وجدان اور عسکری کمانڈ کا تعلق (1)

وجدان اور عسکری کمانڈ کا تعلق (1)
وجدان اور عسکری کمانڈ کا تعلق (1)

  

حصول علم اور تحصیلِ معلومات کے پانچ معروف ذرائع کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں۔انہیں حواس خمسہ بھی کہا جاتا ہے۔ ہم جو کچھ سیکھتے اور حاصل کرتے ہیں وہ ہمیں دیکھنے، سننے، چھونے، سونگھنے اور چکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن ان پانچ حسی خصوصیات کے علاوہ انسان کے پاس ایک اور حس بھی ہے جسے بالعموم چھٹی حس کہا جاتا ہے۔ آج تک پوری طرح یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس چھٹی حس کا عقلی اور منطقی منبع کہاں ہے اور یہ کس طرح کام کرتی ہے لیکن بعض طبی تجربات نے اس سلسلہ میں بعض تفصیلات اکٹھی کی ہیں جو آگے آئیں گی۔ بعض لوگوں میں یہ حس حد سے بڑھی ہوتی ہے اور بعض میں بالکل ہوتی ہی نہیں۔ اسی چھٹی حس کو وجدان (Intuttion) کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

وجدان کی تعریف اس طرح کی گئی ہے: ”وجدان ایک ایساعلم ہے جس کی اساس اگرچہ انسانی تجربات پر استوار ہوتی ہے۔ لیکن اس علم کا حصول معروف سائنسی اصولوں سے ماورا ہوتا ہے۔ وجدان کا حامل شخص خود بھی یہ نہیں جانتا کہ وہ ایک خاص نتیجے پر کس طرح اور کیوں پہنچا“۔

وجدان کی کیفیت کو سمجھنے کے لئے تین سوالوں پر غور و خوض بہت ضروری ہے یعنی:

1۔ وجدان کیا ہے؟

2۔یہ کہاں سے آتا ہے؟

3۔اس کا استعمال کب اور کیسے کیا جانا چاہیے؟

جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو ہم نے اس کی ایک مختصر تعریف اوپر درج کر دی ہے۔ وجدان کی ایک مختصر ترین تعریف یہ بھی کی گئی ہے کہ یہ ”بغیر استدلال کے کسی نتیجے پر فی الفور پہنچ جانے کا نام“ ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ اس کا کچھ تعلق عقل اور جبلّت (Instinct) سے ضرور ہے لیکن وجدان نہ تو تمام تر عقل ہے اور نہ تمام تر جبلّت۔ انسانی عقل و دانش، سوال و جواب یا استدلال پر مبنی ہوتی ہے جبکہ جبلّت انسان کی بنیادی ضرورت کے ردعمل کا نام ہے۔ 

دوسرا سوال یہ ہے کہ وجدان آتا کہاں سے ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ ذہن ہی کے سرچشمے سے پھوٹتا ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اس کا تعلق کلیتاً دماغ یا ذہن سے نہیں ہوتا۔ سگیمنڈ فرائڈ نے ذہن کے بارے میں کہا تھا”ذہن پانی پر تیرتے ایک برف کے تودے (آئس برگ) کی طرح ہے۔ جس کا صرف ساتواں حصہ سطحِ آب پر تیرتانظر آتا ہے جبکہ باقی چھ حصے پانی کے اندر ہوتے ہیں اور نظر نہیں آتے“۔ دوسرے لفظوں میں انسانی ذہن کے ساتویں (1/7) حصے کو ”شعور“ کہا جاتا ہے جبکہ باقی چھ حصے  ”تحت الشعور یا لاشعور“ کہلاتے ہیں۔ غور کیجئے کہ ہمارے نہاں خانہء دماغ میں شعوری یا عقلی علوم کا ذخیرہ صرف 13فیصد ہے جبکہ باقی 87فیصد ذخیرۂ معلومات کی اساس، شعور نہیں بلکہ تحت الشعور یا لاشعور پر ہے…… وجدان کا تعلقی اسی 87فیصد ذخیرۂ معلومات سے ہے۔

ماہرینِ دماغ نے دماغ کے کرّے (Sphere)کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ بائیں جانب والا نصف کرہ عقلی علوم کو کنٹرول کرتا ہے مثلاً ریاضی، منطق،لسانیات وغیرہ جبکہ دائیں جانب والے نصف کرے میں فنونِ لطیفہ کا سوئچ بورڈ ہے مثلاً ادب، موسیقی، تخیل، خواب، سراب،شاعری وغیرہ۔ ان دونوں نصف کروں میں باہمی تعامل (Interaction)اتنی تیزی سے انجام پاتا ہے کہ دنیا کا کوئی کمپیوٹر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ شرط یہ ہے کہ انسان کی دماغی کیفیت تندرست ہو اور وہ مریض نہ ہو۔

 بعض ماہرینِ علوم نفسانی کا خیال ہے کہ معلومات اور علوم براہ راست دائیں نصف کرے (یا تحت الشعور والے حصے) میں بغیر شعوری نصف کرے سے رابطہ کئے، ذخیرہ کی جا سکتی ہیں۔ انسانی تفکر و تدبر کا زیادہ سے زیادہ کام یہی تحت الشعور انجام دیتا ہے۔ وجدان چونکہ انسانی دماغ کے تحت الشعور والے حصے (دائیں طرف) سے پھوٹتا ہے اس لئے اس پر عقل و خرد کی حکمرانی نہیں ہوتی۔ البتہ جب وجدانی عمل و قوع پذیر ہو جاتا ہے تو پھر شعوری حصہ (بائیں طرف والا) فعال ہو جاتا ہے۔ یوں تحت الشعور اور شعور میں تعامل شروع ہوتا ہے۔ جنرل جے ایف سی فلر نے لکھا ہے: ”کہ ایک کامیاب جرنیل کی قوتِ حافظہ ایک ایسی لائبریری کی مانند ہوتی ہے جس میں بہت سی کتابیں ایک ترتیب سے شیلفوں میں رکھی ہوتی ہیں۔ وہ جس کتاب سے استفادہ کرنا چاہتا ہے اسی شیلف کو کھول کر فوراً کتاب کا مطلوبہ حصہ نکال لیتا ہے“۔ یہ لائبریری جتنی بڑی ہو گی، ذخیرۂ کتب اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فوج میں تجربہ اور رینک ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جرنیلوں اور سینئر افسروں کا تجربہ بمقابلہ جونیئر افسروں کے زیادہ ہوتا ہے، اس لئے ان کی تحت الشعور کی لائبریری بھی زیادہ وسیع اور زیادہ کشادہ ہ ہوتی ہے۔

ماہرین کے تجزیئے کے مطابق یہ بات بہت دلچسپ معلوم ہوگی کہ عورتوں اور فوجیوں میں وجدانی کیفیات کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ مختلف ٹیسٹوں سے یہ بات بھی پایہء ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ جب صورتِ حال زیادہ بے یقینی ہو، مشکلات کا گھیراؤ زیادہ ہو، وقت کم ہو اور مطلوبہ معلومات کی دستیابی غیر تسلی بخش ہو تو ایسے عالم میں وجدان کی بنیاد پر کئے گئے کمانڈ فیصلے کہیں زیادہ موثر،بہتر اور مفید ہوتے ہیں۔ عسکری تاریخ سے اس کی شہادت کے لئے بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ وجدان کو کب استعمال کیا جائے؟ اس کا جواب بہت مشکل ہے۔ وجدان کی قوت سے اگرچہ سارے تندرست انسان متّصف ہوتے ہیں لیکن بہت کم عسکری کمانڈر ایسے ہوتے ہیں جن کو اللہ کریم نے وجدانی قوت فراوانی سے عطا کر رکھی ہوتی ہے۔ وجدان پر مبنی کمانڈ فیصلوں کو تین اقساط میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1۔ بعض کمانڈر سابقہ معلومات، تجربات اور اعداد و شمار کے بغیر محض وجدانی قوت کے سہارے اس فیصلے پر پہنچ جاتے ہیں۔

2۔ بعض کمانڈر تمام معلومات حاصل کرنے کے بعد کچھ دیر تک ان پر تفکر، تدبر اور استغراق کرتے ہیں اور پھر اس عالمِ استغراق میں ایک وجدانی فیصلے پر پہنچتے ہیں۔

3۔بعض کمانڈر اپنی لاشعور اور شعوری معلومات پر باقاعدہ غور و خوض کرکے وجدان کی طرف رجوع کرتے اور وہاں سے رہنمائی کے طالب ہوتے ہیں۔

وجدان کی قوت پر مبنی ان کمانڈ فیصلوں کی ان تینوں اقسام پر عسکری تاریخ میں بہت سا مواد ملتا ہے۔ تاہم ہم ان کی ایک ایک مثال دے کر اس نکتے کی وضاحت کریں گے۔

پہلی مثال

بعض کمانڈر بغیر کسی سابقہ عسکری تجربے کے محض وجدان کے سہارے ایک ایسا کمانڈ فیصلہ کرنے پر قادر ہوئے جس کا نتیجہ حیرت انگیز کامیابی کی صورت میں نکلا۔ انہوں نے  نہ تو عام معلومات کی فراہمی کی پروا کی، نہ اعداد و شمار کی کمی بیشی سے خائف ہوئے اور نہ زیادہ عرصہ غور و خوض میں صرف کیا بلکہ بے خطر اور جھٹ پٹ آتشِ نمرود میں کودگئے۔ یہ وجدان کی اعلیٰ ترین قسم تھی۔ مجاہداعظم نبی مکرمﷺ  کی ذات میں اس مثال کی بین جھلک اور ثبوت موجود ہے۔ 

ایک ایسی ہستی جس نے پہلے کبھی جنگ و جدل کی کوئی ٹریننگ ہی حاصل نہ کی ہو، جو ساری  دنیا کے لئے رحمت بن کر آیا ہو اور جو سرتاپا عفو و کرم اور جو دوسخا ہو اس کو بارگاہ ِخداوندی سے حکم ملے کہ اپنے پہلے تبلیغی رویئے کو چھوڑ کر کافروں کے لئے تادیبی رویہ اپنایئے، وہ بھوت اگر باتوں کو نہ مانیں تو لاتیں استعمال کیجئے اور پوری مسلمان قوم کو میدانِ جنگ میں اتارنے کے لئے کمر باندھ لیجئے تو یہ ایک انتہائی مشکل چیلنج ہو گا۔ لیکن سرکارِ دو عالم مجاہد اعظم ﷺ کو اپنی اشاعتِ اسلام کی حکمت عملی کو 180ڈگری تبدیل کرنا پڑا۔ سن 2ہجری سے لے کر آنحضورؐ کی وفات تک درجنوں غزوات اور سریات لڑے گئے۔ ان میں تمام عسکری چالوں کو آزمایا اور برتا گیا۔…… خندقی جنگ و جدل کی ابتداء، میدانِ جنگ کا انتخاب، انصرامی (Logistic) پہلوؤں کی دیکھ بھال، ٹیکٹکس (Tactics) کا استعمال،ہتھیاروں اور ساز و سامان کا انتخاب، وقت اور فاصلہ کا درست تعین، گروپس کی صف بندی، حساس مقامات اور عقبی علاقوں کی حفاظت، اندرونِ شہر سیکیورٹی کے نظام کی ابتداء، جنگی قیدیوں سے سلوک کی حکمت عملی، مال غنیمت کی تقسیم، ڈسپلن، شہیدوں کی تدفین، عسکری مجلس شوریٰ کا قیام، مورال کے تمام تقاضوں کی تکمیل اور لام بندی کے انتظامات۔ الغرض وہ کون سا عسکری شعبہ اور پہلو تھا جس میں آپؐ نے تخلیق کاری اور وجدان سے بدرجہ اتم کام نہ لیا۔

دوسری مثال

ایک عرصہ تک غور و فکر اور تفکر و استغراق کے بعد وجدانی فیصلے کرنا بعض معروف کمانڈروں کا خاصہ رہا ہے۔ سکندراعظم نے اپنا آخری معرکہ دریائے جہلم کے کنارے لڑا۔ دوسرے کنارے پر راجہ پورس کی ٹڈی دل فوج موجود تھی۔ ادھر یونانیوں کے سامنے دریائے جہلم ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور دوسرے کناروں پر پورس کے ہاتھی قطار اندر قطار کھڑے تھے۔ ان کے پیچھے گھڑ سوار رسالے کی یونٹیں تھیں اور پھر انفنٹری کے ڈویژن تھے۔ خود پورس قلبِ لشکر میں ایک نہایت مضبوط فورس کے ساتھ موجود تھا۔ سکندر کئی روز تک دریا کے گھریلو کنارے پر خیمہ زن رہا اور عبورِ آب کی تدابیر پر غور و غوض کرتا رہا۔ کنارے کے ساتھ ساتھ کئی کئی فرلانگ آگے پیچھے جا کر ریکی کی اور پھر ایک ایسا مقام دریافت کر لیا جو اگرچہ عبور کے لئے مشکل تھا لیکن اس سے ناگہانیت (سرپرائز) کا عنصر ضرور حاصل ہو سکتا تھا۔ سکندر کے وجدان نے فیصلہ کیا کہ اگر اس مشکل مقام سے دریا عبور کیا جائے تو پورس کے دیکھ بھال کرنے والے دستے شاید وہاں زیادہ چوکس اور مستعد نہ ہوں۔ سکندر  کے عسکری مشیر اور ماتحت کمانڈر اسے یہی مشورہ دیتے رہے کہ یہ مقام، عبورِ دریا کے لئے مناسب نہیں۔ سکندر پہلے تو گومگو کی کیفیت میں گرفتار رہا۔لیکن  آخر کار اس کے وجدان نے فیصلہ کیا کہ دریائے جہلم کو اگر اس مقام سے عبور کرکے پورس کی فوج پر شب خون مارا جائے تو کامیابی کے امکانات بہت روشن ہیں۔ چنانچہ اس نے عام روش سے ہٹ کر، اپنے ماتحت کمانڈروں کی رائے کے برعکس اور پورس کے کمانڈروں کی توقعات کے برخلاف جس جگہ سے دریا کو پار کرکے ناگہانی شبانہ حملہ کیا اس نے اسے ایک تاریخی کامیابی سے ہمکنار کر دیا۔ ……یہ کمانڈ فیصلہ سراسر سکندر کے وجدان کا رہین منت تھا۔   (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -