افغان مسئلے کا حل فوجی کارروائی نہیں ، سفار تکاری اور سیاست پرانصار کرنا ہوگا ، روس

افغان مسئلے کا حل فوجی کارروائی نہیں ، سفار تکاری اور سیاست پرانصار کرنا ...

  

ماسکو( آن لائن )روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ مسئلہ افغانستان فوجی کارروائی کے ذریعے حل نہیں ہوسکتا ،اس کے حل کےلئے ہمیں صرف اور صرف سفارتکاری اور سیاست پہ انحصار کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے روس اور افغانستان کے سفارتی تعلقات کے 100سال مکمل ہونے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔افغان طالبان کے نائب امیر ملا عبدالغنی برادر نے کہا ہے کہ امارات اسلامیہ امن کی خواہش مند ہے لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ قیام امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس ضمن میں سب سے بڑی رکاوٹ غیر ملکی افواج کی افغانستان میں موجودگی ہے۔ افغان طالبان وفد کے رکن لطیف خان متقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امارات اسلامیہ اپنے ہمسایہ ممالک سے اچھے دوستانہ تعلقات رکھنے کی خواہش مند ہے لیکن وہ اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دے گی کہ اس کی سرزمین کو کسی دوسرے کے خلاف استعمال کیا جائے۔افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تقریب کا انعقاد اس بات کا عکاس ہے کہ افغان روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانی اس بات پر روس کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے افغان امن بات چیت کےلئے میزبانی کا فریضہ سرانجام دیا۔انہوں نے روس اور امریکہ سے کہا کہ وہ افغانستان میں قیام امن کےلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ وہاں استحکام آئے اور حقیقی معنوں میں امن قائم ہو۔ انہوں نے کہاکہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ متحارب فریقین کی اعلی قیادت بات چیت کےلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔حامد کرزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان کو قوی امید ہے کہ روس آزاد اور خودمختارحیثیت سے افغانستان میں قیام امن کےلئے اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ قیام امن میں امریکہ، چین اور جرمنی سمیت دیگر تمام متعلقہ ممالک بھی اپنا اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔ افغان حکومت کی اعلیٰ اختیاراتی امن کونسل کے سربراہ کریم خلیلی نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنا چاہئے اور یہاں ہونے والی بات چیت و گفتگو سے فائدہ اٹھا کر دوحا میں ہونے والے آئندہ کے مذاکراتی عمل میں اس کا اثر دیکھنا چاہئے۔

روس

مزید :

علاقائی -