’اغواءکے بعد میرا بار بار ریپ کیا گیا، یہ عمل کرنے سے پہلے وہ قمیض پہنتے تھے جس پر یہ چیز بنی ہوتی تھی اور ساتھ ہی چیختے تھے کہ۔۔۔‘ عرب خاتون نے ایسی تفصیلات بتادیں کہ انسان کی روح کانپ اُٹھے

’اغواءکے بعد میرا بار بار ریپ کیا گیا، یہ عمل کرنے سے پہلے وہ قمیض پہنتے تھے ...
’اغواءکے بعد میرا بار بار ریپ کیا گیا، یہ عمل کرنے سے پہلے وہ قمیض پہنتے تھے جس پر یہ چیز بنی ہوتی تھی اور ساتھ ہی چیختے تھے کہ۔۔۔‘ عرب خاتون نے ایسی تفصیلات بتادیں کہ انسان کی روح کانپ اُٹھے

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شا م میں صدر بشارالاسد کی افواج پر زیرحراست خواتین پر بہیمانہ جنسی و جسمانی تشدد کے پے درپے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ اب ایک جیل سے رہا ہونے والی خاتون نے بھی حکومتی فوج کے ہاتھوں ہونے والے ظلم کی ایسی داستان دنیا کو سنا دی ہے کہ انسان کی روح کانپ اٹھے۔ مڈل ایسٹ مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق بدریانور نامی اس خاتون نے بتایا ہے کہ ”بشارالاسد کی فوج نے مجھے گرفتار کرنے کے بعد برانچ 215نامی جیل میں قید کیا جہاں میرے جیسی درجنوں دیگر خواتین بھی مقید تھیں۔ وہاں ہم تمام خواتین کے ساتھ جنسی و جسمانی تشدد روز کا معمول تھا۔ جب فوجی ہمارے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے لیے آتے تو انہوں نے ایسی قمیض پہن رکھی ہوتی جس پر صدر بشارالاسد کی تصویر بنی ہوتی تھی۔ فوجی آتے ہی چیخ کر کہتے کہ دیکھو اسے، تم نے اس سے بغاوت کی تھی۔اس جیل کی دیواروں پر بھی جابجا بشارالاسد کی تصویر موجود تھیں۔“

نور نے مزید بتایا کہ ”قید سے رہا ہونے کے بعد بھی میں جہاں کہیں بشارالاسد کی تصویر دیکھتی ہوں تو میں خوف سے کانپ جاتی ہوں۔ مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میں واپس برانچ 2015ءمیں پہنچ گئی ہوں اور میرے ساتھ وہی ظلم ہو رہا ہے۔ اس کی تصویر دیکھ کر قید میں بیتے لمحات کسی فلم کی طرح میرے ذہن میں چلنے لگتے ہیں۔جیل میں ہمیں نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ ایک روز جب فوجی مجھ سے جنسی زیادتی کرنے کے بعد باہر گیا تو میں نے فرش پر ہاتھ پھیر کر تیمم کیا، کیونکہ وضو کے لیے پانی وہاں موجود نہیں تھا، تیمم کرنے کے بعد جیسے ہی میں نماز کے لیے کھڑی ہوئی، ایک فوجی دوڑتا ہوا آیا اور مجھ پر ڈنڈے برسانے شروع کر دیئے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں اور وہ مجھے دیکھ رہے تھے۔ کئی منٹ تک مجھے پیٹنے کے بعد اس نے میرے ہاتھوں کو رسی سے چھت کے ساتھ باندھ دیا اور وہ رات میں نے اسی حالت میں گزاری۔ ان کے تشدد کے دوران تکلیف کی شدت سے بھی اگر ہمارے منہ سے خدا کا نام نکل جاتا تو وہ ہمیں مزید تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -