ہیں۔ نیلے رنگ کے کنٹینر میں کاغذات اور گتا پھینکا جاتا ہے، سبز رنگ کے کنٹینر میں شیشے کی چیزیں پھینکی جاتی ہیں، جیسے مشروبات کی بوتلیں وغیرہ۔ پیلے رنگ کے کنٹینر میں پلاسٹک کی چیزیں اور ٹِن وغیرہ پھینکے جاتے ہیں۔ سرمئی یا گرے رنگ کے کنٹینر میں ہر وہ چیز پھینکی جا سکتی ہے جس کا تعلق دیگر کنٹینروں سے نہ ہو اور جو "ریسائیکل" نہ ہو سکے۔ خاکی یا براؤن رنگ کے کنٹینر میں کھانے پینے کی اشیاء کی باقیات پھینکی جاتی ہیں، جیسے سبزیاں، گوشت، روٹی، انڈوں کے خول وغیرہ۔ بیشتر مقامات پر یہ کنٹینر سڑک کے پاس رکھے جاتے ہیں جبکہ بعض جگہ یہ زیرِ زمین بھی نصب کیے گئے ہیں۔ کوڑا کرکٹ کنٹینرز میں براہِ راست نہیں ڈالا جاتا بلکہ ایک خاص قسم کے شاپروں میں بند کر کے پھینکا جاتا ہے۔ 

ان کنٹینرز کو اٹھانے کے لیے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہر روز رات کے پہلے پہر الگ الگ گاڑی آتی ہے. مصروف ترین گلیوں اور بازاروں میں دن میں کنٹینر خالی کرنے کے لیے یہ گاڑیاں ایک سے زیادہ مرتبہ بھی آتی ہیں۔

ان کوڑے دانوں کی کچھ دن گزر جانے کے بعد نہ صرف باقاعدہ صفائی ہوتی ہے، بلکہ بعد میں ان پر جراثیم کش سپرے بھی کی جاتی ہے۔

زیادہ بڑی اشیاء جیسا کہ گھریلو فرنیچر وغیرہ کی باقیات پھینکنے کے لیے ہر گلی کا ہفتہ وار دن مقرر کیا گیا ہے، اْس دن رات 8 بجے سے 10 بجے کے درمیان اپنے دروازے کے سامنے ایسا فرسودہ سامان رکھ دیا جاتا ہے جسے بلدیہ والے رات 11 بجے کے بعد اٹھا کر لے جاتے ہیں۔

بلدیہ کی جانب سے مختلف پروگرامز اور مہمات کے ذریعے لوگوں کو صفائی کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں میں اب صفائی کرنے کی عادت اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ لوگوں نے اپنے اپنے گھروں میں کوڑا کرکٹ کے لئے الگ الگ تھیلے پہلے سے رکھے ہوتے ہیں۔

سپین میں گلیوں کو روزانہ پانی سے دھویا جاتا ہے۔ اندرون شہر کی بعض گلیوں کو دن میں دو مرتبہ اور بعض کو ایک مرتبہ جبکہ دیگر علاقوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر پانی کے ساتھ صفائی کی جاتی ہے۔

نکاسی کا نظام بہت عمدہ ہے۔ ہر گلی کے نیچے نکاسی آب کے لئے "قدِ آدم" سے بھی بڑے پائپ نصب ہیں۔ گلیوں کو دھونے کے بعد چند لمحات میں ہی سارا پانی غائب ہو جاتا ہے، اور دو تین گھنٹے گزرنے کے بعد گلی خشک بھی ہو جاتی ہے۔

سپین کے صوبے کاتالونیا میں گزشتہ ایک سال سے تمام دکانداروں پر پلاسٹک کے شاپنگ بیگ (شاپر) مْفت دینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یعنی گاہکوں کے لیے شاپر الگ سے رقم دے کر خریدنا ہوتا ہے۔ دکانداروں پر لازم ہے کہ وہ واضح طور پر اس بات کو لکھ کر آویزاں کریں کہ شاپر مْفت نہیں دیے جاتے۔ اس قانون کے تحت جو دکاندار اپنے گاہکوں کو مْفت شاپر دیں اور اچانک ان کا معائنہ ہو جائے یا گاہک شکایت کر دے تو ایسے دکاندار کو چھ سو یورو (تقریباً اسّی ہزار روپے) تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ مقامی لوگوں کی دکانوں میں اس قانون پر 100 فی صد عمل کیا جاتا ہے جبکہ غیر مْلکیوں کی دکانوں پر 50 فی صد۔ اس قانون کا مقصد لوگوں میں پلاسٹک کے استعمال کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے، کیونکہ پلاسٹک بنانے اور اْسے ضائع کرنے میں ماحولیاتی آلودگی پیدا ہوتی ہے اور تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ باقی تقریباً ہر شے وقت کے ساتھ ساتھ ضائع ہو جاتی ہے مگر پلاسٹک کی بنی ہوئی چیزیں خصوصاً شاپر سینکڑوں سال گزرنے کے بعد بھی خود بخود تلف نہیں ہوتے۔ اس قانون کے لاگو ہونے کے بعد مقامی لوگوں کی اکثریت شاپر کا استعمال ترک کر چکی ہے۔ لوگ شاپر کی بجائے خریداری کی چھوٹی ریڑھی یا پلاسٹک کے علاوہ دیگر شاپر استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان کی صورت حال یہ ہے کہ یہاں ایک مرتبہ طارق عزیز شو میں پلاسٹک کے استعمال کے نقصانات پر ایک ڈاکومنٹری دکھائی گئی جس پر طارق عزیز شو کو ہی بند کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ سپین کا شمار یورپ میں سب سے ٹاپ پر نہیں بلکہ سب سے پیچھے والے ممالک میں ہوتا ہے، جبکہ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں اِس سے بھی بہتر نظام موجود ہیں۔ ایک اور ملک یونان جو سپین سے بھی بہت پیچھے ہے وہاں بھی صفائی کا تقریباً یہی طریقہ استعمال ہوتا ہے۔جاتے جاتے ایک دلچسپ بات بھی سن لیں۔سپین میں ہزاروں پاکستانی رہتے ہیں،یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی لاکھوں آباد ہیں لیکن جب یہ پاکستان اپنے گھ آتے ہیں تو صفائی کی ایک مثال ،ایک نمونہ نہیں بنتے اور اپنا گھر صاف کرنے کی بجائے گندہ کرتے ہیں ،ہے ناں صفائی نصف ایمان کہنے والی عجیب قوم کی عجیب بات۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں