’بشارالاسد کے فوجی بار بار میرا ریپ کرتے تھے اور ایسا کرنے سے پہلے وہ اپنی زبان کے نیچے یہ چیز رکھتے تھے جس سے۔۔۔‘

’بشارالاسد کے فوجی بار بار میرا ریپ کرتے تھے اور ایسا کرنے سے پہلے وہ اپنی ...
’بشارالاسد کے فوجی بار بار میرا ریپ کرتے تھے اور ایسا کرنے سے پہلے وہ اپنی زبان کے نیچے یہ چیز رکھتے تھے جس سے۔۔۔‘

  

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) شا م میں صدر بشارالاسد کی افواج پر زیرحراست خواتین پر بہیمانہ جنسی و جسمانی تشدد کے پے درپے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ اب ایک جیل سے رہا ہونے والی خاتون نے بھی حکومتی فوج کے ہاتھوں ہونے والے ظلم کی ایسی داستان دنیا کو سنا دی ہے کہ انسان کی روح کانپ اٹھے۔ مڈل ایسٹ مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق بدریا نور نامی اس خاتون نے بتایا ہے کہ”جیل میں ہم پر بدترین جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد بھی روز کا معمول تھا۔ ملٹری انٹیلی جنس آفیسر ہم میں سے کسی ایک خاتون کو الگ کر کے ایک چھوٹے کمرے میں لے جاتے اور وہاں دو یا اس سے زائد آفیسر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے۔ اس کمرے میں ایک بیڈ موجود تھا اور بیڈ کے ساتھ ہی دیوار پر صدر بشارالاسد اور اس کے بھائی مہر (Maher)کی تصویریں لٹک رہی تھیں۔بیڈ کی ایک طرف چھوٹی سی میز تھی جس پر مختلف قسم کی شراب کی بوتلیں رکھی ہوتی تھیں۔جو وہ فوجی افسر پیتے تھے۔یہ افسر ہمیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے سے پہلے ایک نیلے رنگ کی گولی اپنی زبان کے نیچے رکھتے اور پھر باری باری ہمارا ریپ کرتے تھے۔“

بدریا نور نے بتایا کہ ”جیل کے دیگر سیلز کی طرح اس کمرے میں بھی کیمرے لگے ہوئے تھے اور وہ ہمیں یہ یقین دلاتے تھے کہ ہم سے جنسی زیادتی کی ویڈیو بھی بن رہی ہے۔ خود مجھے بھی وہ کئی بار اس کمرے میں لے گئے اور زیادتی کا نشانہ بنایا لیکن ایک خاتون پر انہوں نے ایسا ظلم کیا کہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ اسے وہ اس چھوٹے کمرے میں لے گئے اور کئی فوجی مل کر اس کے ساتھ تب تک جنسی زیادتی کرتے رہے حتیٰ کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔کئی ماہ تک یہ ظلم سہنے کے بعد میرے خاندان نے کسی طرح 17ہزار ڈالر(تقریباً17لاکھ روپے) کی رقم جمع کی اور یہ رقم رشوت میں دے کر مجھے رہا کروایا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -