پی ٹی ایم کا وزیر ستان سے پاک فوج کے انخلاء کا مطالبہ، علی وزیر اور محسن داوڑ کا افغان خفیہ ادارے کیساتھ کا بھی انکشاف

پی ٹی ایم کا وزیر ستان سے پاک فوج کے انخلاء کا مطالبہ، علی وزیر اور محسن داوڑ ...

  

شمالی وزیرستان (آئی این پی) شمالی وزیر ستان میں پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملے میں ملوث رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما محسن د ا وڑ نے کالعدم تحریک طالبان اور ملک دشمن عناصر کی زبان بو لتے ہوئے وزیرستان سے فوج کے جانے کا مطالبہ کر دیا اور کہا میرے پا س حکو متی جرگے کے لوگ آ رہے ہیں ان سے ابھی بات کرنے سے معذرت کی ہے، میرے ساتھ اگر پانچ کارکن بھی ہونگے، تو دھرنا جا ر ی رہیگا۔ گزشتہ روزبرطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں انکا مزید کہنا تھا ہمارا پہلا اوراہم مطالبہ وزیرستان سے فوج کا انخلاء ہے، باقی مطالبات تو بعد میں جب سارے ساتھی پہنچ جاتے ہیں، تب فیصلہ کریں گے، لیکن وزیرستان سے فوج کے جانے کا مطالبہ ضرور ہے۔محسن داوڑ نے الز ا م لگایا دوسرے شہروں سے ان کے قافلوں کو دھرنے میں شرکت کیلئے نہیں آنے دیا جا رہا،ابھی تو آس پاس کے گاوں کے لوگ ہیں، لیکن با قی اضلاع سے بھی کارکن بہت جلد پہنچ جائیں گے۔وزیرستان میں کرفیو کا ذکر کرتے ہوئے ان کا الزام تھا سرکاری اہلکار من پسند افراد کو جا نے دے رہے ہیں جبکہ عام لوگوں پر بنوں سے وزیرستان کے راستے اور وزیرستان کے اندر کے راستے بند کیے ہوئے ہیں۔واضح رہے اس سے قبل ٹی ٹی پی اور دیگر تنظیمیں بھی قبل پاک فوج کے وزیرستان سے انخلاء کا مطالبہ کر چکی ہیں،مراد سعید قومی اسمبلی میں ٹی ٹی پی اور محسن داوڑ کے گٹھ جوڑ کا بھی انکشاف کر چکے ہیں۔

پی ٹی ایم 

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) پختونوں کے تحفظ کیلئے قائم کی گئی نام نہاد جماعت پی ٹی ایم کے رہنماؤں علی وزیر اور محسن داوڑ کا افغان خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کیساتھ تعلق کا انکشاف ہوا ہے۔افغان خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیو رٹی (این ڈی ایس) کے سابق سربراہ نے محسن داوڑ اور علی وزیر کی حمایت کرتے ہوئے امریکہ سے مدد بھی مانگ لی، ان کا کہنا ہے ا مر یکہ علی وزیر، محسن داوڑ اور ان کے ساتھیوں کا ساتھ دے،معتبر ذرائع کے مطابق این ڈی ایس کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل، محسن دا و ڑ ا و ر علی وزیر وزیر ستان کو امریکی خواہش کے مطابق علاقہ بنانا چاہتے ہیں۔ خیال رہے رحمت اللہ نبیل 2010ء سے 2012ء تک افغان خفیہ ادارہ این ڈی ایس کا سربراہ رہا تھا۔

انکشاف

مزید :

صفحہ اول -