ماہ رمضان، ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کا طوفان

ماہ رمضان، ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کا طوفان

  

مریم فیاض

ماہ رمضان رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اور اس بابرکت ماہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص وقت تک بھوکا پیاسا رہنے کے علاوہ اوربھی بہت سے کاموں کا بھی حکم دیا ہے جس میں تقویٰ، پرہیزگاری، غرباء اور مساکین کے ساتھ نرمی، رحمدلی اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی شامل ہے۔بھوک پیاس کی مشقت کا حکم دے کر اللہ یہ بھی چاہتا ہے کہ روزہ دار کے اندر اس بات کا احساس بیدار ہو کہ غریب اور مفلوک الحال انسان زندگی کے دن کس طرح گذارتا ہے اور محنت مزدوری کرنے کے بعد بھی جسے پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں ہوتا وہ بھی امیروں کی طرح انسان ہے مگرافسوس کی بات کہ اس نفسا نفسی کے عالم میں ہر شخص کو صرف اپنی پڑی رہتی ہے اور سونے پہ سہاگہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیاں ہیں جن کے باعث عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبی دکھائی دے رہی ہے۔ متوسط اور غریب گھرانے کے لوگ مہنگائی سے بلبلا اٹھے ہیں۔ انتخابات جیتنے کیلئے عوام کو شیخ چلی کے خواب دکھانا ور عوام کی زندگیاں جنت بنادینے کے دعوے کرنا پرانا سیاسی حربہ ہے اور یہی کچھ پاکستان تحریک انصاف نے کیا۔ اپنی حکومت کے پہلے رمضان میں ہی مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکلوادی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بجلی گیس اور پٹرول کی قیمتیں بڑھانا کافی نہیں تھا جو اب اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ غریب عوام کیلئے مرغ مسلم تو کیا ایک وقت کا دال دلیا کھانا بھی محال ہو چکا ہے۔امریکہ اور یورپ سمیت بیرون ممالک میں ماہ رمضان کے احترام میں کھانے پینے کی تمام اشیاء آدھی قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں مگر پاکستان میں اسلامی ملک ہونے کے باوجود ہر چیز کی قیمت پہلے سے دگنی کردی جاتی ہے اور پھر ان مہنگی اشیاء پر کچھ فیصد سبسڈی دیکر عوام کے منہ میں رمضان پیکیج کا لولی پاپ دے دیا جاتا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں اپریل کے دوران مہنگائی کی شرح 8۔8 فیصد رہی جو کہ گزشتہ سال اپریل میں 7۔3 فیصد تھی۔ سبزیاں، پھل،دودھ، دہی،دالیں،چینی،کجھور سب کچھ عوام کی دسترس سے باہر ہے تو ایسے میں عوام اپنے لئے سحر اور افطار کا کیا بندوبست کریں۔ باقی رہی سہی کسر گراں فروش پوری کردیتے ہیں جو قیمتوں میں من مانا اضافہ کر کے عوام کے آنسو نکلوادیتے ہیں۔ اس مبارک ماہ میں اللہ تعالیٰ شیطان کو قید کردیتا ہے مگراس شیطان کے چیلے ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کیذریعے روزے داروں کو اذیت مں مبتلا کرتے ہیں۔ انتہائی افسوسناک المیہ ہے کہ اس ماہ مقدس میں منافع خوری کے ذریعے غریب عوام کی جیبیں کاٹ کر کہا جاتا ہے کہ اس ماہ کی برکت سے بہت کمائی ہورہی ہے۔ اور تو اور جس چیز کی پیداوار کم ہو اسی کی ذخیرہ اندوزی کرکے روزہ داروں کو ترساتے ہیں۔گویا یہ مقدس ماہ جہاں غریب کیلئے صبر و شکر کامہینہ ہے اہیں ان منافع خوروں کیلئے عید کا مہینہ ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے نام نہاد سستے رمضان بازاروں کا قیام توکیا جاتا ہے پروہاں عوام کو مناسب قیمتوں پر اشیاء کی فروخت یقینی بنانا پرائس کنٹرول کمیٹیوں کاکام ہے مگر وہ اس گراں فروشی پر قابو پانے میں بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں اور صرف کاغذی کارروائیاں کرکے ٹھنڈے کمروں میں جا کر آرام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور تبدیلی کا راگ الاپنے والی سرکار اپنی کارکردگی بہتر کرنے اور حقیقی تبدیلی لانے کی بجائے تمام تر ذمہ داری سابقہ حکومت پر ڈال کر اپنی سیاست چمکانے میں لگی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے کہا تو گیا ہے کہ منافع خوروں کی جگہ جیل ہے اور انکے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی مگر امید پوری ہے کہ یہ بھی پہلے دعووں کی طرح محض دعویٰ ہی ثابت ہوگا اور عوام تکلیف کی اس چکی میں پستی رہے گی۔ وزیراعظم عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ سابقہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقیدضروری کریں لیکن جو وعدے کئے تھے انہیں کم از کم اس مغفرت کے مہینے میں ہی پورا کرکے کچھ نیکیاں کما لیں۔ اللہ ہمارے حال پہ رحم فرمائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -