کراچی کے شہری پارکنگ کے نام پر جبری وصولی سے پریشان 

کراچی کے شہری پارکنگ کے نام پر جبری وصولی سے پریشان 

  

کراچی(کرائم رپورٹر)کراچی میں پارکنگ مافیا آپے سے باہر ہوگیا، شہریوں سے اضافی رقوم وصول کی جارہی ہے۔جب بھی آپ شہر کے کسی بازار، اسپتال اور مارکیٹ میں جائیں گے بھاگتا ہوا ایک شخص آپ کی گاڑی یا موٹر سائیکل کی جانب آئے گا اور پارکنگ کے پیسے مانگے گا۔پارکنگ کے پیسے لینا کوئی جرم نہیں لیکن شہر قائد میں اس پارکنگ کی آڑ میں شہریوں کو لوٹا جاتا ہے یعنی زائد پیسے وصول کئے جاتے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پارکنگ سائٹس کا سروے کیا اور مشاہدہ کیا کہ لوگوں سے پارکنگ کے نام پر کتنی رقوم وصول کی جارہی ہیں۔لیاقت آباد سپر مارکیٹ میں موٹر سائیکل سوار 5 روپے کے بجائے 20 روپے دینے پر مجبور ہیں،اسی طرح کار کی پارکنگ فیس 20 روپے ہے تاہم اس کے بھی 50 روپے وصول کئے جارہے ہیں۔سرینا موبائل مارکیٹ میں بھی صورتحال مختلف نہیں تھی، نارتھ ناظم آباد کی حیدری مارکیٹ میں بھی شہریوں سے موٹر سائیکل فیس کی مد میں 20 روپے ہی وصول کئے جارہے تھے۔صدر بازار کا سروے کیا تو پتہ چلا کہ یہاں رسید تو دی ہی جارہی بلکہ شہریوں سے موٹر سائیکل پارکنگ کیلئے 30 روپے بٹورے اور 4 لائنوں میں موٹر سائیکلیں پارک کی جارہی ہیں جبکہ اجازت صرف ایک لین کی ہے۔کمشنر کراچی افتخار شلوانی نے نوٹس لیتے ہوئے چارجڈ پارکنگ کے تمام ٹھیکیداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم دیدیا، ڈپٹی کمشنرز کو معاملے کی انکوائری کی ہدایت کردی۔کمشنر کراچی نے کہاکہ پارکنگ کی مد میں اضافی فیسیں لینے والوں کیخلاف کریک ڈان کیا جائے گا، ایکشن رمضان اور عید پر ہی لیا جائے گا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -