’سعودی ولی عہد کی جاری کردہ تصاویر پرانی ہیں ، دراصل وہ فائرنگ میں زخمی ہوگئے تھے اور پھر۔۔۔‘سعودی عرب کے انتہائی اہم شخص نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

’سعودی ولی عہد کی جاری کردہ تصاویر پرانی ہیں ، دراصل وہ فائرنگ میں زخمی ...
’سعودی ولی عہد کی جاری کردہ تصاویر پرانی ہیں ، دراصل وہ فائرنگ میں زخمی ہوگئے تھے اور پھر۔۔۔‘سعودی عرب کے انتہائی اہم شخص نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  

ریاض، تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن)تقریباً دو ہفتے قبل ایرانی اور روسی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ صدارتی محل پر حملے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان زخمی ہوگئے تھے اوراس کے بعد سے منظرعام سے غائب ہیں اورخدشہ ہے کہ وہ مارے جاچکے ہیں تاہم سعودی حکام نے اس دعوے کی تردید کے لیے ولی عہد کی تصاویر جاری کی تھیں کہ وہ مصر میں موجود ہیں اورجاری کی گئی تصویر شہزادہ محمد بن سلمان، ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زائد النھیان، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی ایک غیر رسمی ملاقات میں بنائی تاہم اب سعودی عرب سے ہی انتہائی اہم شخصیت میدان میں آگئی اور دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ سے ولی عہد زخمی ہوئے تھے جبکہ جاری کی گئی تصاویر پرانی ہیں ۔

ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق سعودی اپوزیشن رہنماءاور اسلامک ریوائیول پارٹی کے سیکریٹری جنرل محمد المصاری نے لبنان کے المیدان ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں اپنے قابل اعتماد ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اپریل میں صدارتی محل پر حملے کی کوشش کے دوران محمد بن سلمان کو گولیاں لگی تھیںجبکہ یہ خبر بھی بنیادی طورپر شاہی خاندان کے اندر سے ہی لیک کی گئی جس کے بعدٹوئٹرسمیت سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ۔ انہوں نے مزید کیا کہ اب محمد بن سلمان کا ارادہ ہے کہ میڈیا کے سامنے آئیں تاکہ بغاوت کی خبروں کو مسترد کیاجاسکے، اس سے پہلے جاری ہونیوالی تصاویر شاید پرانی ہیں ۔ اس مبینہ حملے سے پہلے محمد بن سلمان مسلسل میڈیا کے سامنے آتے رہتے تھے لیکن اس کے بعد سے منظرعام سے غائب ہیں۔  

رپورٹ کے مطابق ریاض میں موجود کئی صحافیوں نے شاہی محل کے قریب 21اپریل کو بھاری فائرنگ کی اطلاع دی تھی جبکہ سعودی سرکاری پریس ایجنسی نے کہاتھا کہ شاہی محل کے بہت قریب پہنچنے والے کھلونا ڈرون کو مار گرایاگیاتاہم سعودی اپوزیشن رہنماءنے اس دعوے کو مستر د کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ ان گاڑیوں سے حملہ کیاگیا جن پر مشین گنز نصب تھی اور ان سے مسلسل فائرنگ ہورہی تھی جس کے بعد اطلاعات تھیں کہ محمد بن سلمان کو قریبی ملٹری بیس پر موجود بینکر میں بحفاظت منتقل کردیاگیا۔

دوسری طرف سابق ولی عہد محمد بن نائف کے حوالے سے بھی چند نیوز ویب سائٹس پر بھی یہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ انہوں نے بھی محمدبن سلمان کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی تاہم بظاہر سعودی ذرائع سے محمد بن نائف کے کسی بیان کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔

خیال رہے کہ محمد بن سلمان سعودی عرب کے کراو¿ن پرنس (ولی عہد) ہیں، انہیں کم عمر ترین کراؤن پرنس کا اعزاز حاصل ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 28 اپریل 2015ءکو اپنے نئے شاہی فرمان کے ذریعے شہزادہ محمد بن نائف کو نائب ولی عہد اور اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کیا تھا۔ شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز ولی عہد کے ساتھ نائب وزیراعظم، وزیردفاع اور اقتصادی ترقی کونسل کے صدر بھی ہیں۔

مزید :

عرب دنیا -