عالمی سطح پر اے ٹی ایم مشینوں کی تعداد میں پہلی بار کمی واقع

عالمی سطح پر اے ٹی ایم مشینوں کی تعداد میں پہلی بار کمی واقع

  

لندن (اے پی پی) برطانوی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2018ء میں دنیا بھر میں پہلی بار اے ٹی ایم مشینوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی وجہ موبائل کے ذریعے ادائیگی کی خدمات کا پھیلاؤ اور مالیاتی صنعت میں ادغام ہے۔ لندن میں قائم تحقیقی ادارے آر بی آر کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں اے ٹی ایم مشینیں ایک فیصد کم ہو کر ان کی تعداد 32 لاکھ رہ گئی ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ اے ٹی ایم مشینیں چین میں ہیں۔ وہاں کے عوام اپنے سمارٹ فونز کے ذریعے نقدی کے بغیر ادائیگی کو ترجیح دے رہے ہیں۔اس حوالے سے دوسرے نمبر پر ملک امریکا میں بینکوں کی شاخیں بند ہونے اور ان کے ادغام ہونے کی وجہ سے، وہاں پربھی اے ٹی ایم مشینیں کم ہوئی ہیں جبکہ جاپان چوتھے نمبر پر ہے تاہم ہر جگہ ایسا نہیں، ایشیا بحرالکاہل خطے، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور لاطینی امریکی ممالک میں ان مشینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔لیکن اس اضافے کا حجم اتنا بڑا نہیں کہ عالمی سطح پر دیگر ملکوں میں ہونے والی کمی کو پورا کر سکے، ماہرین کی رائے ہے کہ مذکورہ بالا تنزلی جاری رہے گی۔

مزید :

کامرس -