فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر439

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر439
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر439

  

فلم ساز انیس دو سانی مرحوم کے تذکرے میں ڈھا کا میں بنائی جانے والی اردو فلموں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا تھا۔اس سے پہلے ڈھاکا کی فلمی صنعت کے آغاز اور درجہ بدرجہ ترقی کے بارے میں بھی سیر حاصل معلومات فراہم کی جا چکی ہیں۔ڈھاکہ میں فلم سازی کا آغاز تو بنگلہ فلموں سے ہوا تھا۔لیکن بعد میں جب اردو فلمیں یہاں بنائی گئیں تو وہاں فلم کے سازو ں کو یہ تجربہ زیادہ مفیداور منفعت بخش معلوم ہواجس کے نتیجے میں ممتاز اور ذہین فم سازوں اور ہدایتکاروں نے اردو فلم کی طرف توجہ دی اور قابل ذکر فلمیں بناکر پاکستان کی فلمی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغا ز کر دیا۔کون جانتا تھا کہ کبھی ایسا بھی وقت آئے گاجب مشرقی پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش بن جائے گااور رفتہ رفتہ مغربی پاکستان کے ساتھ ہی اردو زبان سے بھی بنگلہ دیشیوں کا رشتہ ختم ہو جائے گا۔یہ بنگالی قوم پرستی کا نتیجہ ہے یا پھر پاکستان دشمن بھارتی لابی اور وہاں کی کثیر اور بااثر ہندوآبادی نے ایسی فضا پیدا کردی کہ آہستہ آہستہ بنگلہ دیش میں اردو کا رواج ہی ختم ہو گیا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر438 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

1987 ء میں ڈھاکاگئے تویہ حیران رہ گئے کہ اب وہاں اردو کا نام ونشان تک نہیں ہے۔کوئی قابل ذکر معیاری اردو اخبار یا جریدہ موجود نہیں ہے۔اردو کی تعلیم اسکولوں اوردرسگاہوں میں ختم ہو چکی ہے۔ہر طرف بنگلہ زبان کی حکمرانی ہے۔ڈھاکہ میں ہم نے سڑکوں اور دکانوں پر تمام سائن بورپر بنگلہ میں لکھے ہوئے دیکھے ہوئے دیکھے اردو توکیا انگریزی کااستعمال بھی نظر نہ آیا جس کی وجہ سے یہ شہر اور ملک ہمارے لئے بالکل اجنبی ہو گیا۔کچھ پتا نہیں چلتا تھاکہ کون سی دکان کس چیز کی ہے نہ ہی کسی اداروں یا فائیو اسٹار ہوٹلوں کے کسی جگہ انگریزی کا نام ونشان تک دیکھنے میں نہیں آیا۔ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ایک اچھا اور قابل تقلید جذبہ ہے۔ہم نے پاکستان میں اپنی قومی زبان اردو کے ساتھ جو سلوک کروا رکھاہے۔اور اس بتدریج جس بنگالیوں کی قوم پرستی کا یہ اظہار قابل تعریف ہے۔کاش ہم نے بھی اپنی قومی زبان کواس کا جائز حق اور مرتبہ دیا ہوتا۔خیر یہ ایک علیٰحدہ انتہائی دکھ بھری داستان ہے۔

ہم نے دیکھا کہ ہر طرف بنگالی زبان ہی بولی جا رہی ہے۔صرف پرانی نسل کے لوگ اردو سمجھتے ہیں۔باہمی بول چال میں وہ بنگلہ دیش ہی استعمال کرتے ہیں یا پھر تعلیم یافتہ طبقہ انگریزی بھی استعما ل کرلیتاہے۔عوام چونکہ انگریزی سے نابلد ہیں۔اس لئے ان کی بات سمجھنا اورانہیں اپنی بات سمجھانا ایک مسئلہ تھا۔وہی با ت تھی کہ۔۔۔

زبان یار من بنگلہ و من بنگلہ نمی دائم کسی دکان والے سے۔ کسی رکشا والے سے ۔راہ گیر سے بات کرنی،سمجھانی اور اس با ت کی بات سمجھنی کافی مشکل تھی۔بس مفہوم کا اندازہ فریقین کو ہو جا تا تھا۔خریداری کیلئے رکشا والے سے کرایہ طے کرنے کیلئے ’’کتنے ٹکے‘‘ دریافت کر کے ہاتھ سے بھی دریافت کرتے تو وہ جواب میں انگلیوں سے بھی اپنا مطلب واضح کر دیتے تھا۔یعنی وہی صورتحال تھی جس سے ہم جرمنی،اٹلی،فرانس اور سوئزرلینڈ وغیرہ میں دوچار ہوتے رہے تھے۔کبھی جب رات کو سونے کیلئے لیٹتے اور ان تمام باتوں کا خیال آتا تو دل آپ ہی آپ بھرآتا تھا اوراپنے حکمرانوں اور رہنماؤں کی حماقتوں اور کوتاہیوں پر رونا آجاتا تھا۔یہ ہی وہ ڈھاکہ تھا جہاں ہر شخص اردو سمجھتا تھااور حتیٰ الامکان بولنے کی کوشش بھی کرتا تھا۔اردو دانوں کی کمی نہ تھی۔مشاعرے بھی ہوتے تھے۔اردو کے میگزین بھی شائع ہوتے تھے۔مایہ ناز اور بڑے پائے کے اردو اہل قلم یہاں موجودتھے اور اب یہ حال ہو گیاہے کہ اردو سمجھنے اور بولنے والے خال خال ہی ملتے ہیں۔کیا یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا؟ یہ وہ بنگالی ہیں جو تحریک پاکستان میں پیش پیش تھے؟

مایوسی اور اداسی کے عالم میں یکا یک قریب کی کسی مسجد سے لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی آواز بلندہوتی تو دل کو قرار سا آجاتاتھاکہ ابھی یہاں اسلام تو باقی ہے بلکہ بہت مضبوطی سے باقی ہے۔اسلام کا رشتہ جب تک قائم ہے دوسرے رشتے اس کے آگے ہیچ ہیں۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے قیام سے دو قومی نظریہ ختم ہو چکا ہے۔یہ ایک بودی اور احمقانہ بات ہے۔دو قومی نظریے کی بنیاد یہ تھی کہ ہندواور مسلمان دومختلف قومیں ہیں۔جن میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں ہے بلکہ دونوں میں بے حد تضاد پایا جاتاہے۔بنگلہ دیش جن وجوہات کی بنا پر بھی قائم ہو اوہ ایک علیٰحدہ بحث ہے مگر اس سے دو قومی نظریے پر کوئی اثرنہیں پڑا۔دو قومی نظریہ اس وقت ختم ہو تااگر بنگلہ دیش بھارت میں دوبارہ ضم ہو جاتا اوراپنا اسلامی تشخص ختم کر دیتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔بنگلہ دیشی ایک ملک کے باسی ہیں۔مگر کٹرمسلمان ہیں۔ہم نے محسوس کیا کہ بنگلہ دیش بننے کے بعد وہاں ہندواور بھات کے خلاف زیادہ نفرت پیدا ہو گئی ۔انہیں پاکستان اور بھارت کا فرق بھی معلوم ہو گیا اوربھارتی مقاصد کا بھی علم ہو گیا۔اب وہ زیادہ مضبوطی سے اپنے مذاہب پر عمل پیراہیں۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر440 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -