”کوئی حیاءہوتی ہے، کوئی شرم ہوتی ہے۔۔۔“ نیلم منیر کے نئے ٹی وی کمرشل نے پاکستانیوں کو ’ہلا‘ کر رکھ دیا، کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ نیلم منیر بھی ایسا کر سکتی ہیں، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا

”کوئی حیاءہوتی ہے، کوئی شرم ہوتی ہے۔۔۔“ نیلم منیر کے نئے ٹی وی کمرشل نے ...
”کوئی حیاءہوتی ہے، کوئی شرم ہوتی ہے۔۔۔“ نیلم منیر کے نئے ٹی وی کمرشل نے پاکستانیوں کو ’ہلا‘ کر رکھ دیا، کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ نیلم منیر بھی ایسا کر سکتی ہیں، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) کسی چیز کی فروخت کیلئے مطلوبہ افراد کی توجہ حاصل کرنے کیلئے مارکیٹنگ کا سہارا لیا جاتا ہے اور بعض اوقات ایسے اشتہارات بنائے جاتے ہیں جن میں خاموش پیغام دیا جاتا ہے مگر بعض اوقات ایسے اشتہارات کا دوہرا مطلب بھی بنتا ہے جس سے شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”بیالوجی کا پریکٹیکل ختم ہوا تو نگران نے تمام لڑکیوں کو بھیج کر مجھے روک لیا اور پھر۔۔۔“ بحریہ کالج اسلام آباد کی طالبات کے پریکٹیکل کے پیپر لینے والے نگران نے لڑکیوں کیساتھ کیا کچھ کیا؟ ہوشربا انکشاف نے والدین کی نیندیں اڑا دیں 

ایسا ہی کچھ اداکارہ نیلم منیر کے نئے ٹی وی اشتہار میں ہو رہا ہے جس میں استعمال ہونے والے جملے اور مناظر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کنڈوم کا اشتہار چل رہا ہو۔ چند ہی سیکنڈز بعد نیلم منیر اشتہار میں مرکزی پراڈکٹ متعارف کرا دیتی ہیں اور دیکھنے والے اپنا سر پکڑ لیتے ہیں۔

جیسا کہ آپ نے دیکھا نیلم منیر اور لڑکے کے درمیان ہونے والی گفتگو انتہائی معنی خیز ہے اور دیکھنے والا بھی حیران پریشان رہ جاتا ہے کہ ایک چائے کے اشتہار میں اس قدر پرتجسس اور معنی خیز گفتگو کیوں کی گئی۔ مثال کے طور پر اس وقت نیلم منیر کا اصل میں کیا مطلب تھا جب وہ لڑکے سے کہتی ہیں کہ تم سے ذرا صبر نہیں ہوتا، کچھ ہی دن تو رہ گئے ہیں شادی میں۔۔۔ لڑکا تو بعد میں یہ کہتا ہے کہ وہ چائے پینے کیلئے آیا ہے۔

اب اگر اشتہار کے اختتام کی بات کی جائے تو ایک والد کو اپنی بیٹی کے بارے میں کہتے دکھایا گیا ہے کہ ” یہ ہماری بچی کا کمال نہیں بلکہ چائے کا کمال ہے۔۔۔“ یعنی واقعی۔۔؟؟؟ اصل زندگی میں ایسا ہو جائے تو قیامت آ جاتی ہے اور دو گھرانوں میں شدید لڑائی جھگڑا بھی ہوتا ہے۔

تو حقیقت میں یہ اشتہار ایک چائے کا تھا لیکن اسے بنایا ایسے گیا کہ جیسے کچھ اور ہو۔۔۔ اور اس کا مقصد صرف اور صرف ایک ہی ہے کہ اشتہار دیکھنے والے آخر تک دیکھیں اور آج کل کے اشتہارات میں اسی نقطہ نظر کو مد نظر رکھا جاتا ہے چاہے گفتگو کسی بھی طرح کی کرنی پڑ جائے۔

اشتہار پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا ”میں نے دراصل سوچا کہ ڈیوریکس کو ایک اور حریف مل گیا ہے۔۔۔ یہ کیا تھا“

ایک صارف نے کہا ”اگلا لیول ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ چائے سے زیادہ کنڈوم کا اشتہار لگ رہا ہے“

ایک صارف کا کہنا تھا ”میں بھی بالکل یہی سوچ رہا ہوں“

ایک صارف نے لکھا ”کوئی حیاءہوتی ہے، کوئی شرم ہوتی ہے، ایسا بھی کوئی اشتہار ہوتا ہے“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -تفریح -