زرعی شعبے کو ٹیکس چھوٹ واپس لینے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا‘اسلام آبادچیمبر

زرعی شعبے کو ٹیکس چھوٹ واپس لینے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا‘اسلام آبادچیمبر

  

اسلام آباد(این این آئی) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل، سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات پر سیلز ٹیکس کے کم ریٹ سمیت زرعی شعبے کو دی گئی دیگر چھوٹ واپس لینے پر غور کر رہی ہے جو مناسب نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا کیا گیا تو زرعی شعبے کی پیداوار متاثر ہو گی اور غربت و مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے پارٹی منشور میں یہ اعادہ کیا تھا کہ کسانوں کی حالت بہتر کرنے کیلئے ان کو سستے بیج، کھادیں اور دیگر ان پٹس فراہم کئے جائیں گے تا کہ ان کو اپنی پیداوار پر بہتر منافع حاصل ہو لیکن اگر حکومت نے زرعی شعبے کی دی گئی موجودہ چھوٹ واپس لی تو یہ اس کے اپنے منشور کی نفی ہو گی اور اس اقدام سے کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریبا 60 فیصد کسان چھوٹے درجے سے تعلق رکھتے ہیں لہذا زرعی شعبے کو دی گئی چھوٹ سے ان کے حالات مزید خراب ہو ں گے اور غربت بڑگے گی۔احمد حسن مغل نے کہا کہ گذشتہ دور میں کسانوں کو زرعی پیداوار بہتر کرنے کیلئے زرعی قرضوں، ہاروسٹر پر کسٹم ڈیوٹی، سورج مکھی و کینولہ بیج کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ سمیت دیگر مراعات فراہم کی گئی تھی اس کے علاوہ کھادوں پر بھی سیلز ٹیکس ریٹ کو کم کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے یہ مراعات واپس لیں تو اس سے زرعی شعبے کی ترقی متاثر ہو گی اور زرعی پیداوار کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ ٹیکسٹائل سمیت دیگر صنعتوں کو اہم خام مال فراہم کرتا ہے جس وجہ سے صنعتی ترقی کا دارومدار زرعی شعبے کی ترقی پر منحصر ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ حکومت زرعی شعبے کو مزید مضبوط کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جس سے نہ صرف ملک سے غربت و بے روزگاری اور مہنگائی میں کافی کمی ہو گی بلکہ صنعتی شعبہ بھی بہتر ترقی کرے گا۔ آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور زراعت ہماری معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت زرعی شعبے کی مراعات کو واپس لینے پر غور کرنے کی بجائے آئندہ بجٹ میں اس شعبے کیلئے مزید مراعات کا اعلان کرے جس سے پاکستان کی زرعی پیداوار بہتر ہو گی، عوام کا معیار زندگی بہتر ہو گا، صنعتی سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا، برآمدات میں اضافہ ہو گا اور پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں بھی بہتری آئے گی۔

مزید :

کامرس -