نابالغ سیاستدانوں کو مزید سیاسی بلوغت چاہئے: فردو س عاشق اعوان 

نابالغ سیاستدانوں کو مزید سیاسی بلوغت چاہئے: فردو س عاشق اعوان 

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ فوج پر حملہ کرنیوالوں کو ایوان میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے،پیپلز پارٹی نے بلاول کی پیشی پر خواتین کو شیڈو کے طور پر استعمال کیا۔ نیب سوال پوچھتی ہے تو یہ ”میں میں“ کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاک افواج پر حملہ کرنیوالوں کو ایوان میں بلانے کا مطالبہ کرکے آپ اپنی ماں کے نظریے سے ہٹ رہے ہیں جبکہ نابالغ سیاستدانوں کو مزید سیاسی بلوغت چاہیے۔انہوں نے کہاکہ نیب جو سوال پوچھتا ہے اس کا جواب دیا جائے تاہم کچھ سیاسی جماعتیں کارکنان کو ایندھن بنانا چاہتی ہیں۔نیب انہیں بلاتی اور یہ کارکنان کو بلا لیتے ہیں، جیسے کوئی قلعہ فتح کرنے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے نیب میں پیشی کے وقت خود کو سیاسی طور پر زندہ رہنے کی ناکام کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ سیاسی جماعتیں وفاق کی نمائندگی کی بجائے سندھ کے کچھ اضلاع تک محدود رہ گئی ہیں۔قبل ازیں اسلام آباد میں صحافی اور میڈیا ورکرزمیں رمضان پیکیج کی تقسیم کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ صحافی اور میڈیا ورکرز ہماری پہلی دفاعی لائن ہیں،میڈیا کو درپیش مسائل سے راہ  فرار اختیار نہیں کریں گے، وزیراعظم عمران خان کو مہنگائی اور غریب عوام کی مشکلات کا احساس ہے، وزیراعظم معیشت کی بحالی اور دیگر چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں، ہماری خوش قسمتی ہے کہ عمران خان اس ملک کے وزیراعظم ہیں، عوام کو ریلیف کی فراہمی اور مسائل کا حل ہماری ترجیحات ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے لئے ہر صحافی ایک چلتا پھرتا پاکستان ہے، جب تک صحافی مضبوط نہیں ہوں گے پاکستان مستحکم نہیں ہو سکتا،صحافتی اداروں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے،میڈیا ورکرز اور مالکان کے درمیان روابط کی کمی ہے، سابق حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مسائل سامنے آئے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں وزیراعظم عمران خان کو اقتدار میں آنے سے روکنے کیلئے اشتہار بازی کی گئی مگر اب وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ملکی سلامتی اور میڈیا کے حقوق کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اگر میڈیا سے متعلق ایک باقاعدہ نظام ہوتا تو موجودہ مشکلات کا سامنا نہ ہوتا،میڈیا ورکرز کیلئے ایک میکانزم قائم کر کے ان کے حقوق دیں گے، میڈیا ورکرز کیلئے ای او بی آئی اور سوشل سکیورٹی جیسے اقدامات کررہے ہیں، میڈیا ورکرز کی ضروریات ایک جامع پالیسی سے جڑی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پالیسی کو صرف اشتہارات کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، آجر اور اجیر کے حقوق کے تحفظ کے بغیر میڈیا پالیسی نہیں بن سکتی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت اور میری درخواست پر صحافیوں کا دھرنا ختم کرنے پر مشکور ہوں۔

فردوس عاشق اعوان  

مزید :

صفحہ اول -