کرپشن کو ئی بڑا مسئلہ نہیں

کرپشن کو ئی بڑا مسئلہ نہیں
کرپشن کو ئی بڑا مسئلہ نہیں

  

یقین مانیں،اگر کرپشن ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہوتی اور ہماری عدالتیں اور دیگر ذمہ دار ادارے بھی اسے ختم کرنے میں مخلص ہوتے تو پارلیمنٹ ان سارے لوگوں سے پاک ہوتی جو اس وقت اس کے اندر موجود ہیں۔بیورو کریسی کی کرسیوں پر چیلوں کے بجائے فاختائیں بیٹھی ہوتیں۔کیونکہ ایک چپڑاسی اور سکیورٹی گارڈ سے لے کر وزیراعظم اور صدر تک کسی کی قسم نہیں کھائی جاسکتی، جس کو جہاں اور جب بھی موقع ملے،اپنی ہمت، جراُت اور عہدے کے مطابق کرپشن کرتاہے۔ بلکہ اکثر معاملات میں کرپشن کو اپنا حق سمجھتا ہے۔آج کل ایک خاص طبقہ بڑے بلند آہنگ دعوے کرتا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عمران خان نے بڑے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی کرپشن کو بے نقاب کیا ہے۔حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ہر سیاسی جماعت،مخالف جماعت اور نئی حکومت پچھلی حکومت کی چوری،لوٹ مار، ہیراپھیری اور نااہلی کی داستانیں سنا کر ووٹ اور حکومت مانگتی رہی ہے۔پچھلے ہفتے ایک بڑے افطار ڈنر کے میزبان کی ماں بے نظیر بھٹو،وزیراعظم کی حیثیت سے قومی اسمبلی میں موجود تھیں تو ایک خاتون مہمان کے باپ کی سربراہی میں اپوزیشن بنچوں سے سرے محل اور دوبئی کی جائیدادوں کی پُر شور داستانیں سنائی جاتی تھیں۔جب حکومتی کرسیوں پر نوازشریف قابض تھے تو پیپلز پارٹی کے رہنما لندن فلیٹس کا تذکرہ کرتے اور بیرون ملک لگی سٹیل ملوں کا دھواں،اکثر ایوان سے اٹھتا تھا۔اور کچھ عرصے بعد ان دونوں جماعتوں کی نااہلیوں اور کرپشن کے طفیل ملک وقوم کو مارشل لاوُں کا مزا بھی چکھنا پڑتا۔نتیجتاً ایک نئی پارٹی یا پریشر گروپ منظر عام پر آجاتا اور ملک ایک دفعہ پھر پالش شدہ جمہوریت کی پٹڑی پر چل پڑتا۔

اس سارے سفر میں عمران خان دُور دُور نظر نہیں آئے اور امید بھی نہیں تھی کہ وہ اس وقت کرکٹ کی کامیابیوں اور ان کے "ثمرات" سمیٹنے میں مست و مگن تھے۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے آٹھ دس سال میں عمران خان اپوزیشن بنچوں کی بہت جاندار آواز بن کر ابھرے۔مسلسل احتجاجی جلسے اور دھرنے۔میں نہ مانوں کی رٹ۔چوروں،ڈاکووُں کے خلاف،ان کا اپنا کرپشن سے پاک کردار اور کرکٹ کے زمانے کے پرستاروں کی ایک فوج۔فوج سے یاد آیا،مختلف میڈیا گروپس کی اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ اینکرز کی بھاری فوج بھی عمران خان کو طاقت فراہم کرتی رہی۔اب کسی ٹھیلے والے سے پوچھ لیں کہ عمران خان کو "کس" نے یہاں پہنچایا ہے تو وہ فوراً جواب دے گا کہ "ان کے " بیانیے نے۔یعنی عمران خان کے بیانیے سے "وہ لوگ " مجبور ہو گئے کہ اس بار ایک ایسے لیڈر کو چنا جائے جو پرانے وزراُ اعظم سے مختلف ہو۔جس پر عالمی ادارے اعتماد کر سکیں۔جس کی قومی اداروں پر دھاک بیٹھ سکے۔

بدقسمتی سے کرپشن ختم کرنے اور عوام کو ریلیف دینے والے بنیادی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔عمران خان نے ہر وہ کام کیا جس کے خلاف وہ تقریریں کرتے تھکتے نہیں تھے۔عوام کو یہ لالچ بھی عمران خان نے دیا تھا کہ میں اس روایتی جاگیردارانہ نظام اور الیکٹبلز کی سیاست سے آپ کی جان چھڑوا دوں گا-لیکن ایسا نہ ہو سکا،پی ٹی آئی چیئرمین کو انہی چوروں،ڈاکووُں،قاتلوں اور جاگیرداروں کی شراکت سے حکومت بنانا پڑی۔یہ بھی عمران خان نے بتایا تھا کہ جب گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے تو سمجھ لیں 'آپ کا وزیراعظم چور ہے۔جب ڈالر کی قیمت بڑھ جائے تو اس کا مطلب ہے،آپ نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔یہ بھی آپ کے "عقل کل" ٹائپ اوپنر بیٹسمین اسد عمر نے بتایا تھا کہ عالمی مارکیٹ سے پٹرول ہمیں 48 روپے میں ملتا ہے۔بتایا جائے باقی 49 روپے کس کی جیب میں جارہے ہیں (اس وقت پٹرول 97 روپے لٹر مل رہا تھا)۔پہلے بیرونی ممالک سے امداد اور آئی ایم ایف سے قرضہ لیناآپ کو بھیک لگتا تھااب کارِثواب ہے۔سابق حکومت کی ایمنسٹی سکیم حرام تھی پی ٹی آئی کی وہی سکیم حلال ہے (کہ رمضان المبارک میں وارد ہوئی ہے؟)

دکھ اور پریشانی کی بات یہ ہے کہ حکومت کا کوئی بھی نمائندہ ان ساری چیزوں کو کرپشن کے کھاتے میں نہیں رکھتا-عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے،اس کی زندگی اجیرن کر دینے والے سارے اقدامات کے فیوض وبرکات یوں بیان کیے جاتے ہیں۔کہ ایسا نہ کیا جاتا تو یقیناً گناہ کبیرہ ہوتا۔پھر یہ استدلال کہ نون لیگ کے دور میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔پیپلز پارٹی کے دور میں بھی یہی کچھ ہوا۔اور یہ کہ معیشت کا بیڑا غرق اور قرضوں کا بوجھ تو شریف برادران اور زرداری خاندان کا کیا دھرا ہے۔ان کی ناقص پالیسیوں کا گند ہمیں صاف کرنا پڑ رہا ہے۔اگر ایسا ہی ہے تو پھر وہ تبدیلی اور نیا پاکستان بنانے کے دعو ے کہاں گئے۔اگر پرانے پاکستان کے وزیروں، مشیروں ہی نے پی ٹی آئی کی حکومت چلانی ہے تو عمران خان کے اپنے معیشت دان کہاں گئے۔آپ تو عالمی مالیاتی اداروں سے بھیک مانگنے کے حق میں نہیں تھے۔تو اپنے لائے اور لگائے ہوئے لوگ کیوں نالائق،نااہل اور ناقابلِ اعتبار ہو گئے۔اپنی مرضی سے،کیا اپنے من پسند افراد کو این آر او دے کر "گناہوں " سے پاک کر دینا جائز ہوتا ہے۔ٹیکس سے بچنے کے لیے بیرون ملک آف شور بزنس اگرتنقید کا نشانہ بن سکتا ہے تو ملک کے اندر ایمنسٹی سکیم کس مقصد کے لیے پیش کر دی گئی۔کیا ٹیکس چوری اور کالے دھن کو سفید کرنے کے راستے بتانا،کرپشن کے زمرے میں نہیں آتا۔کیا نیب کو حکومت کے اتحادیوں پر ہلکا ہاتھ رکھنے کا حکم دینا،کرپشن نہیں کہلاتا۔کیا نیب کی پلی بارگین کرپشن نہیں ہوتی۔ آپ ایف بی آر میں جتنے مرضی اعزازی شبر زیدی رکھ لیں، ٹیکس وصولی کے اہداف،اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتے،جب تک پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے چوروں سے پورا ٹیکس نہیں لیا جاتا۔

کرپشن کے خلاف جہاد کا دعوٰی کرنے والے عمران خان کو سمجھ لینا چاہیئے کہ پاکستان کے نظام میں کرپشن کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔مسئلہ اگر ہے تو عمران خان کے لیے ہوگا۔ان لوگوں کے لیے بالکل نہیں -جن کا اولین مقصد اقتدار کا حصول ہے۔جو ملک کے سیاہ و سفید اور چپے چپے کے مالک ہیں۔جنہیں اقتدار کی لگام ہاتھ میں لینی ہو تو جس کو دل چاہا این آر او دے دیا۔اور ایک علیحدہ قاف لیگ تیار کر لی۔ایک دن شہباز کو ممولے سے لڑایا تو اگلے دن محمود وایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا۔ضرورت پڑی تو نواز شریف اور بے نظیر میں "میثاق جمہوریت" کرا دیا۔وقت نکل گیا تو ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور پیٹ پھاڑنے کے منصوبے بننے لگے۔پھر ضرورت نے آن لیا تو بچوں کے افطار ڈنر پر میثاق جمہوریت کو زندہ کرنے لگے۔کبھی ضرورت نہ ہوئی تو ان سب کو آپس میں پھر لڑا دیاگیا اور غرض ہوئی تو بھان متی کا کنبہ جوڑ کر گم نام صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنوالیا۔اب یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ الیکٹبلز کی ایک کثیر تعداد ایسی بھی تیار ہے جو بوقت ضرورت کسی بھی کمزور گروپ میں شامل کرکے،اسے اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھانے میں معاون ثابت ہو سکے۔اس لیے کہتا ہوں کہ کرپشن اس ملک کا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔صرف مفادپرستی،شخصیات اور اقتدار ہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔کیا کسی نے کبھی سوچا تھا کہ عمران خان جیسا کرپشن کا جہادی،دبنگ رہنما اور ضد کا پکا کپتان ایک وقت پر آکر محض محمد خان جونیجو بن کر رہ جائے گا۔کس قدر ماحول دوست سیاسی فصل تیار کی ہے "محکمہ زراعت" نے!!!

مزید :

رائے -کالم -