منشیات استعمال کرنیوالوں کی تعداد ڈبل خواتین بچے نئی دنیا میں گم

منشیات استعمال کرنیوالوں کی تعداد ڈبل خواتین بچے نئی دنیا میں گم

  

  جتوئی ( نامہ نگار) گھریلو جھگڑے مہنگائی بےروزگاری اور ڈپریشن کی وجہ سے منشیات کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جن میں خواتین بچے اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوان شامل ہیں ۔ پاکستان میں نشہ کرنے والوں کی تعداد 95 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے دوسری جانب پولیس ایکسائز(بقیہ نمبر26صفحہ12پر )

 فورس اور انٹی نار کو ٹیکس فورس سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے منشیات فروشوں، نے سرعام نشے کی فروخت جاری رکھی ہوتی ہے ایک رپورٹ کے مطابق بالغ افراد کا 3 فیصد حصہ نشہ پر لگ چکا ہے جن میں 25 سے 35 سال کے نوجوان کی تعداد زیادہ ہے 17 سے 25 سال کے نوجوان میں الکوحل کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے جبکہ 40 فیصد نوجوان شراب استعمال کرتے ہیں منشیات فروش گروہوں نے پولیس سے ملی بھگت کر رکھی ہوئی ہے ان خیالات کا اظہار جتوئی عوامی سماجی شخصیت میاں فرخ توفیق جوئیہ چوہدری نعیم افضل اظہر عباس عامر خان جتوئی سعید خان مرتضیٰ خان اشفاق چوہدری ڈاکٹر فاروق خان نے سروے میں گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ دنیا کی 100 فیصد منشیات افغانستان میں کاشت ہوتی ہے جو پاکستان کرے راستے دنیا بھر میں سپلائی ہوتی ہے جبکہ لاکھوں نوجوان اس بھیانک مرض میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں جارہے ہیں پولیس گردی اور رشوت ستانی کی بددلت یہ کاروبار روز بروزپنپ رہا ہے حالانکہ اسلام میں منشیات حرام ہے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا قانون بہت اچھا ہے جس کے تحت منشیات فروشی کی سزا سزائے موت ہے انہوں نے کہا کہ اب یہ بیماری خواتین میں سرائیت کرتی جارہی ہے ان میں اکثر امیر گھرانوں کی لڑکیاں نشہ کرتی پائی گئیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ملک وقوم کی تقدیر اس وقت تک نہیں بدلے گی جب تک نوجوان کو منشیات سے دور کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے انہوں نے اعلیٰ حکام سے ان منشیات فروشوں کے خلاف سخت سے سخت نوٹس لینے تا کہ نوجوان نسل تباہ کے راستے سے بچا جائے ۔

منشیات

مزید :

ملتان صفحہ آخر -