بڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت اور سہمی ہوئی جمہوریت

بڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت اور سہمی ہوئی جمہوریت
بڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت اور سہمی ہوئی جمہوریت

  

آصف علی زرداری نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ عدالتوں میں اپنی لڑائی قانونی انداز میں لڑیں گے،اِس لئے کارکنوں کو پیشی کے موقع پر آنے کی ضرورت نہیں۔یہ سلسلہ چند پیشیوں تک چلتا بھی رہا،لیکن اب حکمت ِ عملی تبدیل ہو گئی ہے۔کل اسلام آباد میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی پیشی کے موقع پر جو ہلہ گلا ہوا، کارکنوں پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس پھینکنا پڑی، گرم پانی کا استعمال کیا گیا،اس کے بعد گرفتاریاں ہوئیں، کیا یہ پیپلزپارٹی کی منشاء تھی کہ اب قانونی کی بجائے احتجاج کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ حکومت نے اپنی پوری قوت کا استعمال کیا کہ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو راولپنڈی سے اسلام آباد میں داخل نہ ہونے دیا جائے، کیونکہ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ جب ہجوم اسلام آباد میں داخل ہو جاتا ہے تو پھر انتظامیہ اس کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔

پھر یہ بھی ہوا کہ پہلے بلاول بھٹو زرداری اپنی سواری لے کر نیب کے دفتر آئے،جب ہنگامہ آرائی کا سارا سٹیج سج گیا تو وہ واپس چلے گئے،اس کے بعد آصف علی زرداری کا قافلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف چلا اور ایک بار پھر جیالوں کو قابو کرنے کے لئے پولیس کو طاقت استعمال کرنا پڑی، سو اس حکمت عملی سے صاف لگ رہا ہے کہ پیپلزپارٹی اب تصادم کے موڈ میں ہے۔ سارے حربے آزما کر دیکھ لئے، آصف علی زرداری نے تمام داؤ پیچ آزما لئے، مگر احتساب کا کھاتہ بند نہیں ہوا۔ بار بار کی پیشیوں کا سلسلہ بھی نہیں رکا، سو اب یہی حل نکالا گیا ہے کہ پیشی کے عمل کو حکومت اور انتظامیہ کے لئے ایک کڑا مرحلہ بنا دیا جائے، کارکنوں کو کال دے کر سڑکوں پر بلایا جائے اور پھر دما دم مست قلندر کی صورتِ حال پیدا کر کے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کئے جائیں۔یہ تو پیپلز پارٹی کی روایت نہیں رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو قتل کے مقدمے کو تن تنہا بھگتتے رہے۔بے نظیر بھٹو نے عدالت میں پیشی کے وقت کبھی کارکنوں کو مصیبت میں نہیں ڈالا،خود آصف علی زرداری کا رویہ بھی یہی تھا، پھر یہ نوبت کیوں آ گئی۔

نواز شریف کی عدالت میں پیشی ہوتی تو کارکن ازخود پہنچنے کی کوشش کرتے، پولیس انہیں عدالت کے قریب جانے سے روک لیتی اور دن گزر جاتا، لیکن پیپلزپارٹی نے تو باقاعدہ کارکنوں کو کال دے کر بلایا۔اب اس کا مقصد کیا ہو سکتا ہے۔ کیا وہ کارکنوں کے ذریعے عدالت پر حملہ کرانا چاہتی تھی یا اس کا مقصد یہ تھا کہ ہنگامہ آرائی کا منظر پیدا کر کے یہ تاثر دیا جائے کہ احتساب کے حوالے سے عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ رہی ہے۔ اب پیپلز پارٹی کے کچھ رہنما یہ کہتے پائے گئے کہ خود اسلام آباد میں 126دن کا دھرنا دینے والا وزیراعظم پیپلزپارٹی کو احتجاج سے روک رہا ہے۔ دھرنے اور احتجاج میں فرق ہوتا ہے۔اب اگر انتظامیہ کسی کارکن کو نہ روکتی، بلا روک ٹوک انہیں نیب آفس یا اسلام آباد ہائی کورٹ جانے دیتی تو کیا ہوتا۔شاید دونوں جگہ ایک بڑا ہنگامہ برپا ہو جاتا، کارکن کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوتے، سو انہیں کہیں نہ کہیں تو روکنا ضروری تھا، معاملہ ویسے کسی جلسے یا احتجاج کا ہوتا تو دوسری بات تھی، مگر عدالت کی پیشی پر اگر کارکنوں کو آنے کی کال دی جاتی ہے تو اُس کا مقصد سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتِ حال پیدا کی جائے۔اس بدلی ہوئی حکمت ِ عملی کو بے سبب نہیں کہا جا سکتا۔یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا مقصد عدالت یا نیب پر دباؤ ڈالنا ہے، بلکہ اس کے پیچھے غالباً یہ رمز موجود ہے کہ عید کے بعد اپوزیشن جو تحریک چلانا چاہتی ہے، اُس کے لئے ماحول بنایا جائے،کارکنوں کو اپنے مسل اور فٹنس چیک کرنے کا موقع دیا جائے، اب کل درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا،ان گرفتاریوں کا کسی تحریک پر مثبت اثر ہی نہیں ہو گا،کیونکہ تحریکیں چلتی ہی تب ہیں جب لاٹھیاں برستی، آنسو گیس استعمال ہوتی اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کی جاتی ہے۔ سو اس حوالے سے پیپلزپارٹی اپنا شو کرنے میں کامیاب رہی،تقریباً سبھی کام ایک ہی ہلے میں ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف آپ دیکھیں تو مسلم لیگ(ن) بھی اپنے داؤ پیج آزمانا شروع ہو چکی ہے۔ مریم نواز کھل کر سامنے آ گئی ہیں اور انہوں نے اپنے حامیوں کا لہو گرمانا شروع کر دیا ہے۔ وہی طنزیہ کثیلے جملے،جو ان کی پہچان ہیں، دوبارہ استعمال ہونے لگے ہیں۔لاہور میں یوم تکبیر کے موقع پر تقریب سے انہوں نے جو خطاب کیا وہ عدلیہ پر بھی عدم اعتماد تھا اور حکومت کے خلاف بھی ایک تازیانہ…… عموماً ماہِ رمضان میں سیاسی سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں،لیکن پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) رمضان کے دوران حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لئے پوری طرح سرگرم ہیں،اس کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ عید گزرتے ہی احتجاجی تحریکوں کا نقارہ بجنے والا ہے۔ اپوزیشن کو اس کا یقین ہو گیا ہے کہ پارلیمینٹ کے اندر اس حکومت کا کچھ نہیں بگاڑا جا سکتا۔ قانون سازی اِس حکومت کا مسئلہ ہی نہیں، آرڈیننس کے ذریعے کام چلانے کی حکمت عملی پہلے سے جاری ہے۔ بار بار واک آؤٹ کر کے بھی دیکھ لیا، حکومت کوئی کمزوری دکھانے کو تیار نہیں، احتساب کا عمل بھی جاری ہے اور وزیراعظم عمران خان کسی ڈیل کی جانب بھی نہیں آ رہے، سو اب ایک ہی راستہ ہے کہ احتجاجی تحریک کے ذریعے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے،اس کے لئے ایک طرف مسلم لیگ(ن)کارکنوں کا لہو گرمانے کے لئے مریم نواز کی سربراہی میں متحرک ہے تو دوسری طرف پیپلزپارٹی نے بھی خاموش بیٹھنے کی بجائے آصف علی زرداری و بلاول بھٹو زرداری کی عدالتی پیشیوں کو تحریک کا رنگ دینے کی ٹھان لی ہے۔اسلام آباد میں ایک طویل عرصے بعد سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں، جو اس امر کا اشارہ بھی ہے کہ حکومت کسی بھی تحریک کی صورت میں کمزوری نہیں دکھائے گی،بلکہ قانون کا پوری قوت سے نفاذ کیا جائے گا،پُرامن احتجاج واقعی سب کا حق ہے، مگر جو مظاہرین کی نفسیات جانتے ہیں انہیں علم ہے کہ جب احتجاج کسی رہنما کی عدالت میں پیشی کے موقع پر کیا جاتا ہے تو وہ پُرامن ہر گز نہیں رہتا، کیونکہ کارکن عدالت میں گھسنا چاہتے ہیں اور پولیس انہیں روکتی ہے، نتیجہ پتھراؤ،لاٹھی چارج اور ہنگامہ آرائی کی شکل میں ہی نکلتا ہے۔

اگر تو اپوزیشن اپنا یہ بیانیہ لے کر آگے چلتی ہے کہ اس کٹھ پتلی حکومت کو مزید وقت نہیں دے سکتے تو حالات بگڑیں گے، کیونکہ اگر اپوزیشن کا مقصد صرف حکومت گرانا ہو تو معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف چلے جاتے ہیں۔اب وہ دور تو رہا نہیں کہ کوئی چھڑی دکھا کر حکومت کو چلتا کرے۔ پھر اس حقیقت کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ تحریک انصاف کی عوام میں اپنی مقبولیت بھی موجود ہے۔ وہ مقبولیت مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے خلاف نظریات رکھنے والے لوگوں کی ہے۔ حکومت پر ایسا کوئی سنگین الزام بھی نہیں، جس کی وجہ سے اس کا خاتمہ ضروری ہو گیا ہو۔مہنگائی کو جواز بنا کر حکومت کیسے ختم کی جا سکتی ہے،اِس بات کی کیا ضمانت ہے کہ موجودہ حکومت کے جانے سے مہنگائی کم ہو جائے گی۔البتہ ایک خطرہ ضرور ہے کہ اگرحکومت کے خلاف کوئی بڑی تحریک واقعی چلی اور حالات سول نافرمانی تک چلے گئے تو پھر خدانخواستہ پاکستان میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اُس کی بساط بھی لپیٹی جا سکتی ہے، جو لوگ ایک منتخب حکومت کو صرف ایک سال سے بھی کم عرصے میں گھر بھیجنا چاہتے ہیں، کیا وہ پچھلے دس گیارہ برسوں میں مستحکم ہوتی جمہوریت کے خلاف خود ہی سازش تو نہیں کر رہے۔اتفاق سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں نے ہی اپنی حکومتوں کے پانچ پانچ سال مکمل کئے،باوجود کئی سیاسی بحرانوں کے اُن کی حکومتیں مقررہ وقت تک قائم رہیں۔ اب وہ تیسری سیاسی جماعت کو اپنی آئینی مدت کیوں پوری نہیں کرنے دے رہیں؟ کیا وہ حالات کو پھر90ء کی دہائی میں لے جانا چاہتی ہیں؟ سیاسی پولرائزیشن کی بڑھتی ہوئی فضا میں شاید اس سوال پر غور کرنے کی کسی کے پاس فرصت نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -