رمضان میں مہنگائی ”لاس د بری کار دے“

رمضان میں مہنگائی ”لاس د بری کار دے“

  

ضیاء الحق سرحدی پشاور

وطن عزیز کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے گرانی کے عذاب کو بھگت رہے ہیں،افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ مہنگائی میں مزید شدّت آتی چلی جا رہی ہے۔ویسے تو ہر ماہ ہی گرانی میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔یوں عوام کے لیے زیست کو دُشوار بنا دیا گیا ہے۔اُن کے لیے روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ابھی رمضان المبارک کے دوران ہر شے کی قیمتوں کو پر لگنے شروع ہوگئے۔متعدد اشیاء کے دام ماہِ صیام میں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ رمضان میں مہنگائی اپنے جوبن پر ہوتی ہے،اسی لیے منافع خور،ذخیرہ اندوز اور گرانی کے ذمے دار عناصر نے کمر کس لی ہے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دُنیا بھر کے مہذب ممالک میں اُن کے خصوصی دنوں اور تہواروں کے موقع پر اشیاے ضرور یہ کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہے جب کہ وطن عزیز میں اُلٹی گنگا بہتی ہے اور ہر شے کے دام بڑھ جاتے ہیں،عوام پر مہنگائی کے نشتر اس بے رحمی سے برسائے جاتے ہیں کہ الامان والحفیظ۔ہر سال ہی رمضان المبارک میں گرانی اپنے عروج پر پہنچی ہوتی ہے۔دودھ،آٹا،گھی،تیل،سبزیاں وغیرہ سب مہنگے ہو جاتے ہیں۔اور پھل تو غریبوں کے لیے شجر ممنوعہ اس لیے ہو جاتے ہیں کہ وہ اُن کی اتنی زائد قیمت پر خریداری کے متحمل نہیں ہو سکتے۔حکومت اور متعلقہ انتظامیہ اس کی روک تھام کے حوالے سے ناکام ہی رہتی ہیں۔اسٹریلیا میں رمضان کے مہینے کیلئے میلبورن کے دکانداروں نے حلال چیزوں کی قیمت میں 50فیصد کمی کر دی۔ماہ رمضان مبارک میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا ہے تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا گیا ہے۔اشیا کی قیمتیں ناجائز منافع خوروں نے آسمان پر پہنچا دی ہیں تاہم ضلع انتظامیہ پشاورنے خاموشی اختیار کر لی ہے اور انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔پشاور میں قیمہ500روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے، گوشت 450روپے، کیلا 200روپے فی درجن،لیموں 410روپے،پیاز 80،مٹر 100،بھنڈی 100،دودھ 120،دہی 140،انار350، سیب350،امرود 150،انگور400، ناشپاتی چائینہ 400،تربوز 40روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر سال ماہ رمضان المبارک میں اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں تو مہنگائی پشتو کی اس کہاوت کے برابر ہے کہ”لاس د بری کار دے“یعنی اپنے ہاتھ کا کام ہے جس نے ریٹ جتنا زیادہ بڑھا دیا بس بڑھ گیا کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے،دکاندار من مانے ریٹ وصول کرتے ہیں اور تاجر طبقہ کا موقف یہ ہوتا ہے کہ یہی مہینہ ان کی کمائی کا ہے دوسری جانب حکومت شہریوں کویہ یقین دلاتی رہتی ہے کہ گراں فروشوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی لیکن اپنے تئیں حکومت سرسری اقدامات کرتے ہوئے چند مارکیٹوں میں چھاپوں اور جرمانوں سے یہ سمجھ لیتی ہے کہ قیمتیں کم ہو گئی ہیں اور مہنگائی پر قابو پا لیا گیا ہے۔ آخر یہ مجسٹریسی نظام کس مرض کی دوا ہے کہ مہنگائی تو روز بروز ترقی کر رہی ہے لیکن مجسٹریسی نظام تاحال کارگر ثابت نہیں ہوسکارہی بات یوٹیلٹی سٹور وں کی تو وہاں پر معیاری اشیاء ملنا ناپید ہیں عوام تو صرف چینی،گھی،آٹا،چاول، دالوں کیلئے سٹوروں کا رخ کرتی ہے جو کہ وہاں مل نہیں پاتی عوام غریب یوٹیلٹی سٹوروں پر اگر جاتے بھی ہیں تو رُل رُل کر واپس آجاتے ہیں۔گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے رمضان پیکج کا اعلان کیا گیا تھا،جس کے تحت یوٹیلٹی سٹوروں پر سستی اشیاء خورونوش کی فراہمی کا عندیہ دیا گیا تھا،لوگوں نے سکھ کا سانس لیا کہ رمضان کے لیے اُنہیں سستی اشیاء میسر آسکیں گی،لیکن اُن کے ارمانوں پر اوس پڑگئی ہے کہ اس ضمن میں ناقص منصوبہ بندی اور حکمت عملی نے سارے اعلانات پر پانی پھیر کر رکھ دیا ہے۔اطلاع آئی ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن رمضان المبارک میں عوام کو رمضان پیکج کے تحت ریلیف دینے میں بُری طرح ناکام ہوگئی، مختلف کمپنیوں نے کارپوریشن کی طرف سے دیے گئے چیک باؤنس ہونے اور بقایا جات کی ادائیگی نہ ہونے پر اشیاء ضروریہ کی کارپوریشن کے ریجنل اسٹوریج سینٹرزکو ترسیل روک دی،اشیاء ضروریہ کی شدت قلت کے باعث یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن سے رمضان ریلیف پیکج تا حال شروع نہ کیا جا سکا۔آخر عوام کے ساتھ ایسا کھلواڑ کب تک کیا جاتا رہے گا۔کب تک اُن کو جھوٹے دعووں کے ذریعے بہلایا جائے گا۔ اُن کی صحیح معنوں میں اشک شوئی کب یقینی بنائی جائے گی۔کب اُن کے مصائب میں کمی لائی جائے گی۔کب اُنہیں سستی اشیاء کی فراہمی ممکن ہوگی۔یہ تمام سوالات جواب کے متقاضی ہیں۔ایسے میں ضروری ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو لاحق مسائل کے حل کے ضمن میں حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔کمپنیوں کو بقایا جات کی ادائیگی کا مناسب بندوبست کیا جائے کہ اشیاء کی ترسیل کا سلسلہ شروع ہو سکے اور عوام وہاں سے سستی اشیاء ضروریہ خرید سکیں۔اس حوالے سے کسی قسم کی تاخیر کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔اس کے علاوہ ضروری ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو ہر طرح کی بدعنوانیوں اور خرابیوں سے پاک کیا جائے اوروہاں کا نظام شفاف بنیادوں پر استوار کیا جائے اور اُسے لازمی طور پر عوامی مفاد کا ادارہ بنایا جائے کہ جہاں سے غریب عوام کی کثیر تعداد مستفید ہوسکے۔یوٹیلٹی سٹورز سے غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کی فروخت کی اطلاعات بھی وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہیں۔اس مسئلے کا بھی سدباب ناگزیر ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -