ریاست کی رٹ کا احترام ہر ایک پر لازم

ریاست کی رٹ کا احترام ہر ایک پر لازم

  

وفاقی کابینہ نے شمالی وزیرستان میں خار کمر چیک پوسٹ پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اس حملے میں شہید فوجی کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ وزیراعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کابینہ کے اجلاس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی رٹ چیلنج نہیں کرنے دیں گے،فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کرنے والے ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے تھے، کچھ افراد نے قبائلیوں کو اپنی سازش کا ایندھن بنانے کی کوشش کی، وزیراعظم نے قبائلی علاقوں میں جا کر قبائلیوں کو گلے لگایا، اور ان علاقوں کی ترقی کے لئے سو ارب کے فنڈز مختص کئے، تاہم شرپسندوں کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان عام جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی ایم کے مطالبات درست ہیں،لیکن اُن کا لہجہ غلط ہے اس کے بعد ضروری تھا کہ حکومت پی ٹی ایم کے رہنماؤں کا لہجہ درست کروانے کے لئے اُن سے رابطے کرتی اور انہیں باور کراتی کہ وہ اپنے مطالبات کے لئے احتجاج اور مظاہروں کی روش اختیار نہ کریں، کیونکہ حکومت تو ان کے مطالبات کو درست سمجھتی ہے اور انہیں پورا کرنے کے لئے بھی کوشاں ہے اور سو ارب روپے کے فنڈز بھی اس مقصد کے لئے رکھے گئے ہیں،لیکن احتجاج کرنے والوں نے نہ صرف اپنا احتجاج جاری رکھا،بلکہ کہا جاتا ہے کہ ان میں مسلح لوگ بھی تھے۔

قبائلی علاقوں کی سالہا سال کی اپنی تاریخ اور روایات ہیں یہاں اسلحے کا استعمال اور اسلحہ لے کر پھرنا کوئی زیادہ معیوب نہیں سمجھا جاتا، ویسے تو اب پورے ملک میں لوگ سرعام اسلحہ لہراتے پھرتے ہیں اور اکثر جوش میں آکر ہوائی فائرنگ کرتے بھی دیکھے گئے ہیں،لیکن قبائلی علاقوں کو اگر صوبے میں ضم کیاگیا ہے تو قبائلی کلچر یک دم ختم نہیں ہو سکتا۔ قومی اسمبلی کے انتخابات کے موقع پر محسن داوڑ اور علی وزیر رکن منتخب ہوئے تھے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں منتخب ہونے کے لئے ”واک اوور“ دیا گیا تھا، اُن کے مقابلے میں کوئی مضبوط امیدوار کھڑے ہوتے تو وہ شاید منتخب ہی نہ ہو سکتے، لیکن اب انہوں نے جو راستہ چُنا ہے وہ کسی طرح بھی صراطِ مستقیم نہیں ہے ایک تو انہوں نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگا کر اس کا جو اظہار شروع کر رکھا ہے،اُنہیں فوری طور پر ترک کر کے اپنے مطالبات منوانے کے لئے پُرامن راستہ اختیار کرنا ہو گا،لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی ایم کی قیادت نہ صرف ان قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے، جو پاکستان دشمن ہیں، بلکہ یہ طاقتیں اُنہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی خاطر فنڈنگ بھی کر رہی ہیں،جس طرح کا طرزِ عمل انہوں نے اختیار کیا ہے اس سے تو یہی مترشح ہوتا ہے۔

اگر وہ غیر ملکی طاقتوں کے آلہئ کار نہیں ہیں اور اُن سے فنڈنگ بھی نہیں لیتے تو یہ بات اُنہیں اپنے قول اور عمل سے ثابت کرنا ہو گی،قبائلی علاقوں میں اُن کے جلسوں میں ریاست مخالف اشتعال انگیز تقریروں کا مقصد آخر کیاہے؟ اگر انہوں نے اپنا یہ جارحانہ طرزِ عمل جاری رکھا تو انہیں اُن کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکیں گے، بنیادی بات تو یہ ہے کہ قبائلی علاقے اب صوبہ خیبرپختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں، صوبائی اسمبلی کے لئے ان علاقوں سے نمائندے منتخب کرنے کے لئے2جولائی کو انتخاب ہو رہا ہے،جس کے لئے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرائے جا رہے ہیں اور انتخابی مہم بھی جاری ہے۔ پی ٹی ایم کے رہنماؤں کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ وہ اپنے اس نمائندے کو منتخب کرائیں جو صوبائی اسمبلی میں قبائلی علاقوں کا کیس بہتر طریقے سے پیش کر سکیں، اس کام کے لئے جوش نہیں ہوش کی ضرورت ہے، اسلحہ لہرانے سے وقتی طور پر تو اپنی اَنا کو تسکین دی جا سکتی ہے،لیکن بالآخر یہ حکمت ِ عملی ناکام رہتی ہے۔

پی ٹی ایم، کراچی میں ایک پشتون نوجوان کے مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے کے بعد وجود میں آئی تھی،اس واقعے میں جو پولیس افسر ملوث تھا اس کی کسی نے حمایت نہیں کی اور تمام تر ہمدردیاں متوفی پشتون نوجوان کے ساتھ ہی رہیں اور اس پولیس مقابلے کو شکوک کی نظر سے دیکھا گیا اِس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پورے ملک میں پشتونوں کے لئے کوئی منفی جذبات نہیں تھے، اِس لئے پی ٹی ایم کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھائے جس کی وجہ سے رائے عامہ اس کے خلاف ہو جائے اُنہیں تحمل اور برد باری کے ساتھ منتخب اداروں میں اپنی آواز اٹھانی چاہئے اور ریاستی اداروں کے ارکان کے خلاف اشتعال انگیز گفتگو سے احتراز کرنا چاہئے، اپنے احتجاجوں کو بھی پُرامن رکھنا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو تدریجاً اہل ِ وطن کی ہمدردیوں سے محروم ہو جائیں گے اور اُن کی شعلہ بیانیاں کسی کام نہیں آئیں گی۔

فوجی چیک پوسٹ پر حملے کا جو واقع ہوا ہے وہ ہر لحاظ سے قابل ِ مذمت ہے، اگر احتجاج کرنے والے حکمت و دانش سے کام لیتے تو اس سے بچا جا سکتا تھا، اب بھی ضرورت اِس بات کی ہے کہ جوشِ جذبات میں بہہ جانے کی بجائے اس معاملے کی گتھی ناخن ِ تدبیر کے ذریعے سلجھائی جائے، اگر جلتی پر تیل ڈالا جائے گا تو معاملہ مزید اُلجھتا چلا جائے گا اور جو طاقتیں پی ٹی ایم کے لیڈروں کو گمراہ کر رہی ہیں وہ تو یہی چاہیں گی کہ کسی نہ کسی طرح جذبات کو انگیز کر کے اشتعال پھیلاتی رہیں اِس لئے غیروں کے اس منصوبے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جو سیاسی جماعتیں ان علاقوں میں الیکشن لڑ رہی ہیں انہیں قبائلی علاقوں اور اس کے باسیوں کے مزاج کو سمجھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ فاٹا کے علاقوں میں ملک کے دوسرے حصوں کے برابر لانے کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ فاٹا کے عوام کو بھی یہ محسوس کرنا چاہئے کہ قومی دھارے میں شامل ہو کر وہ مجموعی طور پر پورے ملک کے دُکھ سُکھ کا حصہ بن جائیں گے اور صوبے کا حصہ بننے کے بعد اُن پر اُن کے مزاج کے خلاف قانون کی جو بندشیں لگی ہیں یا آئندہ لگیں گی انہیں بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرنا ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -